المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
759. كان أبو هريرة أحفظ أصحاب رسول الله
ابو ہریرہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سب سے زیادہ حافظے والے تھے
حدیث نمبر: 6284
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعمَري، حَدَّثَنَا عبد الرحمن (2) بن صالح الأَزْدي، حَدَّثَنَا خالد بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، عن أبيه، عن عائشة: أنها دَعَتْ أبا هريرة فقالت له: يا أبا هريرةَ، ما هذه الأحاديثُ التي تَبلُغُنا أنك تحدِّث بها عن النَّبِيِّ ﷺ؟ هل سمعتَ إِلَّا ما سَمِعْنا، وهل رأيتَ إلَّا ما رأَيْنا؟ قال: يا أُمَّاه، إنه كان يَشغلُكِ عن رسول الله ﷺ المِرآةُ والمُكحُلَةُ والتصنُّعُ لرسول الله ﷺ، وإني واللهِ ما كان يَشغَلُني عنه شيء (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6160 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6160 - صحيح
خالد بن سعد بن عمرو بن سعید بن العاص اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! بہت ساری احادیث ہیں جن کے بارے میں ہمیں پتا چلا ہے کہ تم وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے ہو؟ کیا تم نے ہم سے زیادہ سنا ہے؟ کیا تم نے ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال دیکھے ہیں؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ام المومنین! آپ کو تو (کنگا) شیشہ، (تیل) سرمہ اور بناؤ سنگھار کی بھی مصروفیت ہوتی تھی (جس کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ بہت سارے اقوال اور افعال کا آپ کو پتا نہ چلتا ہو لیکن) خدا کی قسم! مجھے کسی قسم کی کوئی بھی مصروفیت نہیں ہوتی تھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6284]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6284 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في (ب) إلى: عبد الله.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ب) میں تحریف ہو کر نام 'عبد اللہ' ہو گیا ہے۔
(3) إسناده حسن من أجل عبد الرحمن الأزدي وشيخه خالد بن سعيد. وأخرجه بنحوه ابن سعد في "الطبقات" 2/ 314 و 5/ 239 - ومن طريقه ابن عساكر 67/ 353 - من طريقين عن عمرو بن يحيى بن سعيد الأُموي، عن جدِّه سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، وعمرو ثقة.
⚖️ درجۂ حدیث: عبد الرحمن الازدی اور ان کے استاد خالد بن سعید کی وجہ سے یہ سند 'حسن' ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے 'الطبقات' (2/ 314) میں اور ابن عساکر نے عمرو بن یحییٰ الاموی کے طریق سے روایت کیا ہے، اور عمرو ایک ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه كذلك ابن عساكر 67/ 353 من طريق إسحاق بن سعيد بن عمرو، عن أبيه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے اسحاق بن سعید بن عمرو عن ابیہ کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔