المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
846. ذِكْرُ شَجَاعَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی شجاعت کا ذکر
حدیث نمبر: 6488
أخبرني محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أحمد بن بِشْر المَرثَدي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثني عبد الله بن محمد بن يحيى بن عُروة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عبد الله بن الزُّبير قال: وَدِدتُ أن رسول الله ﷺ أعطاني النداءَ، قيل: ولِمَ ذاكَ؟ قال: إنهم أطوَلُ الناس أعناقًا يوم القيامة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قد ذكرتُ في مَقتل عبد الله بن الزُّبير من جُرأة الحجاّج بن يوسف على الله وعلى رسولِه، وتهاوُنِه بالحَرَمَين وأهلِ بيت الصِّدِّيق ﵃، ما يكتفي به العاقلُ من معرفتِه، فاسمع الآنَ أقاويلَ الصحابة والتابعين فيه، وشهادتَهم على سُوء عقيدتِه بعدَ قتلِه عبدَ الله بن عمر بنِ الخطَّاب وعبدَ الله بنَ الزُّبير وسعيدَ بنَ جُبَير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6350 - غير صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قد ذكرتُ في مَقتل عبد الله بن الزُّبير من جُرأة الحجاّج بن يوسف على الله وعلى رسولِه، وتهاوُنِه بالحَرَمَين وأهلِ بيت الصِّدِّيق ﵃، ما يكتفي به العاقلُ من معرفتِه، فاسمع الآنَ أقاويلَ الصحابة والتابعين فيه، وشهادتَهم على سُوء عقيدتِه بعدَ قتلِه عبدَ الله بن عمر بنِ الخطَّاب وعبدَ الله بنَ الزُّبير وسعيدَ بنَ جُبَير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6350 - غير صحيح
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میری یہ تمنا تھی کہ کاش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان دینے کا منصب عطا فرمایا ہوتا۔ ان سے پوچھا گیا: ایسا کیوں؟ انہوں نے فرمایا: اس لیے کہ مؤذن قیامت کے دن سب لوگوں سے لمبی گردنوں والے (ممتاز) ہوں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ (امام حاکم فرماتے ہیں:) میں نے عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے ذکر میں حجاج بن یوسف کی اللہ اور اس کے رسول پر جرات، حرمین کی بے حرمتی اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ کے ساتھ اس کی توہین آمیز روش کا جو تذکرہ کیا ہے وہ ایک عقل مند کے لیے اس کی حقیقت جاننے کو کافی ہے، اب حجاج کے متعلق صحابہ اور تابعین کے اقوال اور اس کے بد عقیدہ ہونے پر ان کی شہادتیں ملاحظہ کریں جو انہوں نے عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر اور سعید بن جبیر کے قتل کے بعد دیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6488]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ (امام حاکم فرماتے ہیں:) میں نے عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے ذکر میں حجاج بن یوسف کی اللہ اور اس کے رسول پر جرات، حرمین کی بے حرمتی اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ کے ساتھ اس کی توہین آمیز روش کا جو تذکرہ کیا ہے وہ ایک عقل مند کے لیے اس کی حقیقت جاننے کو کافی ہے، اب حجاج کے متعلق صحابہ اور تابعین کے اقوال اور اس کے بد عقیدہ ہونے پر ان کی شہادتیں ملاحظہ کریں جو انہوں نے عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر اور سعید بن جبیر کے قتل کے بعد دیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6488]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا،من أجل عبد الله بن محمد بن يحيى، فإنه متروك الحديث كما قال أبو حاتم الرازي فيما نقله عنه ابنه في"الجرح والتعديل" 5/ 158.» [ترقيم الرساله 6488] [ترقيم الشركة 6411] [ترقيم العلميه 6350]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6488 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل عبد الله بن محمد بن يحيى، فإنه متروك الحديث كما قال أبو حاتم الرازي فيما نقله عنه ابنه في"الجرح والتعديل" 5/ 158.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کا اسناد "شدید ضعیف" ہے، جس کی وجہ عبد اللہ بن محمد بن یحییٰ نامی راوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ راوی "متروک الحدیث" ہے جیسا کہ امام ابو حاتم رازی نے فرمایا اور اسے ان کے بیٹے (ابن ابی حاتم) نے اپنی کتاب "الجرح والتعدیل" 5/ 158 میں نقل کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (6309) من طريق إبراهيم بن المنذر الحزامي، عن عبد الله ابن محمد بن يحيي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الاوسط" (6309) میں ابراہیم بن المنذر الحزامی کے طریق سے، انہوں نے عبد اللہ بن محمد بن یحییٰ سے اور انہوں نے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد صح من حديث معاوية بن أبي سفيان مرفوعًا: "المؤذنون أطول الناس أعناقًا يوم القيامة"، أخرجه أحمد 28 / (16861)، ومسلم (387).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ مضمون حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث سے "صحیح" ثابت ہے کہ: "قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں تمام لوگوں سے زیادہ لمبی ہوں گی"۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "مسند احمد" 28 / (16861) میں اور امام مسلم نے اپنی "صحیح مسلم" (387) میں روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6488 in Urdu