المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
768. ذكر الاختلاف فى اسم أبى محذورة
ابو محذورہ کے نام میں اختلاف کا ذکر
حدیث نمبر: 6302
فحدّثَني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: أبو مَحذُورةَ أَوْس بن مِعْيَر بن وهب بن دُعموُص بن سَعْد (1) بن جُمَحَ، وأمُّه خُزَاعيّة. قال إبراهيم الحَرْبي: هكذا قال مصعب الزُّبيري، وقد قيل: اسمه سَمُرة بن مِعَير (2) .
مصعب بن عبداللہ زبیری فرماتے ہیں:” ابومحذورہ اوس بن معیر بن وہب بن دعموص بن سعد بن جمح “ ان کی والدہ ” خزاعیہ “ ہیں۔ ابراہیم حربی کا کہنا ہے کہ مصعب زبیری نے اسی طرح کہا ہے۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ ان کا نام ” سمرہ بن معیر “ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6302]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6302 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في نسخنا الخطية سعيد، وهو خطأ، والتصويب من "نسب قريش" لمصعب ص 399.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہاں 'سعید' لکھا ہے جو غلط ہے، درست نام مصعب زبیری کی "نسب قریش" کے مطابق (سعد) ہے۔
(2) قال ابن حزم في "جمهرة أنساب العرب" ص 163: يظن أهل الحديث أنَّ اسم أبي محذورة سَمُرة، وليس كذلك، وإنما سمرة أخٌ لأبي محذورة.
📝 نوٹ / توضیح: ابن حزم "جمہرہ انساب العرب" میں فرماتے ہیں کہ محدثین کا یہ گمان کہ ابو محذورہ کا نام 'سمرہ' ہے، درست نہیں؛ سمرہ تو ابو محذورہ کے بھائی کا نام تھا۔