المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
767. ذكر أبى محذورة الجمحي وهو أحد مؤذني رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ، واختلف فى اسمه .
ابو محذورہ جمحی کا ذکر جو رسول اللہ ﷺ کے مؤذنوں میں سے تھے اور ان کے نام میں اختلاف ہے
حدیث نمبر: 6301
حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حَنْبَل، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا هُشَيم، عن سَيَّار، عن جَبْر بن عبيدة، عن أبي هريرة قال: وَعَدَنا رسولُ الله ﷺ غزوةَ الهند، فإن استُشهِدتُ كنتُ من خير الشهداء، وإن رجعتُ فأنا أبو هريرة المحرَّرُ (1) . ذكر أبي مَحذُورة الجُمَحي وهو أحد مؤذِّني رسولِ الله ﷺ. واختُلِف في اسمه:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے غزوہ ہند کا وعدہ لیا۔ اگر میں اس میں شہید ہو گیا تو میں بہترین شہید ہوں گا اور اگر میں زندہ و سلامت لوٹ کر واپس آ گیا تو میں آزاد شدہ ابوہریرہ ہوں گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6301]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6301 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده محتمل للتحسين بطرقه وشاهده، وهذا إسناد فيه لِينٌ، جبر بن عبيدة تفرَّد بالرواية عنه سيّار أبو الحكم، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان كعادته في توثيق المجاهيل، وذكره الذهبي في "ميزان الاعتدال" 1/ 388 وأشار إلى حديثه هذا وقال: خبر منكر، لا يُعرف من ذا. والخبر في "مسند أحمد" 12/ (7128).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت اپنے طرق اور شواہد کی بنیاد پر 'حسن' ہونے کا احتمال رکھتی ہے، تاہم اس خاص سند میں 'لین' (کمزوری) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: جبر بن عبیدہ سے روایت کرنے میں سیار ابو الحکم منفرد ہیں، اور ابن حبان کے علاوہ کسی نے ان کی توثیق نہیں کی (جو مجہول راویوں کی توثیق میں مشہور ہیں)۔ علامہ ذہبی نے اسے 'منکر' اور راوی کو 'نامعلوم' قرار دیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" (12/ 7128) میں موجود ہے۔
وأخرجه النسائي (4367) و (4368) من طريقين عن هشيم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (4367، 4368) نے ہشیم کے دو طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا (4367) من طريق زكريا بن عدي، عن عبيد الله بن عمرو الرقي، عن زيد بن أبي أنيسة، عن سيار، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (4367) نے زکریا بن عدی عن عبید اللہ الرقی عن زید بن ابی انیسہ عن سیار کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 14 / (8823) من طريق البراء بن عبد الله الغنوي عن الحسن البصري، عن أبي هريرة. وهذا إسناد ضعيف لضعف البراء وانقطاعه بين الحسن وأبي هريرة، فإنه لم يسمع منه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ براء بن عبد اللہ کا ضعف اور حسن بصری کا حضرت ابو ہریرہ سے براہِ راست سماع نہ ہونا (انقطاع) ہے۔
وله طريق ثالث عند ابن أبي عاصم في "الجهاد" (291)، وهو ضعيف.
📖 حوالہ / مصدر: اس کا ایک تیسرا طریق ابن ابی عاصم کی کتاب "الجہاد" (291) میں ہے، جو کہ ضعیف ہے۔
ويشهد له حديث ثوبان عند أحمد 37/ (22396) والنسائي (4369) مرفوعًا بلفظ: "عصابتان من أمتي أحرزهما الله من النار: عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مع عيسى ابن مريم". وهو محتمل للتحسين.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید حضرت ثوبان کی مرفوع روایت سے ہوتی ہے (احمد: 22396، نسائی: 4369) جس کے الفاظ ہیں: "میری امت کے دو گروہوں کو اللہ نے آگ سے محفوظ کر دیا ہے: ایک وہ جو ہند پر چڑھائی کرے گا اور دوسرا وہ جو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ ہوگا"۔ یہ روایت 'حسن' ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔