المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
898. هِجَاءُ كَعْبٍ لِلْأَنْصَارِ لِمَا كَانَ صَنَعَ صَاحِبُهُمْ
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کا انصار کی ہجو کرنا اس واقعے کی بنا پر جو ان کے ساتھی نے کیا
حدیث نمبر: 6623
كما حدَّثَناه أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق (ح) وأخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيهُ وعلي بن الفضل بن محمد بن عَقِيل الخُزَاعي (1) - واللفظُ لهما - قالا: أخبرنا أبو شعيب الحرَّاني، حدثنا أبو جعفر النُّفَيلي، حدثنا محمد بن سَلَمة، عن محمد بن إسحاق قال: لمّا قَدِمَ رسولُ الله ﷺ المدينةَ مُنصَرَفَه من الطائف، وكَتَبَ بُجَيرُ بن زهير بن أبي سُلْمى إلى أخيه كعب ابن زهير بن أبي سُلمى يخبرُه: أن رسول الله ﷺ قَتَل رجلًا بمكة ممَّن كان يَهجُوه ويُؤذيه، وأنه بَقِيَ من شُعراء قريشٍ ابنُ الزِّبَعرَى وهُبَيرة بن أبي وهب قد هربوا في كل وجهٍ، فإن كانت لك في نفسِك حاجةٌ فطِرْ إلى رسول الله ﷺ، فإنه لا يَقتُلُ أحدًا جاءَ تائبًا، وإن أنت لم تَفعْل فانْجُ بنفسِك إلى نَجَايتِك. وقد كان كعبٌ قال أبياتًا نالَ فيها من رسول الله ﷺ حتى رُوِيَت عنه وعُرِفَت، وكان الذي قال: ألَا إيلِغا عني بُجَيرًا رسالةً … وهلْ لك فيما قُلتَ وَيلك هلْ لَكَا فخبَّرتَني إن كنتَ لستَ بفاعلٍ … على أي شيءٍ وَيْحَ غيرِكَ دلَّكَا على خُلُقٍ لم تُلف أمًّا ولا أبًا … عليه ولم تُلْفِ عليه أبًا لَكَا فإنْ أنت لم تَفعلْ فلستُ بآسِفٍ … ولا قائلٍ لمَّا عَشَرتَ لَعالَكَا سَقَاكَ بها المأمونُ كأسًا رَوِيَّةً … فَأَنْهَلَكَ المأمونُ منها وعَلَّكَا قال: وإنما قال كعبٌ: المأمونُ، لقول قريش لرسول الله ﷺ وكانت تقولُه، فلما بَلَغَ كعبًا ذلك ضاقَتْ به الأرضُ وأشفَقَ على نفسه، وأَرجَفَ به مَن كان في حاضرِه من عدوِّه، قال: هو مقتولٌ، فلما لم يَجِدْ من شيءٍ بُدًّا، قال قصيدتَه التي يَمدَحُ فيها رسولَ الله ﷺ؛ وذَكَر خوفَه وإرجافَ الوُشَاةِ به من عندَه (1) ، ثم خرج حتى قَدِمَ المدينة، فنَزَلَ على رجل كانت بينه وبينه معرفةٌ من جُهَينة - كما ذُكِرَ لي - فغَدًا به إلى رسول الله ﷺ حين صَلَّى الصبح، فصلَّى مع الناس، ثم أشارَ له إلى رسول الله ﷺ فقال: هذا رسولُ الله ﷺ، فقُمْ إليه. فذُكِرَ لي: أنه قام إلى رسول الله ﷺ حتى وَضَعَ يَده في يدِه، وكان رسول الله ﷺ لا يعرفُه، فقال: يا رسول الله، إنَّ كعب بن زهير جاء ليستأمِنَ منك تائبًا مسلمًا، هل قابلٌ منه إن أنا جئتُك به؟ فقال رسول الله ﷺ:"نعم" فقال: يا رسول الله، أنا كعبُ بنُ زهير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6480 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6480 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن اسحاق سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے واپسی پر مدینہ منورہ تشریف لائے، تو بجیر بن زہیر بن ابی سلمیٰ نے اپنے بھائی کعب بن زہیر بن ابی سلمیٰ کو خط لکھا جس میں انہیں یہ خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں ایک ایسے شخص کو قتل کروا دیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو (مذمت) کرتا اور آپ کو ایذا پہنچاتا تھا، اور قریش کے شعراء میں سے ابن زبعریٰ اور ہبیرہ بن ابی وہب ہر سمت بھاگ نکلے ہیں، چنانچہ اگر تمہیں اپنی جان کی فکر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں تیزی سے پہنچ جاؤ، کیونکہ وہ کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرتے جو تائب ہو کر (توبہ کر کے) آ جائے، اور اگر تم ایسا نہیں کر سکتے تو پھر جہاں تمہارا بچاؤ ہو سکے وہاں بھاگ جاؤ۔ کعب بن زہیر نے اس سے قبل کچھ ایسے اشعار کہے تھے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کی تھی یہاں تک کہ وہ اشعار مشہور ہو گئے تھے، انہوں نے اپنے بھائی بجیر کے اسلام لانے پر جو اشعار کہے تھے ان کا مفاد یہ تھا: ”بھلا میری طرف سے بجیر کو یہ پیغام پہنچا دو، کیا تمہارا اس بات میں کوئی فائدہ ہے جو تم نے کہی ہے؟ تم نے مجھے خبر دی ہے کہ تم نے وہ کام کر لیا ہے، تو آخر تمہیں کس چیز نے اس راہ پر ڈالا؟ ایسے اخلاق پر جس پر نہ تم نے اپنے ماں باپ کو پایا اور نہ ہی تمہارے بڑوں نے اپنے اسلاف کو اس پر پایا، اگر تم نے ایسا نہ کیا ہوتا تو میں رنجیدہ نہ ہوتا، اور نہ ہی تمہارے ٹھوکر کھانے پر یہ کہتا کہ کاش تم بلند ہوتے، تمہیں اس ’مامون‘ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ایسا پیالہ پلایا ہے جس نے تمہیں سیراب کر دیا ہے اور بار بار پینے کے باوجود تمہاری پیاس نہیں بجھ رہی۔“ راوی کہتے ہیں کہ کعب نے لفظ «المأمون» (امانت دار) اس لیے استعمال کیا تھا کیونکہ قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی لقب سے پکارا کرتے تھے، پھر جب کعب کو یہ خط ملا تو ان پر زمین تنگ ہو گئی اور وہ اپنی جان کے بارے میں سخت خوفزدہ ہو گئے، اور ان کے پاس موجود دشمنوں نے یہ افواہیں پھیلانا شروع کر دیں کہ ”وہ تو اب مارا جائے گا“، جب انہیں کوئی راستہ نہ ملا تو انہوں نے وہ مشہور قصیدہ (بانث سعاد) لکھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کی اور اس میں اپنے خوف اور چغل خوروں کی افواہوں کا تذکرہ کیا۔ پھر وہ وہاں سے نکل کر مدینہ منورہ پہنچے اور قبیلہ جہینہ کے ایک شخص کے ہاں قیام کیا جس سے ان کی جان پہچان تھی، وہ شخص صبح کی نماز کے وقت انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گیا، انہوں نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کی، پھر اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کر کے کہا: ”یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ان کے پاس جاؤ۔“ مجھے بتایا گیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے یہاں تک کہ اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک میں دے دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پہچانتے نہیں تھے، کعب نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کعب بن زہیر تائب ہو کر اور مسلمان ہو کر آپ سے امان مانگنے آیا ہے، کیا آپ اس کی توبہ قبول فرمائیں گے اگر میں اسے آپ کے پاس لے آؤں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں“، تب انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں ہی کعب بن زہیر ہوں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6623]
تخریج الحدیث: «إسناده إلى ابن إسحاق بطريقيه صحيح، وفي أثناء الخبر ما يفيد أنَّ ابن إسحاق أخذه عن عاصم بن عمر بن قتادة الأنصاري، ورواية عاصم للخبر مرسلة، فهو تابعي روى عن بعض الصحابة وأبناء الصحابة، وهو ثقة عالم عارف بالمغازي والسير، وكان ابن إسحاق يعتمد عليه كثيرًا في "مغازيه".» [ترقيم الرساله 6623] [ترقيم الشركة 6544] [ترقيم العلميه 6480]
الحكم على الحديث: إسناده إلى ابن إسحاق بطريقيه صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6623 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الجراحي. وانظر ترجمته في "تاريخ الإسلام "للذهبي 8/ 117، وكذا ترجمة ابنه محمد فيه 8/ 758.
🔍 فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں یہاں "الجراحي" تحریف ہو گئی ہے۔ ان کے حالاتِ زندگی کے لیے امام ذہبی کی "تاریخ الاسلام" 8/ 117 اور ان کے بیٹے محمد کے حالات کے لیے اسی کتاب کی جلد 8 صفحہ 758 ملاحظہ کریں۔
(1) كذا في رواية محمد بن سلمة عن ابن إسحاق، وفي "سيرة ابن هشام" -وهي من رواية زياد البكائي عن ابن إسحاق- 2/ 503: من عدوّه، وهي أوجُه.
🧾 تفصیلِ روایت: محمد بن سلمہ کی ابن اسحاق سے روایت میں اسی طرح ہے، جبکہ "سیرت ابنِ ہشام" (جو کہ زیاد البکائی عن ابن اسحاق کی روایت ہے) 2/ 503 میں "من عدوّہ" کے الفاظ ہیں، اور یہ زیادہ قرینِ قیاس ہے۔
(1) في النسخ الخطية: قيل، والصواب ما أثبتنا. وهو أمر من القيلولة: وهي الاستراحة عند شدّة الحرِّ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں یہاں "قيل" لکھا تھا، جبکہ صحیح وہی ہے جو ہم نے متن میں درج کیا ہے۔ یہ لفظ "قیلولہ" سے امر کا صیغہ ہے، جس کے معنی سخت گرمی کے وقت آرام کرنے کے ہیں۔
(2) كذا وقع في النسخ، وفي الرواية التي سبقت عند المصنف، وكذا في "جمهرة أشعار العرب" لأبي زيد القرشي ص 637: تخليط وتزييل، وهو الذي شرح عليه ابن الأثير في "النهاية" مادة (زول) فقال: يريد أنَّ لوامع السراب تبدو دون حداب الأرض، فترفعها تارة وتخفضها أخرى.
📝 نوٹ / توضیح: تمام نسخوں میں اسی طرح واقع ہوا ہے اور مصنف کے ہاں سابقہ روایت میں بھی یہی ہے، نیز ابوزید قرشی کی "جمهرة أشعار العرب" ص 637 میں "تخلیط وتزييل" کے الفاظ ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: ابن اثیر نے "النهاية" (مادہ: زول) میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مراد سراب (دھوپ کی چمک) کا زمین کی بلندیوں کے سامنے ظاہر ہونا ہے، جو اسے کبھی بلند اور کبھی پست دکھاتا ہے۔
(1) في (م) و (ب): خيار، بمثناة من تحت، وأُهملت في (ص). والخَبَار: الأرض الليِّنة الرخوة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (م) اور (ب) میں لفظ "خیار" (نیچے دو نقطوں والی یاء کے ساتھ) لکھا ہے، جبکہ نسخہ (ص) میں اس پر نقطے نہیں لگائے گئے۔ 📝 نوٹ / توضیح: "الخَبَار" کے معنی ایسی نرم اور بھربھری زمین کے ہیں جس میں پاؤں دھنس جائیں۔
(2) كذا في النسخ الخطية، والمتقادم: القديم. ولعلها محرفة عن: متقاذف، فإنَّ الفرس عند العرب يوصف بذلك، فيقولون: فرس متقاذف، أي: سريع العَدْو، وبذلك جاء وصفه في شعر جرير حيث قال:
🔍 فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں "المتقادم" درج ہے جس کے معنی قدیم کے ہیں۔ بظاہر یہ "متقاذف" کی تحریف ہے کیونکہ عربی کلام میں گھوڑے کی صفت اسی طرح بیان کی جاتی ہے، یعنی "فرس متقاذف" جس کے معنی تیز رفتار گھوڑے کے ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: جریر کے شعر میں بھی اسی طرح وصف مروی ہے۔
متقاذفٍ تَلِعٍ كأَنَّ عَنانَهُ … عَلَقٌ بأجردَ من جذوع أوَالِ
📝 نوٹ / توضیح: (یہ جریر کے شعر کا حصہ ہے جس میں گھوڑے کی تیزی اور گردن کی طوالت کا ذکر ہے)۔
والتَّلِع: طويل العُنق غليظٌ أصله.
📝 نوٹ / توضیح: "التَّلِع" اس گھوڑے یا جانور کو کہتے ہیں جس کی گردن لمبی اور اس کی جڑ (گردن کا نچلا حصہ) موٹی ہو۔
(3) إسناده إلى ابن إسحاق بطريقيه صحيح، وفي أثناء الخبر ما يفيد أنَّ ابن إسحاق أخذه عن عاصم بن عمر بن قتادة الأنصاري، ورواية عاصم للخبر مرسلة، فهو تابعي روى عن بعض الصحابة وأبناء الصحابة، وهو ثقة عالم عارف بالمغازي والسير، وكان ابن إسحاق يعتمد عليه كثيرًا في "مغازيه".
⚖️ درجۂ حدیث: ابن اسحاق (محمد بن اسحاق بن يسار) تک دونوں طریقوں سے یہ سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: خبر کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن اسحاق نے اسے عاصم بن عمر بن قتادہ انصاری سے حاصل کیا ہے، اور عاصم کی یہ روایت "مرسل" ہے کیونکہ وہ تابعی ہیں جنہوں نے بعض صحابہ اور ابنائے صحابہ سے روایت کی ہے۔ 📌 اہم نکتہ: عاصم ثقہ عالم اور مغازی وسیرت کے ماہر تھے، اور ابن اسحاق اپنی کتاب "مغازی" میں ان پر بہت زیادہ اعتماد کرتے تھے۔
والحديث في "سيرة ابن هشام" (2/ 501 - 514 برواية زياد البكائي عن ابن إسحاق.
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث "سیرت ابن ہشام" 2/ 501-514 میں زیاد البکائی عن ابن اسحاق کی روایت سے موجود ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 19/ (403)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (1248) من طريق أبي شعيب الحراني -واسمه عبد الله بن الحسن بن أحمد- بإسناده. وأبو جعفر النفيلي: اسمه عبد الله بن محمد بن علي بن نُفيل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الکبیر" 19/ (403) اور ابونعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (1248) میں ابو شعیب الحرانی (جن کا نام عبد اللہ بن حسن بن احمد ہے) کی سند سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: سند میں موجود ابو جعفر النفیلی کا پورا نام عبد اللہ بن محمد بن علی بن نفیل ہے۔
حدیث نمبر: 6623M
قال ابن إسحاق: فحدَّثَني عاصمُ بن عمر بن قَتاَدة قال: وَثَبَ عليه رجلٌ من الأنصار وقال: يا رسول الله، دَعْني وعدوَّ الله أضرِبْ عنقَه، فقال رسول الله ﷺ:"دَعُهُ عنكَ، فإنه قد جاء تائبًا نازعًا، فغَضِبَ كعبٌ على هذا الحيِّ من الأنصار لِمَا صَنَعَ به صاحبُهم، وذلك أنه لم يكن يتكلَّمُ رجلٌ من المهاجرين فيه إلَّا بخير. فقال قصيدتَه التي قال حين قَدِمَ على رسول الله ﷺ: بانت سعادُ … فذكر القصيدة إلى آخرها، وزاد فيها: تَرمِي الفِجاجَ بعَينَيْ مُفرَدٍ لَهِقٍ … إذا توقَّدَتِ الحِزّانُ فالمِيلُ ضخمٌ مُقلَّدُها فَعْمٌ مقيَّدُها … في خَلْقِها عن بناتِ الفَحلِ تفضيلُ تَهْوي على يَسَراتٍ وهْيَ لاهيةٌ … ذَوابلٍ وَقْعُهُنَّ الأرضَ تحليلُ وقال للقوم حادِيهِمْ وقد جَعَلَت … وُرْقُ الجنادبِ يَركُضنَ الحَصى قِيلُوا (1) لمَّا رأيتُ حِدَابَ الأَرضِ يَرفعُها … مع اللَّوامعِ تخليطٌ وتَرجيلُ (2) وقال كلُّ صديق كنتُ آملُهُ … لا أُلفِيَنَّكَ إني عنك مشغولُ إذا يُساوِرُ قِرْنًا يَحِلُّ لهُ … أن يَترُكَ القِرنَ إِلَّا وَهُوَ مغلولُ قال عاصم بن عمر بن قَتَادة: فلما قال: إذا عرَّد السُّودُ التنابيلُ، وإنما يريد معاشرَ الأنصار، لِمَا كان صَنَعَ صاحبُهم، وخَصَّ المهاجرين من أصحاب رسول الله ﷺ من قريشٍ بمديحه، غَضِبَت عليه الأنصار، فقال بعد أن أسلمَ وهو يمدحُ الأنصار ويَذكُر بَلاءَهم مع رسول الله ﷺ وموضعهم من اليُمْن، فقال: مَن سَرَّه كَرَمُ الحياة فلا يَزَلْ … في مِقْنَبٍ من صالحِ الأنصارِ وَرِثُوا المكارمَ كابرًا عن كابرٍ … إنَّ الخِيارَ همْ بنو الأخيارِ الباذلين نفوسَهم لنبيِّهمْ … عندَ الهِيَاجِ ووَقْعةِ الجبّارِ والناظرينَ بأعيُنٍ مُحمَرَّةٍ … كالجَمْرِ غيرِ كَلِيلة الأبصارِ المُكرِهِينَ السَّمْهريَّ بأذرُعٍ … كسَوَاقلِ الهِنديِّ غيرِ قِصَارِ وهُمُ إذا خَبَتِ النجومُ وغوَّرَتْ … للطائفينَ الطارِقينَ مَقَارِي الذائدِين الناسَ عن أديانِهمْ … بالمَشرَفيِّ وبالقَنَا الخَطَّارِ حتي استقاموا والرِّماحُ تَكبُّهمْ … في كلِّ مَجهَلةٍ وكلِّ خَبَارِ (1) للحقِّ إِنَّ الله ناصرُ دينِهِ … ونبيِّهِ بالحقِّ والإنذارِ والمُطعِمِينَ الضَّيف حين يُنُوبُهُمْ … من شَحْمِ كُومٍ كالهِضَابِ عِشَارِ والمُقدِمِينَ إذا الكُمَاةُ تَواكَلَتْ … والضارِبينَ الناسَ في الأَعصارِ يَسعَونَ للأَعْدا بكلِّ طِمِرَّةٍ … وأَقَبَّ مُعتدل التَّليلِ مُطَارِ مُتقادِمٍ (2) تَلِعٍ أَجَشَّ صَهِيلُهُ … كالسيفِ يَهدِمُ حَلْقَه بسِوَارِ دَرِبُوا كما دَرِبَت ببَطْنِ خَفِيّةٍ … غُلْبُ الرِّقابِ من الأُسودِ ضَوَارِي وكُهولِ صِدْقٍ كالأُسودِ مَصَالِتٍ … وبكلِّ أغبَرَ مُدرَكِ الأوتارِ وبمُترصَاتٍ كالثِّقَافِ نَواهِلٍ … يُشفَى الغليلُ بها من الفُجَّارِ ضَربَوا علينا يوم بدرٍ ضربةً … دانَتْ لوَقعَتِها جُموعُ نِزَارِ لا يَشتكُون الموتَ إن نَزَلَت بهمْ … حَرْباءُ ذاتُ مَغاوِرٍ وأُوارِ يَتطهَّرون كأنَّه نُسُكٌ لهمْ … بدماءِ مَن عَلِقوا من الكُفَّارِ وإذا أَتيتَهمُ لتَطلُبَ نصرَهمْ … أصبحتَ بين مَغَافِرٍ وعِفَارِ يَحْمونَ دينَ اللهِ إنَّ لِدينِهِ … حقًّا بكلِّ مغَوِّرٍ مِغوارِ لو تَعلمُ الأقوامُ عِلْمي كلَّهُ … فيهمْ لصدَّقَني الذين أُمَارِي (3) ذكرُ قُرَّة بن إياس، أبو معاوية المُزَني ﵁-
محمد بن اسحاق سے روایت ہے کہ عاصم بن عمر بن قتادہ نے مجھے بیان کیا، انہوں نے کہا: (جب کعب بن زہیر نے اپنا نام ظاہر کیا تو) انصار میں سے ایک شخص ان پر جھپٹا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے چھوڑئیے تاکہ میں اس اللہ کے دشمن کی گردن اڑا دوں“، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے رہنے دو، کیونکہ یہ تائب ہو کر اور (گناہوں سے) باز آ کر آیا ہے“، اس پر کعب انصار کے اس قبیلے سے ناراض ہو گئے کیونکہ ان کے ایک ساتھی نے ان کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا، جبکہ مہاجرین میں سے جس نے بھی ان کے بارے میں بات کی تو بھلائی ہی کی، چنانچہ انہوں نے وہ قصیدہ پڑھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے وقت کہا تھا: ”سعاد جدا ہو گئی“، پھر انہوں نے آخر تک قصیدہ ذکر کیا اور اس میں یہ اضافہ بھی کیا: ”وہ (اونٹنی) لق و دق صحراؤں میں تنہا سفید گورخر جیسی آنکھوں سے دیکھتی ہے، جب تپتی ہوئی زمین آگ کی طرح دہکنے لگے اور میل کے نشانات بڑے نظر آنے لگیں، اس کی گردن لمبی اور بندھن مضبوط ہیں، اور اس کی تخلیق میں دیگر اونٹنیوں پر فضیلت نمایاں ہے، وہ اپنی پھرتیلی ٹانگوں پر اس طرح سبک رفتاری سے دوڑتی ہے کہ گویا زمین پر اس کے قدموں کی چاپ اللہ کی تسبیح ہو، جب ٹڈیاں گرم پتھروں پر اچھلنے لگیں تو ان کے حدی خوان (ساربان) نے ساتھیوں سے کہا کہ دوپہر کا قیلولہ کر لو، جب میں نے دیکھا کہ زمین کے ٹیلے سراب کی چمک کے ساتھ اوپر اٹھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، اور ہر وہ دوست جس سے میں امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھا کہنے لگا: ”میں تم سے دور ہی رہوں گا کیونکہ میں اپنے کاموں میں مصروف ہوں“، (ایسا بہادر) کہ جب وہ اپنے مدِ مقابل پر حملہ کرتا ہے تو اس کے لیے یہ جائز ہی نہیں کہ وہ اسے بیڑیاں پہنائے بغیر چھوڑ دے۔“ عاصم بن عمر بن قتادہ کہتے ہیں: جب کعب نے اپنے اشعار میں یہ کہا: «إِذَا عَرَّدَ السُّودُ التَّنَابِيلُ» ”جب پست قد اور سیاہ فام لوگ بھاگ کھڑے ہوں“، تو ان کی مراد انصار کی جماعت تھی کیونکہ ان کے ایک ساتھی نے ان کے ساتھ سختی کی تھی، اور انہوں نے اپنی مدح میں قریش کے مہاجرین صحابہ کو خاص کیا تھا، اس پر انصار ان سے ناراض ہو گئے، چنانچہ اسلام لانے کے بعد انہوں نے انصار کی مدح میں اشعار کہے جن میں ان کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جھیلی گئی تکالیف اور ان کی برکات کا تذکرہ کیا، انہوں نے کہا: ”جسے پاکیزہ زندگی کی شرافت پسند ہو تو اسے چاہیے کہ وہ ہمیشہ نیکوکار انصار کے لشکر میں رہے، وہ شرافت و بزرگی کے وارث اپنے بڑوں سے باری باری ہوئے ہیں، بے شک بہترین لوگ وہی ہیں جو بہترین لوگوں کی اولاد ہیں، وہ جنہوں نے جنگ کی شدت اور دشمن کے حملے کے وقت اپنی جانیں اپنے نبی پر نچھاور کر دیں، وہ جو (دشمن کو) ایسی سرخ آنکھوں سے دیکھتے ہیں جیسے دہکتے ہوئے انگارے ہوں جن کی بینائی کبھی کمزور نہیں پڑتی، وہ جو اپنے مضبوط بازوؤں سے خطی نیزوں کو دشمن کے سینوں میں اتار دیتے ہیں جیسے ہندی تلواروں کے دستے مضبوط ہوتے ہیں، اور جب ستارے مدھم پڑ جائیں اور غروب ہو جائیں تو وہ رات کے وقت آنے والے مسافروں کے لیے ضیافت گاہیں سجاتے ہیں، وہ لوگوں کو ان کے غلط ادیان سے مشرفی تلواروں اور لرزتے ہوئے نیزوں کے ذریعے دور کرنے والے ہیں، یہاں تک کہ وہ لوگ سیدھے راستے پر آ گئے جبکہ نیزے انہیں ہر نامعلوم راستے اور نرم زمین پر گرا رہے تھے، یہ سب حق کی خاطر تھا کیونکہ اللہ اپنے دین اور اپنے نبی کی حق اور ڈرانے والے کلام کے ساتھ نصرت فرمانے والا ہے، وہ مہمان کو اس وقت کھانا کھلاتے ہیں جب ان پر ضرورت پڑتی ہے اور بڑے کوہان والے فربہ اونٹوں کی چربی پیش کرتے ہیں، وہ اس وقت پیش قدمی کرتے ہیں جب بڑے بہادر ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر رک جاتے ہیں اور وہ ہر دور میں لوگوں پر (دشمنوں پر) ضرب لگانے والے ہیں، وہ دشمنوں کی طرف ہر اس گھوڑے پر سوار ہو کر لپکتے ہیں جو نہایت تیز رفتار، پتلی کمر والا، لمبی گردن والا اور پھرتیلا ہو، وہ جنگوں کے ایسے عادی ہیں جیسے مقامِ خفيہ کے گھنے جنگلوں کے بپھرے ہوئے شیر عادی ہوتے ہیں، وہ سچے ادھیڑ عمر لوگ ایسے ہیں جیسے نیام سے نکلی ہوئی تلواریں ہوں اور ہر اس غبار آلود شخص کی طرح جو اپنے انتقام کو پورا کرنے والا ہو، ان کے پاس ایسے مضبوط ہتھیار ہیں جو سیدھے اور پیاسے ہیں جن کے ذریعے فاجروں کے سینوں کی پیاس بجھائی جاتی ہے، انہوں نے بدر کے دن ہم پر (دشمن پر) ایسی ضرب لگائی کہ نزار کے تمام لشکر اس واقعے کے سامنے جھک گئے، جب میدانِ جنگ میں غبار اڑ رہا ہو اور آگ برس رہی ہو تو وہ موت کی شکایت نہیں کرتے، وہ (جنگ میں) کفار کے خون سے اس طرح پاکیزگی حاصل کرتے ہیں جیسے یہ ان کے لیے کوئی عبادت ہو، اور جب تم ان کے پاس ان کی نصرت طلب کرنے جاؤ گے تو تم خود کو آہنی ٹوپوں اور غبار کے درمیان پاؤ گے، وہ اللہ کے دین کی حفاظت کرتے ہیں کیونکہ اس کے دین کا ہر بہادر اور حملہ آور پر حق ہے، اگر تمام لوگ میرا ان کے بارے میں مکمل علم جان لیں تو وہ لوگ بھی میری تصدیق کریں جن سے میرا مناظرہ ہے۔“
سیدنا قرہ بن ایاس ابو معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6623M]
سیدنا قرہ بن ایاس ابو معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6623M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6623M] [ترقيم الشركة 6544]
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6623 in Urdu