🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
795. شركة عبد الله بن عمرو غزوة صفين بأمر أبيه
عبد اللہ بن عمرو کی اپنے والد کے حکم سے جنگ صفین میں شرکت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6374
حدثني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثني الليث، عن خالد بن يزيد عن سعيد بن أبي هلال، عن عليِّ بن يحيى، عن عَمرو بن شعيب، عن أبيه، عن عبد الله بن عَمرو قال: كنَّا مع رسول الله ﷺ في غَزْوة له ففَزِعَ الناسُ، فخرجتُ وعليَّ سلاحي، فنظرتُ إلى سالم مولى أبي حُذَيفة عليه سلاحُه يمشي وعليه السَّكينةُ، فقلت: لأَقتديَنَّ بهذا الرجل الصالح، حتى أَتى فجَلَسَ عند بابِ رسول الله ﷺ، وجلستُ معه، فخرج رسول الله ﷺ مُغضَبًا فقال:"يا أيها الناس، ما هذه الخِفَّةُ؟ ما هذا النَّزَقُ؟ أعجَرْتُم أَن تَصنَعوا كما صَنَعَ هذانِ الرجلانِ المؤمنانِ؟" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6244 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، لوگوں میں بہت گھبراہٹ پھیل گئی، میں اپنے ہتھیار پہن کر نکلا، میں نے سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا، وہ اپنے ہتھیار پہنے ہوئے بہت اطمینان کے ساتھ چلتے ہوئے آ رہے تھے، میں نے سوچا کہ میں اس نیک آدمی کے پیچھے چلوں گا، (چنانچہ میں اس کے پیچھے ہو لیا، چلتے چلتے) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس جا کر بیٹھ گیا، اس کے ساتھ میں بھی بیٹھ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کے عالم میں باہر تشریف لائے اور فرمایا: اے لوگو! یہ کیسی خفت ہے؟ یہ کیسی آسودہ حالی ہے؟ کیا تم لوگ ان دو مومن آدمیوں کی طرح نہیں ہو سکتے؟ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6374]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6374 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ليّن، علي بن يحيى ذكره البخاري في "التاريخ الكبير" 6/ 300، وابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 6/ 208، ولم ينسباه ولم يذكرا عنه راويًا سوى سعيد بن أبي هلال، فهو على هذا مجهول.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کا اسناد "لَیِّن" (کمزور) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: علی بن یحییٰ کا ذکر امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" 6/ 300 اور ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" 6/ 208 میں کیا ہے، مگر ان دونوں نے نہ تو ان کی نسبت بیان کی ہے اور نہ ہی ان سے روایت کرنے والے کسی راوی کا ذکر کیا ہے سوائے سعید بن ابی ہلال کے؛ لہٰذا اس بنیاد پر یہ راوی "مجہول" ہے۔
وذكره البخاري في "تاريخه" 6/ 300 - 301 معلقًا عن عبد الله بن صالح، عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے اپنی "تاریخ" 6/ 300 - 301 میں عبد اللہ بن صالح عن لیث بن سعد کے واسطے سے اسی اسناد کے ساتھ "معلقاً" ذکر کیا ہے۔