🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
759. كان أبو هريرة أحفظ أصحاب رسول الله
ابو ہریرہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سب سے زیادہ حافظے والے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6286
أخبرني بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا أحمد بن سعيد الجَمّال، حَدَّثَنَا أبو رَبِيعة فَهْد بن عَوف، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن المختار، عن عبد الله الداناجِ قال: أنبأني أبو رافع قال: سمعت أبا هريرة يقول: حَفِظتُ من حديث رسول الله ﷺ أحاديثَ ما حدَّثتُكم بها، ولو حدَّثتُكم بحديثٍ منها لرَجمتُموني بالحجارة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6162 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں بہت ساری چیزیں یاد کی ہیں، ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جو میں تمہیں بیان کر دیتا ہوں اور کچھ ایسی بھی ہیں کہ اگر وہ میں تمہارے سامنے بیان کر دوں تو تم مجھے رجم کر دو گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6286]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6286 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدًّا من أجل فهد بن عوف، فهو متروك، لكن لخبر أبي هريرة هذا طرق أخرى يتقوَّى بها.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر اصلاً 'صحیح' ہے، اگرچہ مصنف کی یہ سند فہد بن عوف کے 'متروک' ہونے کی وجہ سے نہایت ضعیف ہے، مگر اس کے دیگر طرق اسے تقویت دیتے ہیں۔
فقد أخرج نحوه أحمد في "مسنده" 16/ (10959) من طريق جعفر بن بُرقان، عن يزيد بن الأصم، عن أبي هريرة قال: لو حدثتكم بكل ما سمعت من النَّبِيّ ﷺ لرميتموني بالقِشَع ولما ناظرتموني. وإسناده قوي. والقِشَع: جمع قَشْع أو قَشْعة، وهي ما يُقشَع (أي: يُقلَع) عن وجه الأرض من المدر والحجر.
⚖️ درجۂ حدیث: امام احمد (16/ 10959) کی سند قوی ہے جس میں حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں: "اگر میں تمہیں وہ سب کچھ بتا دوں جو میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے تو تم مجھ پر مٹی کے ڈھیلے اور پتھر برساؤ گے"۔ 📝 نوٹ / توضیح: 'القشع' سے مراد زمین سے اکھڑے ہوئے مٹی کے ڈھیلے اور پتھر ہیں۔
ومعناه عند ابن سعد 2/ 314 و 5/ 236 من طريق محمد بن هلال، عن أبيه، عن أبي هريرة.
📖 حوالہ / مصدر: یہی مفہوم ابن سعد کے ہاں محمد بن ہلال عن ابیہ عن ابی ہریرہ کی سند سے مروی ہے۔
وإسناده حسن في المتابعات والشواهد.
⚖️ درجۂ حدیث: متابعات و شواہد میں یہ سند 'حسن' ہے۔
وعند ابن سعد أيضًا، ويعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 1/ 486 من طريق سليمان بن حرب، عن أبي هلال الراسبي، عن الحسن البصري، عن أبي هريرة. وإسناده حسن لولا أنه منقطع بين الحسن وأبي هريرة، فإنه لم يسمع منه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند حسن ہوتی اگر اس میں 'انقطاع' نہ ہوتا؛ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حسن بصری نے حضرت ابو ہریرہ سے براہِ راست نہیں سنا۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد اور یعقوب بن سفیان نے "المعرفۃ والتاریخ" (1/ 486) میں روایت کیا ہے۔
وانظر "صحيح البخاري" (120).
📖 حوالہ / مصدر: دیکھیں صحیح بخاری حدیث نمبر (120)۔