المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
792. بين يدي الساعة فتنا كقطع الدخان
قیامت سے پہلے دھوئیں کے ٹکڑوں جیسی فتنے ہوں گے
حدیث نمبر: 6364
ما حدَّثَناه الشيخ أبو محمد المُزَني إملاءً، حدثنا أبو خَليفة القاضي، حدثنا أحمد بن يحيى بن حُميدٍ الطويل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن الحسن: أنَّ الضَّحّاك بن قيس كَتَبَ إلى قيس بن الهيثم حيثُ مات يزيدُ بن معاوية: سلامٌ عليك، أما بعدُ، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ بين يَدَي الساعةِ فِتنًا كقِطَع الدُّخَان، يموتُ منها قلبُ الرجل كما يموت بَدَنُه، يُصبحُ الرجلُ فيها مؤمنًا ويُمسي كافرًا، ويُمسي مؤمنًا ويصبح كافرًا، يبيعُ فيها أقوامٌ دينَهم بعَرَضٍ من الدنيا"، وإنَّ يزيد قد مات، وأنتم إخوانُنا وأشقّاؤُنا (1) . ومنها:
سیدنا حسن کہتے ہیں: جب یزید بن معاویہ فوت ہوا، تو سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ نے قیس بن ہیثم کی جانب ایک مکتوب لکھا، (جس کی تحریر کچھ اس طرح تھی) سلام علیک امابعد۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے قریب دھویں کی مثل فتنے اٹھیں گے، لوگوں کے دل مردہ ہو جائیں گے جیسے انسان مر جاتا ہے۔ ان حالات میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا تو شام کو کافر ہو چکا ہو گا، اور ایک آدمی شام کے وقت مومن ہو گا اور صبح کو کافر ہو جائے گا۔ دنیا کے چند سکوں کی خاطر لوگ اپنا دین بیچ دیں گے۔ یزید مر گیا ہے، جبکہ تم لوگ ہمارے سگے بھائیوں کی طرح ہو۔ (ان میں سے ایک اور حدیث بھی درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6364]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6364 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) المرفوع منه صحيح لغيره دون قوله: "يموت منها قلب الرجل كما يموت بدنه"، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن زيد: وهو ابن جُدْعان. أبو محمد المزني شيخ المصنف: هو أحمد بن عبد الله بن محمد المغفَّلي الهروي، وأبو خليفة القاضي: هو الفضل بن الحباب الجُمَحي، والحسن: هو البصري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کا مرفوع حصہ 'صحیح لغیرہ' ہے، سوائے اس ٹکڑے کے کہ "اس سے انسان کا دل اسی طرح مر جاتا ہے جیسے بدن"۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے ضعیف ہونے کی وجہ علی بن زید بن جدعان کا ضعف ہے۔ ابو محمد المزنی امام حاکم کے استاد ہیں۔
وأخرجه الطبراني (8135) عن أبي خليفة بهذا الإسناد - وزاد في آخره: فلا تسبقونا بشيء حتى نختار لأنفسنا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (8135) نے ابو خلیفہ کی سند سے روایت کیا ہے اور آخر میں یہ اضافہ ہے: "پس تم کسی چیز میں ہم سے سبقت نہ کرو یہاں تک کہ ہم اپنے لیے انتخاب کر لیں"۔
وأخرجه أحمد 25 / (15753 و 39 / (24009/ 72) من طريقين عن حماد بن سلمة به. وقد روى نحوه يونس بن عبيد عن الحسن البصري: أنَّ النُّعمان بن بشير كتب إلى قيس بن الهيثم … وذكره. أخرجه أحمد 30/ (18439). وهذا أصح. وسيأتي المرفوع من حديث الحسن عن النعمان برقم (6393)، وسنذكر شواهده هناك.
⚖️ درجۂ حدیث: یونس بن عبید عن الحسن والی روایت زیادہ صحیح ہے جس میں نعمان بن بشیر کا قیس بن الہیثم کو خط لکھنے کا ذکر ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس کا مرفوع حصہ آگے رقم (6393) پر آئے گا جہاں ہم شواہد ذکر کریں گے۔
وانظر تمام الكلام عليه في الموضع الأول من "المسند".
📝 نوٹ / توضیح: اس پر تفصیلی کلام "مسند احمد" کے پہلے مقام پر ملاحظہ فرمائیں۔