المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
74. تخليل الأصابع في الوضوء
وضو میں انگلیوں کا خلال کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 660
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أُسَيد بن عاصم، حَدَّثَنَا الحسين بن حفص، عن سفيان. وأخبرنا بكر بن محمد الصَّيرَفي، حَدَّثَنَا عبد الصمد بن الفضل، حَدَّثَنَا قَبِيصة، حَدَّثَنَا سفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبي، حَدَّثَنَا وَكِيع، حَدَّثَنَا سفيان، عن أبي هاشم، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرةً، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا توضَّأتَ فخلِّلِ الأصابع" (1) .
هذا حديث قد احتجَّا بأكثر رُوَاته ثم لم يُخرجاه لتفرُّد عاصم بن لَقِيط بن عامر ابن صَبِرة عن أبيه بالرواية، وقد قدَّمنا القولَ فيه. وله شاهد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 647 - لم يخرجاه لتفرد عاصم بأبيه وله شاهد
هذا حديث قد احتجَّا بأكثر رُوَاته ثم لم يُخرجاه لتفرُّد عاصم بن لَقِيط بن عامر ابن صَبِرة عن أبيه بالرواية، وقد قدَّمنا القولَ فيه. وله شاهد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 647 - لم يخرجاه لتفرد عاصم بأبيه وله شاهد
عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس کے اکثر راوی ثقہ ہیں لیکن شیخین نے اسے عاصم بن لقیط کے تفرد کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 660]
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس کے اکثر راوی ثقہ ہیں لیکن شیخین نے اسے عاصم بن لقیط کے تفرد کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 660]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، سفيان: هو الثوري، وأبو هاشم: هو إسماعيل بن كثير» [ترقيم الرساله 660] [ترقيم الشركة 652] [ترقيم العلميه 647]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 660 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. سفيان: هو الثوري، وأبو هاشم: هو إسماعيل بن كثير.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود 'سفیان' سے مراد سفیان ثوری ہیں، اور 'ابو ہاشم' سے مراد اسماعیل بن کثیر ہیں۔
والحديث في "مسند أحمد" 26/ (16381). وقد سلف برقم (529).
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث 'مسند احمد' 26/ (16381) میں موجود ہے، اور اس سے قبل نمبر (529) پر بھی گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 660 in Urdu