🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
844. شراب ابن الزبير دم النبى بعد احتجامه
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا نبی کریم ﷺ کے احتجام کے بعد خون پینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6479
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا الأسوَد بن شَيْبان، أخبرنا أبو نَوفَل بن أبي عَقرَب العُرَيجي قال: صَلَبَ الحجّاجُ بنُ يوسف عبدَ الله بنَ الزُّبير على عَقَبة المدينة ليُري (2) ذلك قريشًا، فلما أنْ نَفَروا جعلوا (3) يمرُّون ولا يَقِفون عليه، حتى مرَّ عبدُ الله بن عمر ابن الخطّاب فوقف عليه، فقال: السلامُ عليك أبا حُبَيب - قالها ثلاثَ مرات - لقد نهيتُك عن ذا- قالها ثلاث مرات - لقد كنتَ صوّامًا قوامًا، تَصِلُ الرَّحِمَ. قال: فبَلَغَ الحجَّاجَ موقفُ عبد الله بن عمر، فاستَنزَلَه فرَمَى به في قبور اليهود، وبَعَثَ إلى أسماءَ بنت أبي بكر أن تأتيَه، وقد ذهبَ بصرها، فأبَتْ، فأرسل إليها: لَتَجيئِنَّ أو لأ بعثنَّ إليكِ من يَسحبُكِ بقُرونِك، قالت: واللهِ لا آتيكَ حتى تبعثَ إِليَّ من يَسحَبُني بقُروني، فأتى رسولُه فأخبره، فقال: يا غلامُ، ناوِلْني سِبْتِيَّتيَّ، فناوَله نَعلَيه، فقام وهو يَتوقَّد حتى أتاها، فقال لها: كيف رأيتِ الله صَنَعَ بعدوِّ الله؟ قالت: رأيتُكَ أَفَسَدْتَ عليه دُنْياه، وأفسَدَ عليك آخِرَتك، وأمَّا ما كنتَ تُعيِّرُه بذات النِّطاقَينِ، أَجَلْ لقد كان لي نِطاقانِ: نطاقٌ أُغطِّي به طعامَ رسولَ الله ﷺ من النَّمل، ونِطاقي الآخر لا بُدَّ للنساء منه، وقد سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ فِي ثَقيفٍ كذابًا ومُبِيرًا"، فأما الكذابُ فقد رأَيناه (4) ، وأما المُبِيرُ فأنت ذاكَ، قال: فخرج (1) . وقد صحَّت الرواياتُ بسماع عبد الله بن الزُّبير من رسول الله ﷺ، ودخولِه عليه وخروجِه من عنده وهو ابنُ ثمانِ سنين، وأنا ذاكرٌ بمشيئة الله تعالى في هذا الموضع أخباره التي تدلُّ على ذلك، فإنَّ المخرَّجَ في مُسندِه عن رسول الله ﷺ نيِّفٌ وسبعون حديثًا.
ابونوفل بن ابی عقرب عریجی بیان کرتے ہیں: حجاج بن یوسف نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو مدینہ کے ایک ٹیلے پر سولی لٹکایا ہوا تھا تاکہ قریشی لوگ ان کو دیکھ کر عبرت حاصل کریں۔ اور اس کی بیعت کا اقرار کریں، چنانچہ لوگ وہاں سے گزرنے لگے، کوئی بھی ان کے لاشے کے پاس کھڑا نہیں ہوتا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس سے گزرے تو وہاں کھڑے ہو گئے، اور یوں گویا ہوئے السلام علیک ابا خبیب تین مرتبہ یہ الفاظ دہرائے، پھر کہنے لگے: میں نے تمہیں اس بات سے روکا تھا، (یہ الفاظ بھی تین مرتبہ کہے) پھر فرمایا: بے شک تو روزہ دار تھا، شب زندہ دار تھا، تو صلہ رحمی کرنے والا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے یوں کھڑے ہونے اور ان کو سلام کرنے اور ان کی تعریف کرنے کی باتیں حجاج بن یوسف تک پہنچ گئیں۔ حجاج نے ان کا لاشہ سولی سے اتروا کر یہودیوں کے قبرستان میں پھینکوا دیا، پھر سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا کہ وہ حجاج کے پاس آئیں، اس وقت ان کی بینائی زائل ہو چکی تھی، انہوں نے حجاج کے پاس جانے سے انکار کر دیا، اس نے دوبارہ پیغام بھیجا کہ تم لازمی میرے پاس آؤ، ورنہ میں ایسے آدمی کو تمہارے پاس بھیجوں گا جو تجھے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹے گا۔ سیدہ اسماء نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تیرے پاس نہیں آؤں گی، تم اس آدمی کو بھیجو میرے پاس جو میرے بالوں سے پکڑ کر مجھے گھسیٹے، چنانچہ حجاج کا قاصد ان کے پاس آیا اور سیدہ اسماء کو حجاج کا پیغام دیا۔ سیدہ اسماء نے فرمایا: میری سواری مجھے دو، اس نے اپنا خچر ان کو پیش کر دیا، سیدہ اسماء اس تیز رفتار خچر پر سوار ہو کر حجاج کے پاس آئیں۔ حجاج نے ان سے کہا: تم نے دیکھا اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمن کا کیسا انجام کیا؟ انہوں نے فرمایا: میں نے تجھے دیکھا ہے کہ تو نے اس کی دنیا برباد کر دی اور اپنی آخرت تباہ کر لی۔ اور تو مجھے ذات انطاقتین کی شرم دلایا کرتا تھا؟ جی ہاں۔ میرے دو نطاق ہوا کرتے تھے، ایک نطاق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا چیونٹیوں سے بچا کر رکھتی تھی، اور دوسرا نطاق وہ تھا جو عورتوں کا عموماً ہوتا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ثقیف میں ایک کذاب ہو گا اور ایک ہلاکو ہو گا۔ کذاب کو تو ہم نے دیکھ لیا ہے اور ہلاکو تو ہے ۔ ٭٭ صحیح روایات سے ثابت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کیا ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے جاتے تھے، اس وقت ان کی عمر 8 سال تھی (امام حاکم کہتے ہیں) اس مقام پر میں ان شاء اللہ وہ احادیث نقل کروں گا جن سے یہ سب کچھ ثابت ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ ان کی احادیث کی تعداد ستر کے قریب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6479]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6479 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) كذا في النسخ الخطية و"معجم الطبراني" الكبير، وفي "مشيخة ابن شاذان": ليؤذي، وهو أوجه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں اور طبرانی کی "المعجم الکبیر" میں اسی طرح (لیخزی) مروی ہے، لیکن "مشیخہ ابن شاذان" میں اس کی جگہ "لیؤذی" (تاکہ تکلیف پہنچائے) کے الفاظ ہیں جو کہ سیاق و سباق کے لحاظ سے زیادہ درست معلوم ہوتے ہیں۔
(3) في نسخنا الخطية: فاما ان ىفروا فجعلوا، والمثبت من "المعجم" و "المشيخة".
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے پاس موجود قلمی نسخوں میں یہ عبارت "فاما ان ىفروا فجعلوا" کی صورت میں ہے، جبکہ متن میں درج شدہ درست الفاظ "المعجم الکبیر" اور "المشیخہ" سے لیے گئے ہیں۔
(4) تريد المختار بن أبي عبيد الثقفي، وقد كان يدَّعي أنَّ الوحي يأتيه. انظر "تاريخ الإسلام" للذهبي 2/ 706.
📌 اہم نکتہ: اس سے مراد "مختار بن ابی عبید ثقفی" ہے، جو یہ دعویٰ کرتا تھا کہ اس کے پاس وحی آتی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: دیکھیے امام ذہبی کی "تاریخ الاسلام" جلد 2، صفحہ 706۔
(1) إسناده صحيح علي بن عبد العزيز: هو أبو الحسن البغوي، ومسلم بن إبراهيم: هو الفراهيدي البصري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود علی بن عبد العزیز سے مراد ابو الحسن البغوی ہیں، اور مسلم بن ابراہیم سے مراد مسلم بن ابراہیم الفراہیدی البصری ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (14814)، وابن شاذان في "مشيخته الصغرى" (30) من طريق علي بن عبد العزيز، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (14814) میں اور ابن شاذان نے اپنی "مشیخہ صغریٰ" (30) میں علی بن عبد العزیز کے طریق سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه مسلم (2545) من طريق يعقوب بن إسحاق الحضرمي، عن الأسود بن شيبان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام مسلم نے اپنی "صحیح" (2545) میں یعقوب بن اسحاق الحضرمی کے طریق سے، انہوں نے اسود بن شیبان سے اور انہوں نے اسی سند (بہ) کے ساتھ اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا أحمد 44 / (26974) من طريق هارون بن عنترة، عن أبيه قال: لما قتل الحجاجُ ابنَ الزبير، فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد بن حنبل نے اپنی "مسند" 44 / (26974) میں ہارون بن عنترہ کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد (عنترہ بن عبد الرحمن) سے روایت کیا ہے، وہ بیان کرتے ہیں: "جب حجاج نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا..." پھر انہوں نے مکمل واقعہ ذکر کیا۔
وسيأتي عند المصنف برقم (8815) من حديث أبي الصديق الناجي بالقصة.
📌 اہم نکتہ: یہ پورا قصہ مصنف (امام احمد) کے ہاں آگے چل کر ابو صدیق الناجی کی حدیث سے نمبر (8815) کے تحت آئے گا۔