المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
894. الفرقان هو الشافع والمشفع
قرآن شفاعت کرنے والا بھی ہے اور جس کی شفاعت قبول کی جائے وہ بھی ہے
حدیث نمبر: 6613
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا أحمد بن سَلَمة والحسين ابن محمد بن زياد قالا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحَنظَلي، أخبرنا حمزة بن عُمَير، حدثنا أيوب بن إبراهيم أبو يحيى المعلِّم، حدثنا إبراهيم بن ميمونٍ الصائغ، عن أبي خالد محمد بن خالد الضَّبِّي، عن أبي داود، عن مَعقِل بن يسار المُزَني قال: أمَرَني رسولُ الله ﷺ أن أقضِيَ بين قَوْمي، فقلت: ما أُحسِنُ القضاءَ، قال:"افصِلْ بينَهم"، فقلت: ما أُحسِنُ الفَصْل، فقال:"اقضِ بينَهم، فإنَّ الله تبارك وتعالى مع القاضي ما لم يَحِفْ عَمْدًا" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6470 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6470 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی قوم کے فیصلے کیا کروں۔ میں نے عرض کیا: مجھ سے فیصلہ صحیح نہیں ہو پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں فیصلے کیا کرو، میں نے پھر وہی عرض کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ان میں فیصلے کیا کرو، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت قاضی کے ساتھ ہوتی ہے جب تک کہ وہ جان بوجھ کر جانبداری نہ کرے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6613]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6613 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا، وأبو داود - وهو نفيع بن الحارث الأعمى - متروك الحديث، وكذّبه يحيى بن معين.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کا راوی ابو داود (جس کا نام نفیع بن حارث الاعمٰی ہے) متروک الحدیث ہے، اور امام یحییٰ بن معین نے اسے کذاب (جھوٹا) قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 33/ (20305) من طريق زيد بن أبي أُنيسة، عن أبي داود نفيع بن الحارث، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام احمد نے 33/ (20305) میں زید بن ابی انیسہ کے طریق سے مروی نفیع بن حارث ابو داود سے روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن عبد الله بن أبي أَوفى عن النبيِّ ﷺ قال: "إنَّ الله مع القاضي ما لم يَجُرْ، فإذا جار تبرَّأَ الله منه". وسيأتي عند المصنف برقم (7202)، وإسناده حسن.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ سے بھی نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان مروی ہے: "بیشک اللہ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے، پس جب وہ ظلم (ناانصافی) کرتا ہے تو اللہ اس سے بری ہو جاتا ہے"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت مصنف کے ہاں آگے نمبر (7202) پر آئے گی اور اس کی سند "حسن" ہے۔