المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
805. ذكر أبى واقد الليثي رضى الله عنه
سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 6393
حدثنا عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حدثنا عمر بن حفص، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا المبارك بن فَضَالة، عن الحسن، عن النُّعمان بن بَشير قال: صَحِبْنا رسولَ الله ﷺ فسمعناه يقول:"إنَّ بين يَدَي الساعةِ فِتَنًا كقِطَع الليل المُظلِم، يصبحُ الرجلُ فيها مؤمنًا ويُمسي كافرًا، ويُمسي مؤمنًا ويصبحُ كافرًا، يبيعُ أقوامٌ خَلَاقَهم فيها بعَرَضٍ من الدنيا يسيرٍ" (2) . قال الحسن: والله لقد رأيناهم صُوَرًا بلا عُقول، أجسامًا بلا أحلام، فَرَاشَ نارٍ وذِبّانَ طَمَعٍ، يَعْدُون بدرهمينِ ويَرُوحون بدِرهمَينِ، يبيع أحدُهم دينَهُ بِثَمَن العَنْز. ذكرُ أبي واقد الليثي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6263 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6263 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی سعادت حاصل ہوئی، ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرب قیامت میں تاریک رات کی مانند فتنے ہوں گے، حالات ایسے ہو جائیں گے کہ انسان صبح کے وقت مومن ہو گا اور شام کے وقت کافر ہو چکا ہو گا، اور شام کے وقت مومن ہو گا تو صبح کے وقت کافر ہو جائے گا۔ لوگ اپنا دین دنیا کے چند سکوں کے عوض بیچ ڈالیں گے۔ حسن بصری فرماتے ہیں: خدا کی قسم ہم نے ان کو دیکھ لیا ہے، ان کی صرف شکلیں ہیں، ان میں عقل نام کی کوئی چیز نہیں ہے، وہ صرف جسم ہیں ان میں سمجھ بوجھ کچھ نہیں ہے۔ کمینے ہیں، لالچی مکھیوں جیسے ہیں، دو درہموں کے ساتھ صبح کریں گے اور دو درہموں کے ساتھ شام کریں گے، بکری کے ایک بچے کے عوض دین بیچ ڈالیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6393]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6393 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإنَّ الحسن - وهو ابن أبي الحسن البصري. لم يسمع من النعمان بن بشير. وأخرجه أحمد (30 (18404) عن أبي النضر هاشم بن القاسم عن المبارك بن فضالة، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" (دوسرے شواہد کی بنا پر صحیح) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ مخصوص اسناد انقطاع کی وجہ سے "ضعیف" ہے کیونکہ الحسن البصری (حسن بن ابی الحسن) نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (18404) میں ابو النضر ہاشم بن القاسم عن مبارک بن فضالہ کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرج المرفوع منه أيضًا (18439) من طريق يونس بن عبيد، عن الحسن البصري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کا "مرفوع" حصہ بھی امام احمد نے (18439) میں یونس بن عبید عن الحسن البصری کے طریق سے روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث أبي هريرة عند أحمد 13 / (8030) ومسلم (118) وغيرهما.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے جو مسند احمد 13/(8030) اور صحیح مسلم (118) وغیرہ میں موجود ہے۔
وحديث ابن عمر الآتي عند المصنف برقم (8558)، وحديث أنس الآتي برقم (8559)، وحديث أبي موسى الآتي برقم (8564).
🧩 متابعات و شواہد: نیز اس کے شواہد میں حضرت ابن عمر کی حدیث نمبر (8558)، حضرت انس کی حدیث نمبر (8559) اور حضرت ابو موسیٰ اشعری کی حدیث نمبر (8564) شامل ہیں جو آگے آئیں گی۔
وانظر ما سلف برقم (6364).
📖 حوالہ / مصدر: مزید تفصیل کے لیے سابقہ حدیث نمبر (6364) ملاحظہ فرمائیں۔