🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

74. تخليل الأصابع في الوضوء
وضو میں انگلیوں کا خلال کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 660
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أُسَيد بن عاصم، حَدَّثَنَا الحسين بن حفص، عن سفيان. وأخبرنا بكر بن محمد الصَّيرَفي، حَدَّثَنَا عبد الصمد بن الفضل، حَدَّثَنَا قَبِيصة، حَدَّثَنَا سفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبي، حَدَّثَنَا وَكِيع، حَدَّثَنَا سفيان، عن أبي هاشم، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرةً، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا توضَّأتَ فخلِّلِ الأصابع" (1) .
هذا حديث قد احتجَّا بأكثر رُوَاته ثم لم يُخرجاه لتفرُّد عاصم بن لَقِيط بن عامر ابن صَبِرة عن أبيه بالرواية، وقد قدَّمنا القولَ فيه. وله شاهد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 647 - لم يخرجاه لتفرد عاصم بأبيه وله شاهد
عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم وضو کرو تو انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس کے اکثر راوی ثقہ ہیں لیکن شیخین نے اسے عاصم بن لقیط کے تفرد کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 660]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 661
أخبرَناه عبد الصمد بن علي بن مُكرَم البزَّاز، حَدَّثَنَا جعفر بن محمد بن شاكر، حَدَّثَنَا سعد بن عبد الحميد بن جعفر، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن موسى بن عُقْبة، عن صالح، عن ابن عباس، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا توضَّأتَ فخلَّلْ أصابعَ يديكَ ورِجليكَ" (2) . صالحٌ هذا أظنُّه مولى التَّوأَمة، فإن كان كذلك فليس من شرط هذا الكتاب، وإنما أخرجته شاهدًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم وضو کرو تو اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان خلال کرو۔
میرا گمان ہے کہ یہ صالح مولیٰ التوامہ ہیں، اگر ایسا ہے تو یہ اس کتاب کی شرط پر نہیں ہے، میں نے اسے صرف بطور شاہد ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 661]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 662
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي، حَدَّثَنَا الحارث بن أبي أسامة، حَدَّثَنَا أبو النَّضر هاشم بن القاسم، حَدَّثَنَا عيسى بن المسيَّب، حَدَّثَنَا أبو زُرْعة، عن أبي هريرة قال: كان رسول الله ﷺ يأتي دار قوم من الأنصار ودونهم دُورٌ لا يأتيها، فشَقَّ ذلك عليهم فقالوا: يا رسول الله، تأتي دارَ فلان ولا تأتي دارَنا؟! فقال النَّبِيّ ﷺ:"إِنَّ في دارِكم كلبًا" قالوا: إنَّ في دارِهم سِنَّورًا، فقال النَّبِيّ ﷺ:"السِّنَّورُ سَبُع" (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک گھر تشریف لائے اور ان کے قریب دوسرے گھروں میں نہیں گئے، ان پر یہ بات گراں گزری تو عرض کی: یا رسول اللہ! آپ فلاں کے گھر تشریف لے گئے لیکن ہمارے ہاں نہیں آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے گھر میں کتا ہے۔ انہوں نے عرض کی: ان کے گھر میں بھی تو بلی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلی درندہ (طہارت والا) ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 662]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 663
حدَّثَناه عمرو بن محمد بن منصور، حَدَّثَنَا محمد بن سليمان بن الحارث، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا عيسى بن المسيَّب. وأخبرني يحيى بن منصور القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا يحيى بن يحيى، أخبرنا وكيع، عن عيسى بن المسيّب بنحوه (2) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وعيسى بن المسيب تفرَّد عن أبي زُرْعة إلّا أنه صدوق ولم يُجرح قطُّ! (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 649 - قال أبو داود ضعيف يعني عيسى بن المسيب وقال أبو حاتم ليس بالقوي
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت مروی ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، عیسیٰ بن مسیب صدوق ہیں اور ان پر کبھی جرح نہیں ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 663]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 664
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُّوري، حَدَّثَنَا الحسن بن الرَّبيع، حَدَّثَنَا أبو الأحوص، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عَلْقمة قال: كنَّا مع سلمان الفارسي في سفر فقَضَى حاجَتَه، فقلنا له: توضَّأْ حتَّى نسألَك عن آيةٍ من القرآن، فقال: سَلُوني، إني لستُ أَمَسُّه، فقرأ علينا ما أرَدْنا، ولم يكن بيننا وبينه ماءٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لتوقيفه، وقد رواه أيضًا جماعة من الثِّقات عن الأعمش عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد عن سلمان:
علقمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، انہوں نے قضائے حاجت کی تو ہم نے ان سے کہا: آپ وضو کر لیں تاکہ ہم آپ سے قرآن کی ایک آیت کے بارے میں پوچھ سکیں، انہوں نے فرمایا: تم مجھ سے پوچھ لو، میں اسے چھو نہیں رہا (صرف پڑھ رہا ہوں) پھر انہوں نے ہمیں وہ پڑھ کر سنائی جو ہم چاہتے تھے، جبکہ ہمارے درمیان پانی موجود نہ تھا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے موقوف ہونے کی وجہ سے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 664]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 665
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا أحمد بن يونس الضَّبِّي، حَدَّثَنَا أبو بدر، شُجَاع، عن الأعمش. وأخبرنا أبو الوليد الفقيه، حَدَّثَنَا الحسن بن سفيان، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن نُمير، حَدَّثَنَا أبي وأبو معاوية، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن سلمان، فذكره بنحوه (2) .
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے بھی نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 665]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں