🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
762. فَضِيلَةُ طَالِبِ الْعِلْمِ
طالب علم کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6293
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابن لَهِيعة، عن عُبيد الله بن أبي جعفر، عن الفضل بن الحسن بن عمرو بن أُمَيَّة الضَّمْري، عن أبيه قال: حدَّثتُ عن أبي هريرة بحديث فأنكَرَه، فقلت: إني قد سمعتُه منك، قال: إن كنتَ سمعتَه مني فإنه مكتوبٌ عندي، فأَخذ بيدي إلى بيته، فأَراني كتبًا من كُتبِه من حديث رسول الله ﷺ، فَوَجَدَ ذلك الحديث، فقال: قد أخبرتُك إني إن كنت حدَّثتُك به فهو مكتوبٌ عندي (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6169 - هذا منكر لم يصح
فضل بن حسن بن عمرو بن امیہ ضمری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث بیان کی تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا، میں نے کہا کہ میں نے یہ آپ ہی سے سنی ہے، انہوں نے فرمایا: ”اگر تم نے یہ مجھ سے سنی ہے تو وہ میرے پاس لکھی ہوئی ہوگی،“ پھر وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر مشتمل اپنی کتابوں میں سے کچھ کتابیں دکھائیں، پس انہیں وہ حدیث مل گئی، تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ اگر میں نے تمہیں یہ حدیث سنائی ہے تو وہ میرے پاس لکھی ہوئی موجود ہوگی۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6293]
تخریج الحدیث: «خبر منكر وإسناده ضعيف لجهالة الحسن بن عمرو بن أمية، فلم نقف له على ترجمة، وابنه الفضل لم يؤثر توثيقه عن أحد غير العجلي وابن حبان، وابن لَهِيعة - وهو عبد الله - سيئ الحفظ، وقال الذهبي في "تلخيصه": هذا منكر لم يصح.» [ترقيم الرساله 6293] [ترقيم الشركة 6226] [ترقيم العلميه 6169]

الحكم على الحديث:
خبر منكر وإسناده ضعيف لجهالة الحسن بن عمرو بن أمية

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6293 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر منكر وإسناده ضعيف لجهالة الحسن بن عمرو بن أمية، فلم نقف له على ترجمة، وابنه الفضل لم يؤثر توثيقه عن أحد غير العجلي وابن حبان، وابن لَهِيعة - وهو عبد الله - سيئ الحفظ، وقال الذهبي في "تلخيصه": هذا منكر لم يصح.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ ایک 'منکر' خبر ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حسن بن عمرو 'مجہول' ہیں اور ابن لہیعہ (عبد اللہ) حافظے کی کمزوری کی وجہ سے ضعیف ہیں۔ علامہ ذہبی فرماتے ہیں کہ یہ منکر روایت ہے جو ثابت نہیں ہے۔
وهو في "مسند ابن وهب" (137) من رواية أبي العبّاس محمد بن يعقوب الأصم، عن ابن عبد الحكم.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "مسند ابن وہب" (137) میں ابو العباس الاصم کی روایت سے موجود ہے۔
وأخرجه ابن عبد البر في "جامع بيان العلم وفضله" (422) من طريق سحنون، عن ابن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عبد البر نے "جامع بیان العلم وفضلہ" (422) میں سحنون عن ابن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
والصحيح عن أبي هريرة أنه لم يكن يكتب، فقد أخرج أحمد 12 / (7389) والبخاري (113) وغيرهما عنه أنه قال: ما من أصحاب النَّبِيّ ﷺ أحد أكثر حديثًا عنه مني، إلّا ما كان من عبد الله بن عمرو، فإنه كان يكتب ولا أكتب.
📌 اہم نکتہ: حضرت ابو ہریرہ کے بارے میں صحیح بات یہی ہے کہ وہ (شروع میں) حدیثیں نہیں لکھتے تھے؛ جیسا کہ بخاری (113) میں خود ان کا قول ہے: "صحابہ میں مجھ سے زیادہ حدیثیں کسی کے پاس نہیں سوائے عبد اللہ بن عمرو کے، کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا"۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6293 in Urdu