🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
760. كان أبو هريرة جريئا على النبى
ابو ہریرہ نبی کریم ﷺ سے سوال کرنے میں جری تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6289
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، حَدَّثَنَا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة السَّعْدي، حَدَّثَنَا جَرِير، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن حُذَيفة قال: قال رجل لابن عمر: إنَّ أبا هريرة يُكثِرُ الحديثَ عن رسول الله ﷺ، فقال ابن عمر: أُعِيذُك بالله أن تكونَ في شكٍّ مما يجيءُ به، ولكنه اجتَرأَ وجَبُنَّا (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6165 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتے ہیں۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: میں اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں، اس بات سے کہ تو ابوہریرہ کی بیان کردہ کسی چیز کے بارے میں شک کرے۔ وہ ہمت کر کے احادیث بیان کر لیتے ہیں اور ہم خوف خدا کے مارے خاموش رہتے ہیں۔ (اس لئے ان کی مرویات زیادہ ہیں اور ہماری کم ہیں) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6289]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6289 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات. محمد بن أيوب هو ابن الضُّريس، وجرير: هو ابن عبد الحميد، وأبو وائل: هو شقيق بن سلمة، وحذيفة: هو ابن اليمان، ويغلب على الظن أن يكون ذكرُ حذيفة فيه مزيدًا على سبيل الوهم - كما قال المعلمي اليماني في "الأنوار الكاشفة" ص 165 - ولأبي وائل رواية وسماع عن عبد الله بن عمر، والله أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: علامہ معلمی یمانی کے مطابق اس سند میں حضرت حذیفہ کا ذکر غالباً وہم ہے، کیونکہ ابو وائل کا سماع حضرت عبد اللہ بن عمر سے ثابت ہے۔ 🔍 ناموں کی تحقیق: محمد بن ایوب سے مراد ابن الضریس اور جریر سے مراد ابن عبد الحمید ہیں۔
وهذا الخبر تفرَّد به بهذا الإسناد المصنّف، وقد رواه عبد الواحد بن زياد عن الأعمش عن أبي صالح في حديث رواه عن أبي هريرة عن النَّبِيّ ﷺ في الاضطجاع بعد ركعتي الفجر، فبلغ ذلك ابنَ عمر فقال: أكثرَ أبو هريرة على نفسه، قال: فقيل لابن عمر: هل تنكر شيئًا ممّا يقول؟ قال: لا، ولكنه اجترأ وجَبُنّا. أخرجه أبو داود (1261) وابن حبان (2468). ورجاله ثقات.
🧾 تفصیلِ روایت: مصنف اس خاص سند کے ساتھ اس خبر کے بیان میں منفرد ہیں۔ اس کا ایک حصہ فجر کی دو سنتوں کے بعد لیٹنے کے متعلق ہے، جس پر ابن عمر نے فرمایا تھا: "ابو ہریرہ نے خود پر بوجھ زیادہ کر لیا ہے"۔ 📌 اہم نکتہ: جب ابن عمر سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ان کی بات کا انکار کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: "نہیں، لیکن وہ (بیان کرنے میں) جرات کر گئے اور ہم بزدل (محتاط) رہے"۔ (ابو داود: 1261، ابن حبان: 2468)۔