🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

764. تَحْدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ قَبْلَ الْجُمُعَةِ
جمعہ سے پہلے مسجد میں ابو ہریرہ کا حدیث بیان کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6296
حدثني محمد بن عُبيدٍ الفقيه أخبرنا أبو حامد الشَّرْقي ومَكّي بن عَبْدَان قالا: حَدَّثَنَا أبو الأزهَر، حَدَّثَنَا وهب بن جَرِير، حَدَّثَنَا أبي قال: سمعتُ محمد بن إسحاق يحدِّث عن محمد بن إبراهيم التَّيْمي، عن أبي أَنس مالك بن أبي عامر قال: كنت عند طلحةَ بن عبيد الله، فدخل عليه رجلٌ فقال: يا أبا محمد واللهِ ما ندري هذا اليَمانِي أعلمُ برسول الله ﷺ أم أنتم؟ يقول على رسول الله ﷺ ما لم يقل - يعني أبا هريرة -! فقال طلحة: والله ما نَشُكُّ أنه سمع من رسول الله ﷺ ما لم نسمع، وعَلِمَ ما لم نعلم إنَّا كنَّا قومًا أغنياءَ لنا بيوتٌ وأهْلُونَ، كنّا نأتي نبيَّ الله ﷺ طَرَفَي النهار ثم نَرجِع، وكان أبو هريرة مِسكينًا لا مالَ له ولا أهلَ ولا ولدَ، إنما كانت يدُه مع يدِ النَّبِيّ ﷺ، وكان يَدُور معه حيثُ ما دار، ولا نشكُّ أنه قد عَلِم ما لم نعلم، وسَمِع ما لم نسمع، ولم يتَّهِمْه أحدٌ منا أن يقول على رسول الله ﷺ ما لم يقل (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6172 - على شرط مسلم
ابوانس مالک بن ابی عامر فرماتے ہیں: میں طلحہ بن عبداللہ کے پاس موجود تھا، ان کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا: اے ابومحمد! خدا کی قسم! میں نہیں جانتا کہ یہ یمانی شخص (یعنی سیدنا ابوہریرہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ جانتا ہے یا تم لوگ زیادہ جانتے ہو؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایسی ایسی باتیں کرتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہی نہیں۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی قسم ہمیں اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ باتیں سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنی اور یہ وہ کچھ جانتے ہیں جو ہم نہیں جانتے، ہم لوگ مالدار تھے، ہمارے اپنے گھر بار اور اہل و عیال ہوتے تھے ہم دن میں دو چار مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دے کر واپس چلے جاتے تھے، جبکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسکین تھے، ان کے پاس کوئی مال و دولت نہیں تھا، نہ ان کے اہل و عیال تھے ان کا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہوتا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جہاں جاتے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوتے، اور اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہ کچھ جانتے ہیں جو ہم نہیں جانتے اور انہوں نے وہ کچھ سنا ہے جو ہم نے نہیں سنا۔ اور ہم میں سے کوئی شخص بھی ان پر یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی بات ایسی کہی ہو جو درحقیقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6296]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6297
حَدَّثَنَا أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حَدَّثَنَا عبد الله بن رَوْح المدائني، حَدَّثَنَا شَبَابةُ بن سَوّار، حَدَّثَنَا عاصم بن محمد، عن أبيه قال: رأيتُ أبا هريرة يَخرُج يومَ الجمعة فيَقبِضُ على رُمَّانتَي المِنبَر قائمًا، ويقول: حَدَّثَنَا أبو القاسم رسولُ الله الصادقُ المصدوقُ ﷺ، فلا يزالُ يحدِّث حتَّى إذا سَمِعَ فَتْحَ بابِ المقصورة لخروج الإمام للصلاة جَلَسَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قد تحرَّيتُ الابتداءَ من فضائل أبي هريرة لحفظِه لحديث المصطفى ﷺ، وشهادةِ الصحابة والتابعين له بذلك، فإنَّ كلَّ مَن طَلَبَ حفظَ الحديث من أول الإسلام وإلى عصرِنا هذا فإنَّهم من أتباعِه وشِيعتِه، إذْ هو أوّلُهم وأحقُّهم باسم الحِفْظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6173 - صحيح
عاصم بن محمد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن نکلتے اور منبر کے دو ستونوں کو پکڑے ہوئے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سناتے رہے حتیٰ کہ جب امام کے نکلنے کے لئے دروازہ کھلنے کی آواز سنتے تو بیٹھ جاتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ (امام حاکم کہتے ہیں) میرا تو یہ خیال تھا آغاز سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فضائل سے ہونا چاہیے کیونکہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ساری حدیثیں یاد تھیں۔ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین نے ان کے بارے میں اس بات کی گواہی بھی دی ہے، کیونکہ اول اسلام سے لے کر آج تک جس نے حدیث شریف کا علم حاصل کیا ہے، وہ سیدنا ابوہریرہ کی جماعت میں سے ہے اور انہی کے مذہب پر ہے۔ کیونکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سب سے پہلے حافظ الحدیث ہیں اور یہی اس نام کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6297]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6298
وقد أخبرني عبد الله بن محمد بن زياد العَدْل قال: سمعت أبا بكر محمد بن إسحاق الإمامَ يقول؛ وذَكَرَ أبا هريرة فقال: كان من أكثر أصحابِه عنه روايةً فيما انتَشَرَ من روايتِه وروايةِ غيره من أصحاب رسول الله ﷺ مع مَخارِجَ صِحاحٍ. قال أبو بكر: وقد روى عنه أبو أيّوب الأنصاريُّ مع جلالةِ قَدْرِه ونزول رسول الله ﷺ عنده.
ابوبکر محمد بن اسحاق نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا اور فرمایا: اکثر صحابہ کرام نے ان سے حدیث پاک کی روایت لی ہے، ان کی جو روایات مشہور ہوئی ہیں۔ اور دیگر صحابہ کرام نے جو روایات بیان کی ہیں۔ جو صحیح احادیث کی بنیاد ہیں۔ ابوبکر کہتے ہیں: سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے حدیث کی روایت لی ہے حالانکہ وہ خود عظیم المرتبت صحابی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں ان کے گھر ٹھہرے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6298]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں