المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
759. كان أبو هريرة أحفظ أصحاب رسول الله
ابو ہریرہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سب سے زیادہ حافظے والے تھے
حدیث نمبر: 6287
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا الحسين بن الفضل البَجَلي، حَدَّثَنَا هَوْذة بن خَليفة، حَدَّثَنَا عَوف، عن سعيد بن أبي الحسن قال: لم يكن أَحدٌ من أصحاب النَّبِيّ ﷺ أكثرَ حديثًا عنه من أبي هريرة، وإنَّ مروانَ بَعَثَه على المدينة وأراد حديثَه، فقال: ارْوِ كما رَوَينا، فلما أَبى عليه تَغفَّلَه فأَقعَدَ له كاتبًا، فجعل أبو هريرة يحدِّث ويكتب الكاتبُ حتَّى استَفرَغَ حديثَه أجمعَ، فقال مروان: تَعلمُ أنَّا قد كتبنا حديثَك أجمعَ؟ قال: أوَقَد فعلتُم، وإنْ تُطِيعُني (1) تَمحُهُ؟ قال: فمَحَاه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6163 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6163 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سعید بن ابی الحسن فرماتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی بھی صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احادیث یاد نہیں تھیں۔ مروان نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے احادیث کی روایت لینا چاہی اور ان سے کہا: جیسے ہم احادیث بیان کرتے ہیں آپ بھی اسی طرح بیان کریں۔ لیکن سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، اس کے بعد مروان نے ان کو بتائے بغیر ان کی احادیث نوٹ کروا لیں، اس نے یوں کیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ احادیث بیان کیا کرتے تھے اور ایک کاتب (چھپ کر) ان کی احادیث نوٹ کیا کرتا تھا۔ جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تمام احادیث بیان کر دیں تو مروان نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو پتا ہے؟ ہم نے آپ کی تمام احادیث نوٹ کر لی ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حیران ہو کر پوچھا: کیا واقعی تم نے یہ کام کیا ہے؟ اگر تم میری بات مانو تو اس کو مٹا دو۔ چنانچہ مروان نے وہ احادیث مٹا دیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6287]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6287 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حقُّ "إنْ" هنا أن تجزم الفعل بعدها، لكنها قد تُحمَل على "لو" فترفع الفعل بعدها، انظر "شواهد التوضيح" لابن مالك ص 19.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں قاعدے کے مطابق حرفِ شرط "إنْ" کو اپنے بعد والے فعل کو جزم دینا چاہیے تھا، لیکن اسے کبھی "لو" کے معنی پر محمول کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے فعل مرفوع رہتا ہے۔ (دیکھیں: ابن مالک کی "شواہد التوضیح" ص 19)۔
(2) إسناده قوي. عوف: هو ابن أبي جميلة الأعرابي، وسعيد بن أبي الحسن: هو أخو الحسن البصري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔ 🔍 ناموں کی تحقیق: عوف سے مراد عوف بن ابی جمیلہ الاعرابی ہیں، اور سعید بن ابی الحسن سے مراد امام حسن بصری کے بھائی ہیں۔
وأخرجه الخطيب البغدادي في "تقييد العلم" ص 41 من طريق أحمد بن الخليل البُرجلاني، عن هوذة بن خليفة بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے خطیب بغدادی نے "تقیید العلم" (ص 41) میں احمد بن الخلیل البرجلانی عن ہوذہ بن خلیفہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا من طريق خالد بن عبد الله الواسطي، عن عوف، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے خالد بن عبد اللہ الواسطی عن عوف کے طریق سے بھی روایت کیا گیا ہے۔