المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
878. ذكر عبد الله بن أبى أوفى الأسلمي رضى الله عنه
سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6572
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: عبد الله بن أبي أَوفَى، واسمُ أبي أَوفى علقمةُ ابن خالد بن الحارث بن أبي أُسَيد بن رِفَاعة بن ثَعلَبة بن هَوَازَنَ بن أسلمَ بن أَفْصَى، ويُكنى عبدُ الله أبا معاوية، وأولُ مَشهَدٍ شَهِدَه عبد الله بن أبي أَوفى مع رسول الله ﷺ عندنا خَيبَرُ، وما بعد ذلك من المَشاهِد، ولم يَزَلْ عبدُ الله بن أبي أَوفى بالمدينة حتى قُبِضَ رسولُ الله ﷺ فتَحوَّل إلى الكوفة، فنَزَلها حين نَزَلها المسلمون، وابتَنَى بها دارًا في أسلمَ، وكان قد ذهب بصرُه، وتُوفِّي بالكوفة سنة ستٍّ وثمانين.
محمد بن عمر نے آپ کا نسب یوں بیان کیا ہے ” عبداللہ ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے والد ” ابواوفیٰ “ کا نام ” علقمہ بن خالد بن حارث بن ابی اسید بن رفاعہ بن ثعلبہ بن ہوازن بن اسلم بن افصٰی “ ہے۔ ان کی کنیت ” ابومعاویہ “ ہے۔ سیدنا عبداللہ ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سب سے پہلے غزوہ خیبر میں شرکت کی اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں برابر شریک رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال تک آپ مدینہ منورہ میں رہے، اس کے بعد آپ کوفہ میں شفٹ ہو گئے۔ جب مسلمانوں نے وہاں اقامت اختیار کی تو آپ بھی وہاں قیام پذیر ہو گئے، قبیلہ اسلم میں انہوں نے ایک مکان بھی بنایا تھا، آخری عمر میں ان کی بینائی زائل ہو گئی تھی۔ سن 86 ہجری میں کوفہ میں آپ کا انتقال ہوا۔ اسماعیل بن ابی خالد بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ایک زخم دیکھا تو میں نے پوچھا کہ آپ کو یہ زخم کب لگا؟ انہوں نے کہا: جنگ حنین کے موقع پر۔ میں نے پوچھا: کیا آپ نے جنگ حنین میں شرکت کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں (جنگ حنین میں بھی) اور اس سے پہلے کی (بھی کئی) جنگوں میں شریک ہوا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6572]