المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
839. إن الزبير كان عفيفا فى الإسلام ، قانتا لله
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اسلام میں پاکدامن اور اللہ کے فرمانبردار تھے
حدیث نمبر: 6466
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جدي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، حدثني عبد الله بن محمد بن يحيى بن عُروة بن الزُّبير، حدثني هشام بن عُرْوة، عن أبيه قال: خَرَجَت أسماء بنت أبي بكر حين هاجَرَت إلى رسول الله ﷺ وهي حاملٌ بعبد الله بن الزُّبير، فنُفِسَتْه، فأَتَتْ به النبيَّ ﷺ ليُحنِّكَه، فأخذه رسولُ الله ﷺ فَوَضَعَه في حَجْرِه، وأُتِي بتمرة فمَصَّها ثم مَضَعَها، ثم وَضَعَها في فيهِ فحنَّكَه بها، فكان أوَّلَ شيءٍ دخل بطنَه رِيقُ رسول الله ﷺ، قالت: ثم مَسَحَه رسول الله ﷺ وسمَّاه عبدَ الله، ثم جاء بعدُ وهو ابنُ سبع سنين أو ابنُ ثمان سنين ليبايعَ النبي ﷺ، وأَمَره الزُّبير بذلك، فتبسَّم النبيُّ ﷺ حين رآه مُقبلًا وبايعَهَ. وكان أولَ من وُلِدَ في الإسلام بالمدينة مَقدَمَ رسولِ الله ﷺ، وكانت اليهود تقول: قد أخَّذْناهم (1) ، لا يُولَدُ لهم بالمدينة ولدٌ ذكرٌ، فكبَّر أصحابُ رسول الله ﷺ حسين وُلِدَ عبد الله. وقال عبدُ الله بن عمر بن الخطَّاب حين سمع تكبيرَ أهل الشام وقد قَتَلوا عبدَ الله بنَ الزُّبير: الذين كبَّروا على مولدِه، خيرٌ من الذين كبَّروا على قتلِه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6330 - عبد الله بن محمد بن يحيى بن عروة تركه أبو حاتم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6330 - عبد الله بن محمد بن يحيى بن عروة تركه أبو حاتم
ہشام بن عروہ کہتے ہیں: سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا نے ہجرت کی، اس وقت آپ حاملہ تھیں، آپ کے پیٹ میں عبداللہ بن زبیر تھے، جب ولادت ہوئی تو سیدہ اسماء سیدنا عبداللہ بن زبیر کو گھٹی دلانے کے لئے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی گود میں لیا، کھجور چبا کر ان کے منہ میں ڈالی۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے منہ میں سب سے پہلے جو چیز گئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اپنا دست مبارک پھیرا اور ان کا نام ” عبداللہ “ رکھا۔ پھر سیدنا زبیر کے کہنے پر سات یا آٹھ سال کی عمر میں ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کے لئے پیش کیا گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آتے ہوئے دیکھا تو مسکرا دیئے، اور ان کی بیعت لے لی۔ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں یہ سب سے پہلی پیدائش تھی۔ یہودی کہتے تھے: ہم نے ان پر بندش لگا دی ہے، مسلمانوں کے ہاں اولاد نرینہ پیدا نہیں ہو سکتی۔ پھر جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ جب اہل شام نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تو اس وقت ان لوگوں کی تکبیر کی آواز سنی تو سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: جن لوگوں نے ان کی پیدائش پر نعرہ تکبیر لگایا تھا وہ ان کی شہادت پر نعرہ لگانے والوں سے بہت بہتر تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6466]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6466 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) بالتشديد، التأخيذ: وهو فعل السواحر الأُخْذةَ، وهي نوع من الرُّقية يستخدمها السحرةُ لمنع الرجال عن الجماع.
📝 نوٹ / توضیح: "التأخيذ" (تشدید کے ساتھ) جادوگروں کا ایک مخصوص عمل ہے جسے "اُخذہ" کہا جاتا ہے؛ یہ جادو کی ایک قسم ہے جس کے ذریعے مردوں کو مباشرت سے روک دیا جاتا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف بمرَّة من أجل عبد الله بن محمد بن يحيى، فهو ضعيف جدًّا صاحب مناكير، وتركه أبو حاتم الرازي كما قال الذهبي في تلخيصه"، لكنه لم ينفرد بهذا الخبر، وباقي رجال الإسناد لا بأس بهم.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، لیکن یہ مخصوص سند عبداللہ بن محمد بن یحییٰ کی وجہ سے "انتہائی ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مذکورہ راوی منکر روایات بیان کرنے والا ہے، امام ابو حاتم رازی نے اسے چھوڑ دیا تھا؛ تاہم وہ اس خبر کو بیان کرنے میں اکیلا نہیں ہے، اور سند کے دیگر تمام رجال درست ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (14804) -وعنه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (4132) - وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 28/ 154 - 155 من طريقين عن إبراهيم بن المنذر الحزامي، بهذا الإسناد. وأخرجه ابن عساكر 28/ 154 من طريق عتيق بن يعقوب، عن عبد الله بن محمد به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (14804) اور ان سے ابو نعیم (4132) نے، نیز ابن عساکر (28/ 154) نے ابراہیم بن المنذر الحزامی کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ابن عساکر نے عتیق بن یعقوب کے طریق سے بھی اسے نقل کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 44/ (26938)، والبخاري (3909) و (5469)، ومسلم (2146) (24) من طريق أبي أسامة حماد بن أسامة، ومسلم أيضًا (2145) (25) من طريق شعيب بن إسحاق وعلي بن مسهر، ثلاثتهم عن هشام بن عروة، به. لكن لم يذكر أحدٌ منهم قصة التكبير في آخره وقول ابن عمر عند مقتل ابن الزبير.
🧩 متابعات و شواہد: امام احمد (26938)، بخاری (3909، 5469) اور مسلم (2146/ 24) نے ابو اسامہ کے طریق سے، اور مسلم نے دیگر طریقوں سے بھی اسے ہشام بن عروہ سے روایت کیا ہے؛ تاہم ان میں سے کسی نے بھی آخر میں تکبیر کا قصہ اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ذکر نہیں کیا۔
وانظر ما سيأتي برقم (6552).
📌 اہم نکتہ: اس حوالے سے آگے روایت رقم (6552) ملاحظہ فرمائیں۔