🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
780. كَانَ آخِرَ مَوْتًا مِنَ الْجَانِّ الَّذِينَ سَمِعُوا الْقُرْآنَ عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ
جنات میں سے قرآن سننے والوں میں سب سے آخر میں وفات پانے والا عمرو بن جابر تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6333
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن بِشْر بن مَطَر، حدثنا أبو هريرة محمد بن فراس الصَّيرَفي، حدثنا سَلّم بن قُتَيبة، حدثنا عمر بن نَبهان (2) ، حدثني سَلّام أبو عيسى، حدثنا صفوان بن المعطَّل السُّلَمي قال: خرجنا حُجّاجًا، فلما كنا بالعَرْج إذا نحن بحيّةٍ تضطرب فلم تَلبَثْ أن ماتت، فأخرج له رجلٌ منا خِرقةً من عَيْبة له فلفَّها فيها وغيَّبها في الأرض فدَفَنها، ثم قَدِمْنا مكة، فإنّا لَبالمسجدِ الحرامِ إذ وَقَفَ علينا شخصٌ فقال: أيُّكم صاحبُ عمرو بن جابر؟ فقلنا: ما نعرف عمرَو ابنَ جابر، قال: أيُّكم صاحبُ الجانِّ؟ قالوا: هذا، قال: أمَا إنه كان آخرَ التسعة موتًا، الذين أتَوْا رسولَ الله ﷺ يستمعون القرآن (3) . ذكرُ حمزة بن عمرو الأسلمي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6207 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حج کے ارادے سے نکلے، جب ہم مقامِ عرج پر پہنچے تو ہمیں ایک سانپ تڑپتا ہوا نظر آیا جو تھوڑی ہی دیر میں مر گیا، ہم میں سے ایک شخص نے اپنے تھیلے سے ایک کپڑا نکالا اور اسے اس میں لپیٹ کر زمین میں دفن کر دیا، پھر جب ہم مکہ پہنچے اور مسجد حرام میں موجود تھے تو ایک شخص ہمارے پاس آ کر کھڑا ہوا اور پوچھا: ”تم میں سے عمرو بن جابر کا ساتھی کون ہے؟“ ہم نے کہا: ”ہم عمرو بن جابر کو نہیں جانتے،“ اس نے پوچھا: ”تم میں سے جن (سانپ) کا ساتھی کون ہے؟“ لوگوں نے (اس شخص کی طرف اشارہ کر کے) کہا: ”یہ ہے،“ تو اس نے کہا: ”آگاہ رہو کہ وہ ان نو (جنوں) میں سے آخری تھا جن کی وفات ہوئی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قرآن سننے آئے تھے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6333]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ، عمر بن نبهان متفق على ضعفه، وسلّام أبو عيسى لا يُعرف.» [ترقيم الرساله 6333] [ترقيم الشركة 6266] [ترقيم العلميه 6207]

الحكم على الحديث:
إسناده واهٍ

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6333 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: سنان.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں تحریف سے 'سنان' ہو گیا ہے (درست نام صفوان ہے)۔
(3) إسناده واهٍ، عمر بن نبهان متفق على ضعفه، وسلّام أبو عيسى لا يُعرف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند 'واہی' (انتہائی کمزور) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عمر بن نبہان بالاتفاق ضعیف ہیں اور سلام ابو عیسیٰ غیر معروف (مجہول) راوی ہیں۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في زياداته على "المسند" 37/ (22662) عن أبي حفص عمرو بن علي السقاء، عن أبي قُتَيبة سلم بن قُتيبة، بهذا الإسناد. العَيْبة: وعاء توضع فيه الثياب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد اللہ بن احمد نے "مسند احمد" کے زوائد میں ابو قتیبہ سلم بن قتیبہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: 'العَيْبہ' اس برتن یا تھیلے کو کہتے ہیں جس میں کپڑے رکھے جاتے ہیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6333 in Urdu