المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
795. شركة عبد الله بن عمرو غزوة صفين بأمر أبيه
عبد اللہ بن عمرو کی اپنے والد کے حکم سے جنگ صفین میں شرکت
حدیث نمبر: 6372
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن داود بن شابور، عن مجاهد، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي ﷺ قال:"خذوا القرآنَ من أربعةٍ - رجلَين من المهاجرين، ورجلَينِ من الأنصار -: من عبدِ الله بن مسعودٍ وسالمٍ مولى أبي حُذَيفة، وأُبيِّ بن كعب ومعاذِ بن جَبَل"، قال: وخَصَّ عبدَ الله بن مسعود بكلمة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6242 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6242 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” چار آدمیوں سے قرآن سیکھو، دو آدمی مہاجرین میں سے اور دو آدمی انصار میں سے ہیں۔ 1۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ 2۔ ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام ” سالم “ رضی اللہ عنہ۔ 3۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ۔ 4۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ۔ راوی کہتے ہیں: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے لئے کوئی خاص بات بھی کہی تھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6372]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6372 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. الحميدي: اسمه عبد الله بن الزبير الأسدي المكي، وسفيان: هو ابن عيينة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کا اسناد "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود الحمیدی کا پورا نام "عبد اللہ بن زبیر الاسدی المکی" ہے اور سفیان سے مراد "سفیان بن عیینہ" ہیں۔
وأخرجه الطحاوي في "مشكل الآثار" (5584)، والطبراني في "الكبير" (14282) و "الأوسط" (2404) من طريق إبراهيم بن بشار الرمادي، عن سفيان بهذا الإسناد. وبيَّن الكلمة التي خصَّ بها رسولُ الله ﷺ عبد الله بنَ مسعود، وهي: من أحب أن يقرأ القرآن غضًّا كما أُنزل، فليقرأه كما يقرؤه ابن أمِّ عبدٍ".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طحاوی نے "مشکل الآثار" (5584) میں، امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (14282) اور "الاوسط" (2404) میں ابراہیم بن بشار الرمادی عن سفیان بن عیینہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اس میں ان کلمات کی وضاحت ہے جو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمائے تھے، یعنی: "جو شخص یہ پسند کرے کہ وہ قرآن مجید کو اسی طرح ترو تازہ پڑھے جیسے اسے نازل کیا گیا ہے، تو وہ اسے ابن ام عبد (ابن مسعود) کی قرأت کے مطابق پڑھے"۔
وادّعى الطبراني في "الأوسط" أنَّ الرمادي تفرَّد بهذا الحديث عن سفيان بن عيينة وليس كذلك، فقد رواه عنه أيضًا الحميدي عند الحاكم كما ترى.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام طبرانی نے "الاوسط" میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ابراہیم بن بشار الرمادی اس حدیث کو سفیان بن عیینہ سے روایت کرنے میں تنہا ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ اسے سفیان سے الحمیدی نے بھی روایت کیا ہے جیسا کہ امام حاکم کے ہاں موجود ہے۔
وأصل الحديث قد رواه عن عبد الله بن عمرو أيضًا مسروقٌ عند أحمد 11/ (6523) و (6767)، والبخاري (3760) و (3806) و (3808) و (4999)، ومسلم (2464)، والترمذي (3810)، والنسائي (7942)، وابن حبان (736) و (7122).
📖 حوالہ / مصدر: اس حدیث کی اصل حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مسروق بن الاجدع نے بھی روایت کی ہے جو کہ مسند احمد 11/(6523، 6767)، بخاری (3760، 3806، 3808، 4999)، مسلم (2464)، ترمذی (3810)، نسائی (7942) اور ابن حبان (736، 7122) میں موجود ہے۔