🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
894. الفرقان هو الشافع والمشفع
قرآن شفاعت کرنے والا بھی ہے اور جس کی شفاعت قبول کی جائے وہ بھی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6614
حدثنا أبو النَّضْر الفقيه، حدثنا عثمانُ بن سعيد الدارمي وعليُّ بن عبد العزيز، قالا: حدثنا عبد الله بن رَجَاءٍ، أخبرنا عمرانُ القَطَّان، عن عبيد الله بن مَعقِل بن يَسَار المُزَني، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"اعْمَلُوا بكتابِ الله ولا تُكذِّبوا بشيءٍ منه، فما اشتَبَهَ عليكم منه، فاسأَلوا عنه أهلَ العِلْم يُخبروكم، وآمِنوا بالتوراة والإنجيل، وآمنوا بالفُرْقان فإنَّ فيه البيانَ، وهو الشافعُ وهو المُشفَّعُ، والماحِلُ والمصدَّقُ" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6471 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عبیداللہ بن معقل بن یسار مزنی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کتاب اللہ پر عمل کرو، اس میں سے کسی چیز کو بھی مت جھٹلاؤ، جس مسئلہ میں شک و شبہ واقع ہو اس کے بارے میں اہل علم سے دریافت کر لو، وہ جو بتائیں اس پر عمل کرو، تورات اور انجیل کو برحق مانو اور قرآن کریم پر ایمان لاؤ کیونکہ اس میں ہر چیز کا واضح بیان موجود ہے، قرآن کریم شافع اور مشفع ہے، قرآن حامی ہے اور تصدیق شدہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6614]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6614 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لجهالة عبيد الله بن معقل بن يَسَار، فلم نقف له على ترجمة أو ذكرٍ في غير هذا الحديث، والراوي عنه عمران بن داور القطان ليس بذاك القوي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعیف ہونے کی وجہ عبید اللہ بن معقل بن یسار کی جہالت ہے، کیونکہ ہمیں اس حدیث کے علاوہ ان کا کوئی تذکرہ یا حالاتِ زندگی (ترجمہ) نہیں مل سکے۔ مزید برآں، ان سے روایت کرنے والے راوی عمران بن داور القطان بھی زیادہ قوی نہیں ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 20 / (512) عن علي بن عبد العزيز وحده، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" 20 / (512) میں صرف علی بن عبد العزیز کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد سلف نحوه ضمن حديث أبي المليح عن معقل بن يَسَار برقم (2114)، وإسناده ضعيف جدًّا.
📝 نوٹ / توضیح: اس طرح کی روایت پہلے بھی ابو الملیح عن معقل بن یسار کی حدیث کے ضمن میں نمبر (2114) پر گزر چکی ہے، اور اس کی سند سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے۔