🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
764. تحديث أبى هريرة فى المسجد قبل الجمعة
جمعہ سے پہلے مسجد میں ابو ہریرہ کا حدیث بیان کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6297
حَدَّثَنَا أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حَدَّثَنَا عبد الله بن رَوْح المدائني، حَدَّثَنَا شَبَابةُ بن سَوّار، حَدَّثَنَا عاصم بن محمد، عن أبيه قال: رأيتُ أبا هريرة يَخرُج يومَ الجمعة فيَقبِضُ على رُمَّانتَي المِنبَر قائمًا، ويقول: حَدَّثَنَا أبو القاسم رسولُ الله الصادقُ المصدوقُ ﷺ، فلا يزالُ يحدِّث حتَّى إذا سَمِعَ فَتْحَ بابِ المقصورة لخروج الإمام للصلاة جَلَسَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قد تحرَّيتُ الابتداءَ من فضائل أبي هريرة لحفظِه لحديث المصطفى ﷺ، وشهادةِ الصحابة والتابعين له بذلك، فإنَّ كلَّ مَن طَلَبَ حفظَ الحديث من أول الإسلام وإلى عصرِنا هذا فإنَّهم من أتباعِه وشِيعتِه، إذْ هو أوّلُهم وأحقُّهم باسم الحِفْظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6173 - صحيح
عاصم بن محمد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن نکلتے اور منبر کے دو ستونوں کو پکڑے ہوئے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سناتے رہے حتیٰ کہ جب امام کے نکلنے کے لئے دروازہ کھلنے کی آواز سنتے تو بیٹھ جاتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ (امام حاکم کہتے ہیں) میرا تو یہ خیال تھا آغاز سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فضائل سے ہونا چاہیے کیونکہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ساری حدیثیں یاد تھیں۔ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین نے ان کے بارے میں اس بات کی گواہی بھی دی ہے، کیونکہ اول اسلام سے لے کر آج تک جس نے حدیث شریف کا علم حاصل کیا ہے، وہ سیدنا ابوہریرہ کی جماعت میں سے ہے اور انہی کے مذہب پر ہے۔ کیونکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سب سے پہلے حافظ الحدیث ہیں اور یہی اس نام کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6297]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6297 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. وقد سلف برقم (372) من طريق أحمد بن يونس عن عاصم بن محمد بن زيد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے اور یہ پہلے رقم (372) پر گزر چکی ہے۔