🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
805. ذكر أبى واقد الليثي رضى الله عنه
سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6397
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثنا ابن جُرَيج، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن نافع بن سَرْجِسَ قال: عُدْنا أبا واقدٍ الليثيَّ في مرضِه الذي مات فيه، ومات فدفَنّاه بمكة في مَقبرة المهاجرين بفَخٍّ. وإنما سُمِّيت مقبرةَ المهاجرين، لأنه دُفِنَ فيها مَن مات ممَّن كان هاجَرَ إلى المدينة ثم حجَّ وجاوَرَ فمات بمكة، فكان يُدفَن في هذه المقبرة، منهم أبو واقدٍ اللَّيثي وعبد الله ابن عمر وغيرُهما، ومات أبو واقدٍ الليثي سنةَ ثماني وستين وهو ابن خمس وثمانين سنةً (1) .
نافع بن سرجس کہتے ہیں: جب سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے، اس وقت ہم لوگ ان کی عیادت کے لئے گئے تھے۔ پھر ان کا انتقال ہو گیا، ہم نے مقام فخ میں مہاجرین کے قبرستان میں ان کی تدفین کی۔ کیونکہ جو شخص ہجرت کر کے مدینہ آتا، پھر حج کرتا اور مکہ میں ہی ٹھہر جاتا اور وہیں فوت ہوتا اس کو اسی قبرستان میں دفن کیا جاتا تھا، ان لوگوں میں سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ، سیدنا عبدللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی ہیں۔ سیدنا ابوواقد کا وصال 68 ہجری کو ہوا، وفات کے وقت ان کی عمر 85 برس تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6397]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6397 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ورواه عن محمد بن عمر الواقديِّ ابنُ سعد في "الطبقات" 5/ 121، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 67/ 279. وبيَّن فيه أنَّ قوله: وإنما سميت مقبرة المهاجرين … " إلى آخره، هو من كلام الواقدي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے محمد بن عمر الواقدی سے ابن سعد نے "الطبقات" 5/ 121 میں روایت کیا ہے اور وہیں سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 67/ 279 میں نقل کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: وہاں یہ صراحت موجود ہے کہ عبارت "وإنما سميت مقبرة المهاجرين..." (اور مہاجرین کے قبرستان کا نام اس لیے رکھا گیا...) سے آخر تک واقدی کا اپنا کلام ہے۔
وأخرج أوله أحمد 36 / (21899) و (21908) من طرق عن ابن جريج، عن ابن خثيم، عن نافع بن سرجس قال: عدنا أبا واقد في وجعه الذي مات فيه، فسمعه يقول: كان النبي ﷺ أخف الناس صلاة على الناس، وأطول الناس صلاة لنفسه. وإسناده حسن من أجل نافع بن سرجس، وقد صرح ابن جريج بسماعه من ابن خثيم.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کا ابتدائی حصہ امام احمد نے 36/(21899 اور 21908) میں ابن جریج عن ابن خثیم کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: نافع بن سرجس بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت ابو واقد رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے جس بیماری میں ان کا انتقال ہوا، تو انہیں یہ فرماتے سنا: "نبی کریم ﷺ لوگوں کو نماز پڑھانے میں سب سے زیادہ ہلکی (مختصر) نماز پڑھاتے تھے اور اپنی ذاتی نماز سب سے طویل پڑھتے تھے"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کا اسناد نافع بن سرجس کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ابن جریج نے ابن خثیم سے اپنے سماع کی صراحت کر دی ہے۔