المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
858. كان ابن عمر أزهد القوم وأصوبهم رأيا .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سب سے زیادہ زاہد اور درست رائے رکھنے والے تھے
حدیث نمبر: 6513
أخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدَلاني، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا موسى بن إسماعيل، حدثنا سليمان بن المغيرة، عن علي بن زيد، عن يوسف بن مِهْران قال: كنَّا مع جابر بن عبد الله، فقال جابر: إذا سَرَّكم أن تَنظُروا إلى أصحاب محمدٍ ﷺ الذين لم يُغيروا ولم يُبدِّلوا، فانظُروا إلى عبد الله بن عُمر، ما منَّا أحدٌ إِلَّا غَيَّر (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6373 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6373 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب تم کسی ایسے صحابی رسول کو دیکھنا چاہو جو نہ تبدیل ہوا، نہ اپنے نظریات سے پھرا ہو، وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھ لے، ہم میں سے ہر شخص بدل گیا، لیکن آپ نہ بدلے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6513]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6513 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(5) إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد -وهو ابن جُدْعان- وقد تفرَّد بالرواية عن يوسف بن مهران. وأخرجه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (4305) من طريق محمد بن الحسن الأسدي، عن سليمان بن المغيرة بهذا الإسناد. وتحرَّف فيه علي بن زيد إلى: سلمة بن زيد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعیف ہونے کی وجہ علی بن زید (جو کہ ابن جدعان ہے) کا ضعف ہے، مزید یہ کہ وہ یوسف بن مہران سے روایت کرنے میں منفرد ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابونعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (4305) میں محمد بن حسن اسدی کے طریق سے، انہوں نے سلیمان بن مغیرہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، البتہ وہاں "علی بن زید" کا نام تحریف ہو کر "سلمہ بن زید" ہو گیا ہے۔