المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
846. ذِكْرُ شَجَاعَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی شجاعت کا ذکر
حدیث نمبر: 6483
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج [حدثنا محمد بن عمر الواقدي] حدثني عثمان بن محمد العُمَري (4) ، عن عمر بن نافع، عن أبيه، عن ابن عمر أنه قيل له: أيُّ ابنَي الزُّبيرِ كان أشجعَ؟ قال: ما منهما إِلَّا شجاعٌ، كلاهما مَشَى إلى الموت وهو يراه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6346 - في سنده متروك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6346 - في سنده متروك
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: زبیر کے دونوں بیٹوں (عبداللہ اور مصعب) میں سے کون زیادہ بہادر تھا؟ انہوں نے فرمایا: ان میں سے ہر ایک بہادر تھا، وہ دونوں موت کی طرف اس حال میں بڑھے کہ وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6483]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6483] [ترقيم الشركة 6407] [ترقيم العلميه 6346]
حدیث نمبر: 6484
قال ابن عمر: وحدثني أبو القاسم بن علي القُرشي قال: سُئِلَ المهلَّبُ عن الشُّجَعَاءِ فقال: ابنُ الكَلْبية - يعني مصعبَ بن الزُّبير - وأَحَدُ بني تَميم - يعني عمرَ بن عُبيد الله بن مَعمَر - وعبَّادُ بن حُصَين الحَبَطي، فقيل له: فأين أنت عن عبد الله بن الزُّبير وعبد الله بن خازمٍ؟ فقال: إنما كنَّا في ذكر الإنس، ولم نكن في ذِكْر الجنّ (2) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مہلب سے بہادروں کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ابن الکلبیہ (یعنی مصعب بن زبیر)، بنو تمیم کا ایک شخص (یعنی عمر بن عبید اللہ بن معمر) اور عباد بن حصین حبتی۔ ان سے کہا گیا: آپ عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن خازم کو کیوں بھول گئے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہم تو انسانوں کا ذکر کر رہے تھے، ہم جنات کا ذکر نہیں کر رہے تھے (یعنی ان کی بہادری انسانی حدود سے ماورا تھی)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6484]
تخریج الحدیث: «من فوق الواقدي لا بأس بهم، وقد سبق الكلام على سلسلة الإسناد هذه إلى الواقدي برقم (4060).» [ترقيم الرساله 6484] [ترقيم الشركة 6407]
الحكم على الحديث:
من فوق الواقدي لا بأس بهم
حدیث نمبر: 6484M
قال ابن عمر: وقُتِل عبد الله بن الزُّبير ﵁ يومَ الثلاثاء لِتسعَ عشرةَ مضت من جُمادَى الأولى سنة ثلاث وسبعين، حَمَلَ على أهل الشام فرُميَ بآجُرَّةٍ فأصابته في وجهه، فأُرعِشَ ودَمِي، فَسَقَطَ، فأُخبر الحجّاجُ فسجد، ثم جاء حتى وَقَفَ عليه هو وطارقُ بن عمرو، فقال طارق: ما وَلَدَت النساءُ أذكرَ من هذا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما منگل کے دن 19 جمادی الاول 73 ہجری کو شہید کیے گئے۔ انہوں نے اہل شام پر حملہ کیا تو انہیں ایک اینٹ ماری گئی جو ان کے چہرے پر لگی، جس سے وہ تھرتھرائے، خون آلود ہوئے اور گر گئے۔ جب حجاج کو ان کی شہادت کی خبر دی گئی تو اس نے سجدہ کیا، پھر وہ اور طارق بن عمرو آئے اور ان کے پاس کھڑے ہوئے، تو طارق نے کہا: عورتوں نے اس سے زیادہ بہادر مرد پیدا نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6484M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6484M] [ترقيم الشركة 6407]
حدیث نمبر: 6485
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمّاد بن زيد، حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عبد الله بن الزُّبير قال: كنت أنا وعمرُ بن أبي سَلَمة يوم الخندق على أُطُم، فكان يُطأطئ لي فأنظُرُ إلى القتال، وأُطأطئُ له فينظرُ إلى القتال، فرأيتُ أَبي يَجُولُ في السَّبَخةِ يَكُرُّ على هؤلاء مرةً ويَكُرُّ على هؤلاء مرةً، فلمّا رجع قلت له: يا أبَهْ، قد رأيتُك قال أبي: أيْ بنيَّ، وقد رأيتَني؟ قلت: نعم، قال: قد جَمَعَ لي رسولُ الله ﷺ اليومَ أبَويهِ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6347 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6347 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غزوہ خندق کے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ ایک قلعے پر تھے، وہ میرے لیے جھکتے تو میں لڑائی کا منظر دیکھتا اور میں ان کے لیے جھکتا تو وہ لڑائی دیکھتے تھے۔ میں نے اپنے والد (سیدنا زبیر) کو دیکھا کہ وہ شور زدہ زمین میں کبھی ان لوگوں پر حملہ کرتے اور کبھی ان پر۔ جب وہ واپس آئے تو میں نے عرض کیا: اباجان! میں نے آپ کو (لڑتے ہوئے) دیکھا تھا، انہوں نے پوچھا: اے میرے بیٹے! کیا واقعی تم نے مجھے دیکھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے فرمایا: آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے والدین کو جمع کر دیا تھا (یعنی فرمایا تھا: تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6485]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6485]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 6485] [ترقيم الشركة 6408] [ترقيم العلميه 6347]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6486
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد، حدثنا ابن أبي مريم، حدثنا يحيى بن أيوب، عن عُمارة بن غَزِيَّة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه: أنه قال حين قُتِلَ عبدُ الله بن الزُّبير: سمعت عبد الله بن الزُّبير يقول: مَن أَنكَرَ البلاءَ فَإِنِّي لا، أُنكِرُه، لقد ذُكِرَ لى أنَّما قُتِل يحيى بنُ زكريا في زانيةٍ كانت جارية (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد رواه بعض المِصريين عن يحيى ابن أيوب مسنَدًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6348 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد رواه بعض المِصريين عن يحيى ابن أيوب مسنَدًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6348 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما شہید کیے گئے تو انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن زبیر کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص آزمائش کا انکار کرتا ہے وہ کرے، میں اس کا انکار نہیں کرتا، مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ سیدنا یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو ایک بدکار عورت کی وجہ سے قتل کیا گیا جو کہ ایک باندی تھی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور بعض مصریوں نے اسے یحییٰ بن ایوب سے مسنداً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6486]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور بعض مصریوں نے اسے یحییٰ بن ایوب سے مسنداً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6486]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل يحيى بن أيوب: وهو الغافقي المصري. ابن أبي مريم: هو سعيد بن الحكم.» [ترقيم الرساله 6486] [ترقيم الشركة 6409] [ترقيم العلميه 6348]
الحكم على الحديث:
إسناده محتم
حدیث نمبر: 6487
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا العبّاس بن الوليد بن مَزيَد، حدثنا أبي، حدثنا إسماعيل بن عيّاش، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: قال عبد الله بن الزُّبير لعبد الله بن جعفر: أتذكُرُ يومَ استقبَلْنا رسولَ الله ﷺ أنا وأنت، فحَمَلني وترككَ؟ (3)
هذا حديث لهشام بن عُرْوة ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6349 - بل إسماعيل واه
هذا حديث لهشام بن عُرْوة ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6349 - بل إسماعيل واه
سیدنا ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تمہیں وہ دن یاد ہے جب ہم دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی سواری پر بٹھا لیا تھا اور تمہیں چھوڑ دیا تھا؟
یہ ہشام بن عروہ کی حدیث ہے جسے شیخین نے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6487]
یہ ہشام بن عروہ کی حدیث ہے جسے شیخین نے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6487]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، قال الذهبي في "تلخيصه": إسماعيل واه في الحجازيين.» [ترقيم الرساله 6487] [ترقيم الشركة 6410] [ترقيم العلميه 6349]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6488
أخبرني محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أحمد بن بِشْر المَرثَدي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثني عبد الله بن محمد بن يحيى بن عُروة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عبد الله بن الزُّبير قال: وَدِدتُ أن رسول الله ﷺ أعطاني النداءَ، قيل: ولِمَ ذاكَ؟ قال: إنهم أطوَلُ الناس أعناقًا يوم القيامة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قد ذكرتُ في مَقتل عبد الله بن الزُّبير من جُرأة الحجاّج بن يوسف على الله وعلى رسولِه، وتهاوُنِه بالحَرَمَين وأهلِ بيت الصِّدِّيق ﵃، ما يكتفي به العاقلُ من معرفتِه، فاسمع الآنَ أقاويلَ الصحابة والتابعين فيه، وشهادتَهم على سُوء عقيدتِه بعدَ قتلِه عبدَ الله بن عمر بنِ الخطَّاب وعبدَ الله بنَ الزُّبير وسعيدَ بنَ جُبَير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6350 - غير صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قد ذكرتُ في مَقتل عبد الله بن الزُّبير من جُرأة الحجاّج بن يوسف على الله وعلى رسولِه، وتهاوُنِه بالحَرَمَين وأهلِ بيت الصِّدِّيق ﵃، ما يكتفي به العاقلُ من معرفتِه، فاسمع الآنَ أقاويلَ الصحابة والتابعين فيه، وشهادتَهم على سُوء عقيدتِه بعدَ قتلِه عبدَ الله بن عمر بنِ الخطَّاب وعبدَ الله بنَ الزُّبير وسعيدَ بنَ جُبَير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6350 - غير صحيح
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میری یہ تمنا تھی کہ کاش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان دینے کا منصب عطا فرمایا ہوتا۔ ان سے پوچھا گیا: ایسا کیوں؟ انہوں نے فرمایا: اس لیے کہ مؤذن قیامت کے دن سب لوگوں سے لمبی گردنوں والے (ممتاز) ہوں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ (امام حاکم فرماتے ہیں:) میں نے عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے ذکر میں حجاج بن یوسف کی اللہ اور اس کے رسول پر جرات، حرمین کی بے حرمتی اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ کے ساتھ اس کی توہین آمیز روش کا جو تذکرہ کیا ہے وہ ایک عقل مند کے لیے اس کی حقیقت جاننے کو کافی ہے، اب حجاج کے متعلق صحابہ اور تابعین کے اقوال اور اس کے بد عقیدہ ہونے پر ان کی شہادتیں ملاحظہ کریں جو انہوں نے عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر اور سعید بن جبیر کے قتل کے بعد دیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6488]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ (امام حاکم فرماتے ہیں:) میں نے عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے ذکر میں حجاج بن یوسف کی اللہ اور اس کے رسول پر جرات، حرمین کی بے حرمتی اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ کے ساتھ اس کی توہین آمیز روش کا جو تذکرہ کیا ہے وہ ایک عقل مند کے لیے اس کی حقیقت جاننے کو کافی ہے، اب حجاج کے متعلق صحابہ اور تابعین کے اقوال اور اس کے بد عقیدہ ہونے پر ان کی شہادتیں ملاحظہ کریں جو انہوں نے عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر اور سعید بن جبیر کے قتل کے بعد دیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6488]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا،من أجل عبد الله بن محمد بن يحيى، فإنه متروك الحديث كما قال أبو حاتم الرازي فيما نقله عنه ابنه في"الجرح والتعديل" 5/ 158.» [ترقيم الرساله 6488] [ترقيم الشركة 6411] [ترقيم العلميه 6350]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدًّا