🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
787. ذكر المسور بن مخرمة الزهري رضى الله عنه
مسور بن مخرمہ زہری رضی اللہ عنہ کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6353
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أَبي، عن الوليد بن كثير، حدثني محمد ابن عَمْرو بن حَلحَلَة الدِّيلِي، أنَّ ابن شهاب حدَّثه، أنَّ عليَّ بن الحسين حدَّثه: أنهم حين قَدِموا المدينةَ من عند يزيد بن معاوية بعد مَقتَل الحُسين بن علي رضوان الله وسلامه عليهما، لقيه المِسورُ بن مَخرَمة فقال: سمعت النبيَّ ﷺ يَخطُب على مِنبَرِه وأنا يومئذٍ محتلِمٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6224 - روياه بالمعنى
امام زین العابدین فرماتے ہیں: سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے بعد جب ہم لوگ یزید بن معاویہ کے پاس سے مدینہ منورہ آئے تو سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ملاقات کی اور انہوں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر شریف پر خطبہ دیتے ہوئے سنا ہے میں اس وقت بالغ تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6353]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6353 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 31/ (18913)، والبخاري (3110)، ومسلم (2449)، وأبو داود (2069)، والنسائي (8314) و (8469)، وابن حبان (6956) من طرق عن يعقوب بن إبراهيم، بهذا الإسناد. وذكروا فيه قصة خطبة علي بن أبي طالب لابنة أبي جهل على فاطمة، وقول النبي ﷺ: "إنَّ فاطمة مني … " إلى آخره. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (31/ 18913)، بخاری (3110)، مسلم (2449) اور دیگر کتبِ ستہ میں یعقوب بن ابراہیم کی سند سے روایت کیا گیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اس میں حضرت علی کے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دینے اور نبی ﷺ کے اس فرمان کا ذکر ہے کہ: "فاطمہ مجھ سے ہے..."۔ 📌 اہم نکتہ: امام حاکم کا اسے مستدرک کرنا ان کا 'ذہول' ہے کیونکہ یہ پہلے سے صحیحین میں موجود ہے۔