المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
758. كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ وِعَاءَ الْعِلْمِ
ابو ہریرہ علم کا خزانہ تھے
حدیث نمبر: 6284
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعمَري، حَدَّثَنَا عبد الرحمن (2) بن صالح الأَزْدي، حَدَّثَنَا خالد بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، عن أبيه، عن عائشة: أنها دَعَتْ أبا هريرة فقالت له: يا أبا هريرةَ، ما هذه الأحاديثُ التي تَبلُغُنا أنك تحدِّث بها عن النَّبِيِّ ﷺ؟ هل سمعتَ إِلَّا ما سَمِعْنا، وهل رأيتَ إلَّا ما رأَيْنا؟ قال: يا أُمَّاه، إنه كان يَشغلُكِ عن رسول الله ﷺ المِرآةُ والمُكحُلَةُ والتصنُّعُ لرسول الله ﷺ، وإني واللهِ ما كان يَشغَلُني عنه شيء (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6160 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6160 - صحيح
سیدنا خالد بن سعید بن عمرو بن سعید بن العاص اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سے کہا: ”اے ابوہریرہ! یہ کیسی احادیث ہیں جو ہمیں معلوم ہو رہا ہے کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے ہو؟ کیا تم نے وہی کچھ نہیں سنا جو ہم نے سنا اور وہی کچھ نہیں دیکھا جو ہم نے دیکھا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے امی جان! آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (زیادہ وقت گزارنے سے) آئینہ، سرمہ دانی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بناؤ سنگھار بھی مصروفیت ہوتی تھی (جس کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ بہت سارے اقوال اور افعال کا آپ کو پتا نہ چلتا ہو لیکن)، جبکہ اللہ کی قسم! مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت سے کوئی چیز مشغول نہیں رکھتی تھی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6284]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6284]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، من أجل عبد الرحمن الأزدي وشيخه خالد بن سعيد. وأخرجه بنحوه ابن سعد في "الطبقات" 2/ 314 و 5/ 239 - ومن طريقه ابن عساكر 67/ 353 - من طريقين عن عمرو بن يحيى بن سعيد الأُموي، عن جدِّه سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، وعمرو ثقة.» [ترقيم الرساله 6284] [ترقيم الشركة 6217] [ترقيم العلميه 6160]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6284 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في (ب) إلى: عبد الله.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ب) میں تحریف ہو کر نام 'عبد اللہ' ہو گیا ہے۔
(3) إسناده حسن من أجل عبد الرحمن الأزدي وشيخه خالد بن سعيد. وأخرجه بنحوه ابن سعد في "الطبقات" 2/ 314 و 5/ 239 - ومن طريقه ابن عساكر 67/ 353 - من طريقين عن عمرو بن يحيى بن سعيد الأُموي، عن جدِّه سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، وعمرو ثقة.
⚖️ درجۂ حدیث: عبد الرحمن الازدی اور ان کے استاد خالد بن سعید کی وجہ سے یہ سند 'حسن' ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے 'الطبقات' (2/ 314) میں اور ابن عساکر نے عمرو بن یحییٰ الاموی کے طریق سے روایت کیا ہے، اور عمرو ایک ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه كذلك ابن عساكر 67/ 353 من طريق إسحاق بن سعيد بن عمرو، عن أبيه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے اسحاق بن سعید بن عمرو عن ابیہ کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6284 in Urdu