🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
846. ذِكْرُ شَجَاعَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی شجاعت کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6486
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد، حدثنا ابن أبي مريم، حدثنا يحيى بن أيوب، عن عُمارة بن غَزِيَّة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه: أنه قال حين قُتِلَ عبدُ الله بن الزُّبير: سمعت عبد الله بن الزُّبير يقول: مَن أَنكَرَ البلاءَ فَإِنِّي لا، أُنكِرُه، لقد ذُكِرَ لى أنَّما قُتِل يحيى بنُ زكريا في زانيةٍ كانت جارية (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد رواه بعض المِصريين عن يحيى ابن أيوب مسنَدًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6348 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما شہید کیے گئے تو انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن زبیر کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص آزمائش کا انکار کرتا ہے وہ کرے، میں اس کا انکار نہیں کرتا، مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ سیدنا یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو ایک بدکار عورت کی وجہ سے قتل کیا گیا جو کہ ایک باندی تھی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور بعض مصریوں نے اسے یحییٰ بن ایوب سے مسنداً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6486]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل يحيى بن أيوب: وهو الغافقي المصري. ابن أبي مريم: هو سعيد بن الحكم.» [ترقيم الرساله 6486] [ترقيم الشركة 6409] [ترقيم العلميه 6348]

الحكم على الحديث:
إسناده محتم

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6486 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده محتمل للتحسين من أجل يحيى بن أيوب: وهو الغافقي المصري. ابن أبي مريم: هو سعيد بن الحكم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کا اسناد "تحسین" (حسن ہونے) کا احتمال رکھتا ہے، جس کی وجہ یحییٰ بن ایوب الغافقی المصری ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود "ابن ابی مریم" سے مراد سعید بن الحکم ہیں۔
وأخرجه دون قصة يحيى بن زكريا: أبو العرب التميمي في كتابه "المحن" ص 213 من طريق ابن لَهِيعة، عن عمارة بن غزية، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے قصے کے بغیر ابو العرب التمیمی نے اپنی کتاب "المحن" (صفحہ 213) میں ابن لہیعہ کے طریق سے، انہوں نے عمارہ بن غزیہ سے اور انہوں نے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6486 in Urdu