المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
762. فضيلة طالب العلم
طالب علم کی فضیلت
حدیث نمبر: 6293
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابن لَهِيعة، عن عُبيد الله بن أبي جعفر، عن الفضل بن الحسن بن عمرو بن أُمَيَّة الضَّمْري، عن أبيه قال: حدَّثتُ عن أبي هريرة بحديث فأنكَرَه، فقلت: إني قد سمعتُه منك، قال: إن كنتَ سمعتَه مني فإنه مكتوبٌ عندي، فأَخذ بيدي إلى بيته، فأَراني كتبًا من كُتبِه من حديث رسول الله ﷺ، فَوَجَدَ ذلك الحديث، فقال: قد أخبرتُك إني إن كنت حدَّثتُك به فهو مكتوبٌ عندي (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6169 - هذا منكر لم يصح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6169 - هذا منكر لم يصح
فضل بن حسن بن عمرو بن امیہ ضمری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں) میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث بیان کی، لیکن انہوں نے اس کا انکار کر دیا، میں نے کہا: میں نے یہ حدیث آپ ہی سے تو سنی ہے۔ انہوں نے کہا: اگر تم نے یہ حدیث مجھ سے سنی ہے تو یقیناً یہ میرے پاس لکھی ہوئی ہو گی، وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث والی کتاب مجھے دکھائی، اس میں ان کو وہ حدیث مل گئی۔ پھر انہوں نے کہا: میں نے تمہیں کہا تھا نا کہ اگر تم نے یہ حدیث مجھ سے سنی ہے تو یہ میرے پاس لکھی ہوئی ہو گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6293]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6293 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر منكر وإسناده ضعيف لجهالة الحسن بن عمرو بن أمية، فلم نقف له على ترجمة، وابنه الفضل لم يؤثر توثيقه عن أحد غير العجلي وابن حبان، وابن لَهِيعة - وهو عبد الله - سيئ الحفظ، وقال الذهبي في "تلخيصه": هذا منكر لم يصح.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ ایک 'منکر' خبر ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حسن بن عمرو 'مجہول' ہیں اور ابن لہیعہ (عبد اللہ) حافظے کی کمزوری کی وجہ سے ضعیف ہیں۔ علامہ ذہبی فرماتے ہیں کہ یہ منکر روایت ہے جو ثابت نہیں ہے۔
وهو في "مسند ابن وهب" (137) من رواية أبي العبّاس محمد بن يعقوب الأصم، عن ابن عبد الحكم.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "مسند ابن وہب" (137) میں ابو العباس الاصم کی روایت سے موجود ہے۔
وأخرجه ابن عبد البر في "جامع بيان العلم وفضله" (422) من طريق سحنون، عن ابن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عبد البر نے "جامع بیان العلم وفضلہ" (422) میں سحنون عن ابن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
والصحيح عن أبي هريرة أنه لم يكن يكتب، فقد أخرج أحمد 12 / (7389) والبخاري (113) وغيرهما عنه أنه قال: ما من أصحاب النَّبِيّ ﷺ أحد أكثر حديثًا عنه مني، إلّا ما كان من عبد الله بن عمرو، فإنه كان يكتب ولا أكتب.
📌 اہم نکتہ: حضرت ابو ہریرہ کے بارے میں صحیح بات یہی ہے کہ وہ (شروع میں) حدیثیں نہیں لکھتے تھے؛ جیسا کہ بخاری (113) میں خود ان کا قول ہے: "صحابہ میں مجھ سے زیادہ حدیثیں کسی کے پاس نہیں سوائے عبد اللہ بن عمرو کے، کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا"۔