المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
795. شَرِكَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو غَزْوَةَ صِفِّينَ بِأَمْرِ أَبِيهِ
عبد اللہ بن عمرو کی اپنے والد کے حکم سے جنگ صفین میں شرکت
حدیث نمبر: 6374
حدثني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثني الليث، عن خالد بن يزيد عن سعيد بن أبي هلال، عن عليِّ بن يحيى، عن عَمرو بن شعيب، عن أبيه، عن عبد الله بن عَمرو قال: كنَّا مع رسول الله ﷺ في غَزْوة له ففَزِعَ الناسُ، فخرجتُ وعليَّ سلاحي، فنظرتُ إلى سالم مولى أبي حُذَيفة عليه سلاحُه يمشي وعليه السَّكينةُ، فقلت: لأَقتديَنَّ بهذا الرجل الصالح، حتى أَتى فجَلَسَ عند بابِ رسول الله ﷺ، وجلستُ معه، فخرج رسول الله ﷺ مُغضَبًا فقال:"يا أيها الناس، ما هذه الخِفَّةُ؟ ما هذا النَّزَقُ؟ أعجَرْتُم أَن تَصنَعوا كما صَنَعَ هذانِ الرجلانِ المؤمنانِ؟" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6244 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6244 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ لوگ اچانک گھبرا گئے، پس میں اپنا اسلحہ لگا کر باہر نکلا تو دیکھا کہ ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ بھی اپنا اسلحہ لگائے وقار اور سکون کے ساتھ چل رہے ہیں، میں نے دل میں کہا کہ میں ضرور اس مردِ صالح کی اقتدا کروں گا، یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر جا کر بیٹھ گئے اور میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لوگو! یہ کیسی جلد بازی اور کیسا جوش و غصہ ہے؟ کیا تم اس بات سے عاجز تھے کہ ویسا ہی عمل کرتے جیسا ان دو مومن مردوں نے کیا؟“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6374]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6374]
تخریج الحدیث: «إسناده ليّن، علي بن يحيى ذكره البخاري في "التاريخ الكبير" 6/ 300، وابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 6/ 208، ولم ينسباه ولم يذكرا عنه راويًا سوى سعيد بن أبي هلال، فهو على هذا مجهول.» [ترقيم الرساله 6374] [ترقيم الشركة 6303] [ترقيم العلميه 6244]
الحكم على الحديث:
إسناده ليّن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6374 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ليّن، علي بن يحيى ذكره البخاري في "التاريخ الكبير" 6/ 300، وابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 6/ 208، ولم ينسباه ولم يذكرا عنه راويًا سوى سعيد بن أبي هلال، فهو على هذا مجهول.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کا اسناد "لَیِّن" (کمزور) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: علی بن یحییٰ کا ذکر امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" 6/ 300 اور ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" 6/ 208 میں کیا ہے، مگر ان دونوں نے نہ تو ان کی نسبت بیان کی ہے اور نہ ہی ان سے روایت کرنے والے کسی راوی کا ذکر کیا ہے سوائے سعید بن ابی ہلال کے؛ لہٰذا اس بنیاد پر یہ راوی "مجہول" ہے۔
وذكره البخاري في "تاريخه" 6/ 300 - 301 معلقًا عن عبد الله بن صالح، عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے اپنی "تاریخ" 6/ 300 - 301 میں عبد اللہ بن صالح عن لیث بن سعد کے واسطے سے اسی اسناد کے ساتھ "معلقاً" ذکر کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6374 in Urdu