المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
841. سبب قتال ابن الزبير مع يزيد
یزید کے ساتھ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے قتال کی وجہ
حدیث نمبر: 6472
أخبرني أبو العبّاس السَّيّاري، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا نافع بن عمر، عن ابن أبي مُلَيكة قال: قال لي عمر بن عبد العزيز: إنَّ في قلبك من ابن الزُّبير، قال: قلت: ما رأيتُ مُناجيًا مثلَه، ولا مصلِّيًا مثله، ولا أخشنَ (2) في ذاتِ الله مثله، ولا أسخى نفسًا منه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6336 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6336 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن عبدالعزیز نے مجھ سے پوچھا: تمہارے دل میں عبداللہ بن زبیر کے بارے میں کیا رائے ہے؟ میں نے کہا: میں نے ان جیسا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑگڑانے والا اور نہ ان جیسا نمازی کسی کو دیکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے معاملے میں ان سے سخت کسی کو نہیں دیکھا اور طبیعت کے لحاظ سے ان سے زیادہ سخی نہیں دیکھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6472]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6472 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) كذا في (ص) و (ب)، وفي (م) و "تلخيص الذهبي": أخشى.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) اور (ب) میں یہ لفظ اسی طرح ہے، جبکہ نسخہ (م) اور ذہبی کی "تلخیص" میں اس کی جگہ "أخشى" (مجھے ڈر ہے) کا لفظ موجود ہے۔
(3) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه مختصرًا أبو نعيم في "الحلية" 1/ 335، و"معرفة الصحابة" (4139)، ومن طريقه ابن عساكر 28/ 171 من طريق أحمد بن سعيد الدارمي، عن علي بن الحسن بن شقيق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: ابونعیم (الحلیہ 1/ 335) اور ابن عساکر (28/ 171) نے اسے احمد بن سعید الدارمی کے طریق سے علی بن الحسن بن شقیق سے اسی سند کے ساتھ مختصراً روایت کیا ہے۔