المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
764. تَحْدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ قَبْلَ الْجُمُعَةِ
جمعہ سے پہلے مسجد میں ابو ہریرہ کا حدیث بیان کرنا
حدیث نمبر: 6297
حَدَّثَنَا أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حَدَّثَنَا عبد الله بن رَوْح المدائني، حَدَّثَنَا شَبَابةُ بن سَوّار، حَدَّثَنَا عاصم بن محمد، عن أبيه قال: رأيتُ أبا هريرة يَخرُج يومَ الجمعة فيَقبِضُ على رُمَّانتَي المِنبَر قائمًا، ويقول: حَدَّثَنَا أبو القاسم رسولُ الله الصادقُ المصدوقُ ﷺ، فلا يزالُ يحدِّث حتَّى إذا سَمِعَ فَتْحَ بابِ المقصورة لخروج الإمام للصلاة جَلَسَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قد تحرَّيتُ الابتداءَ من فضائل أبي هريرة لحفظِه لحديث المصطفى ﷺ، وشهادةِ الصحابة والتابعين له بذلك، فإنَّ كلَّ مَن طَلَبَ حفظَ الحديث من أول الإسلام وإلى عصرِنا هذا فإنَّهم من أتباعِه وشِيعتِه، إذْ هو أوّلُهم وأحقُّهم باسم الحِفْظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6173 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قد تحرَّيتُ الابتداءَ من فضائل أبي هريرة لحفظِه لحديث المصطفى ﷺ، وشهادةِ الصحابة والتابعين له بذلك، فإنَّ كلَّ مَن طَلَبَ حفظَ الحديث من أول الإسلام وإلى عصرِنا هذا فإنَّهم من أتباعِه وشِيعتِه، إذْ هو أوّلُهم وأحقُّهم باسم الحِفْظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6173 - صحيح
عاصم بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن نکلتے اور منبر کے دونوں دستوں کو پکڑ کر کھڑے ہو جاتے اور فرماتے: ”ہم سے ابوالقاسم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کہ سچے اور جن کی تصدیق کی گئی ہے، حدیث بیان فرمائی،“ پھر وہ مسلسل احادیث بیان کرتے رہتے یہاں تک کہ جب وہ امام کے نماز کے لیے نکلنے کی خاطر مخصوص کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز سنتے تو بیٹھ جاتے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کی ابتدا نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے لیے ان کے حفظ اور صحابہ و تابعین کی اس پر گواہی سے کرنے کا ارادہ کیا ہے، کیونکہ اسلام کی ابتدا سے لے کر ہمارے اس دور تک جس نے بھی حفظِ حدیث کا ارادہ کیا وہ ان ہی کے نقشِ قدم پر چلنے والا ہے، کیونکہ وہ حفظ کے معاملے میں سب سے پہلے اور اس نام کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6297]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کی ابتدا نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے لیے ان کے حفظ اور صحابہ و تابعین کی اس پر گواہی سے کرنے کا ارادہ کیا ہے، کیونکہ اسلام کی ابتدا سے لے کر ہمارے اس دور تک جس نے بھی حفظِ حدیث کا ارادہ کیا وہ ان ہی کے نقشِ قدم پر چلنے والا ہے، کیونکہ وہ حفظ کے معاملے میں سب سے پہلے اور اس نام کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6297]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وقد سلف برقم (372) من طريق أحمد بن يونس عن عاصم بن محمد بن زيد.» [ترقيم الرساله 6297] [ترقيم الشركة 6230] [ترقيم العلميه 6173]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6297 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. وقد سلف برقم (372) من طريق أحمد بن يونس عن عاصم بن محمد بن زيد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے اور یہ پہلے رقم (372) پر گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6297 in Urdu