🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
846. ذِكْرُ شَجَاعَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی شجاعت کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6485
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمّاد بن زيد، حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عبد الله بن الزُّبير قال: كنت أنا وعمرُ بن أبي سَلَمة يوم الخندق على أُطُم، فكان يُطأطئ لي فأنظُرُ إلى القتال، وأُطأطئُ له فينظرُ إلى القتال، فرأيتُ أَبي يَجُولُ في السَّبَخةِ يَكُرُّ على هؤلاء مرةً ويَكُرُّ على هؤلاء مرةً، فلمّا رجع قلت له: يا أبَهْ، قد رأيتُك قال أبي: أيْ بنيَّ، وقد رأيتَني؟ قلت: نعم، قال: قد جَمَعَ لي رسولُ الله ﷺ اليومَ أبَويهِ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6347 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غزوہ خندق کے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ ایک قلعے پر تھے، وہ میرے لیے جھکتے تو میں لڑائی کا منظر دیکھتا اور میں ان کے لیے جھکتا تو وہ لڑائی دیکھتے تھے۔ میں نے اپنے والد (سیدنا زبیر) کو دیکھا کہ وہ شور زدہ زمین میں کبھی ان لوگوں پر حملہ کرتے اور کبھی ان پر۔ جب وہ واپس آئے تو میں نے عرض کیا: اباجان! میں نے آپ کو (لڑتے ہوئے) دیکھا تھا، انہوں نے پوچھا: اے میرے بیٹے! کیا واقعی تم نے مجھے دیکھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے فرمایا: آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے والدین کو جمع کر دیا تھا (یعنی فرمایا تھا: تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6485]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 6485] [ترقيم الشركة 6408] [ترقيم العلميه 6347]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6485 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کا اسناد "صحیح" ہے۔
وأخرجه النسائي (9958) عن محمد بن عبد الله المخرّمي، عن سليمان بن حرب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے اپنی "سنن" (9958) میں محمد بن عبد اللہ المخرمی عن سلیمان بن حرب کی سند سے اسی سابقہ اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 3 / (1409) و (1423)، والبخاري (3720)، ومسلم (2416)، والترمذي (3743)، والنسائي (8156) من طرق عن هشام بن عُرْوة، به. وهو عند الترمذي مختصر. وانظر تمام تخريجه في "مسند أحمد".
📖 حوالہ / مصدر: اسی کے مثل امام احمد نے "مسند" 3 / (1409) و (1423) میں، بخاری نے (3720)، مسلم نے (2416)، ترمذی نے (3743) اور نسائی نے (8156) میں ہشام بن عروہ کے مختلف طرق سے اسے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی کے ہاں یہ روایت مختصر ہے، اور اس کی مکمل تخریج کے لیے "مسند احمد" (کے حواشی) ملاحظہ فرمائیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6485 in Urdu