المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
899. ذِكْرُ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ أَبُو مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا قرہ بن ایاس ابو معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6623
كما حدَّثَناه أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق (ح) وأخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيهُ وعلي بن الفضل بن محمد بن عَقِيل الخُزَاعي (1) - واللفظُ لهما - قالا: أخبرنا أبو شعيب الحرَّاني، حدثنا أبو جعفر النُّفَيلي، حدثنا محمد بن سَلَمة، عن محمد بن إسحاق قال: لمّا قَدِمَ رسولُ الله ﷺ المدينةَ مُنصَرَفَه من الطائف، وكَتَبَ بُجَيرُ بن زهير بن أبي سُلْمى إلى أخيه كعب ابن زهير بن أبي سُلمى يخبرُه: أن رسول الله ﷺ قَتَل رجلًا بمكة ممَّن كان يَهجُوه ويُؤذيه، وأنه بَقِيَ من شُعراء قريشٍ ابنُ الزِّبَعرَى وهُبَيرة بن أبي وهب قد هربوا في كل وجهٍ، فإن كانت لك في نفسِك حاجةٌ فطِرْ إلى رسول الله ﷺ، فإنه لا يَقتُلُ أحدًا جاءَ تائبًا، وإن أنت لم تَفعْل فانْجُ بنفسِك إلى نَجَايتِك. وقد كان كعبٌ قال أبياتًا نالَ فيها من رسول الله ﷺ حتى رُوِيَت عنه وعُرِفَت، وكان الذي قال: ألَا إيلِغا عني بُجَيرًا رسالةً … وهلْ لك فيما قُلتَ وَيلك هلْ لَكَا فخبَّرتَني إن كنتَ لستَ بفاعلٍ … على أي شيءٍ وَيْحَ غيرِكَ دلَّكَا على خُلُقٍ لم تُلف أمًّا ولا أبًا … عليه ولم تُلْفِ عليه أبًا لَكَا فإنْ أنت لم تَفعلْ فلستُ بآسِفٍ … ولا قائلٍ لمَّا عَشَرتَ لَعالَكَا سَقَاكَ بها المأمونُ كأسًا رَوِيَّةً … فَأَنْهَلَكَ المأمونُ منها وعَلَّكَا قال: وإنما قال كعبٌ: المأمونُ، لقول قريش لرسول الله ﷺ وكانت تقولُه، فلما بَلَغَ كعبًا ذلك ضاقَتْ به الأرضُ وأشفَقَ على نفسه، وأَرجَفَ به مَن كان في حاضرِه من عدوِّه، قال: هو مقتولٌ، فلما لم يَجِدْ من شيءٍ بُدًّا، قال قصيدتَه التي يَمدَحُ فيها رسولَ الله ﷺ؛ وذَكَر خوفَه وإرجافَ الوُشَاةِ به من عندَه (1) ، ثم خرج حتى قَدِمَ المدينة، فنَزَلَ على رجل كانت بينه وبينه معرفةٌ من جُهَينة - كما ذُكِرَ لي - فغَدًا به إلى رسول الله ﷺ حين صَلَّى الصبح، فصلَّى مع الناس، ثم أشارَ له إلى رسول الله ﷺ فقال: هذا رسولُ الله ﷺ، فقُمْ إليه. فذُكِرَ لي: أنه قام إلى رسول الله ﷺ حتى وَضَعَ يَده في يدِه، وكان رسول الله ﷺ لا يعرفُه، فقال: يا رسول الله، إنَّ كعب بن زهير جاء ليستأمِنَ منك تائبًا مسلمًا، هل قابلٌ منه إن أنا جئتُك به؟ فقال رسول الله ﷺ:"نعم" فقال: يا رسول الله، أنا كعبُ بنُ زهير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6480 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6480 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن اسحاق کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے واپس تشریف لائے۔ اس وقت تک سیدنا بجیر بن زہیر بن ابی سلمی، اپنے بھائی کعب بن زہیر ابن ابی سلمی کو خط لکھ کر اس بات سے باخبر کر چکے تھے کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کیا کرتے تھے اور آپ علیہ السلام کو تکالیف دیا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو قتل کروا دیا ہے، اور یہ کہ قریش کے شعراء میں سے ابن زبعری اور ہبیرہ بن ابی وہب نے بھاگ کر جان بچائی ہے، اس لئے اگر تمہارا دل چاہے تو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤ، جو شخص تائب ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آ جاتا ہے آپ اس کو معاف فرما دیتے ہیں۔ اور اگر تمہارا دل نہیں چاہتا تو اپنے بچاؤ کی خود تدبیر کرو۔ سیدنا کعب نے کچھ اشعار لکھے تھے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی پائی جاتی تھی، یہ اشعار لوگوں میں پھیل بھی گئے تھے۔ وہ اشعار یہ تھے: ” خبردار! میری طرف سے بجیر کو یہ پیغام پہنچا دو کہ تم نے جو افسوس کا اظہار کیا ہے کیا یہ ہلاکت کا شکار ہونے کی وجہ سے ہے۔ تم نے مجھے یہ بتایا ہے کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا (تو میں ہلاک ہو جاؤں گا) تمہارے افسوس کے علاوہ اور کون سی چیز مخلوق پر زیادتی کر سکتی ہے۔ تم نے (ایک ایسے دین کو اختیار کیا) جس پر تم نے نہ اپنے باپ کو پایا نہ ماں کو پایا۔ اگر تم ایسا نہیں کرتے تو پھر مجھے بھی کوئی افسوس نہیں ہے۔ اور تم جس اضطراب پر مطلع ہوئے ہو، اس کے بارے میں بات نہ کرو چونکہ ” مامون “ (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تمہیں سیراب کر دینے والا جام پلا دیا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ مامون بھی خراب ہوں گے اور برباد ہو جائیں گے “۔ کعب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ” مامون “ کا لفظ اس لئے استعمال کیا تھا کہ قریش حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ لفظ بولا کرتے تھے۔ جب کعب کو یہ اطلاعات ملیں تو وہ بہت پریشان ہوئے، ان کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے، اور وہ خوف کے مارے تھر تھر کانپنے لگے، لوگوں نے کہا: اب تو بھی مرے گا، جب ان کو اور کوئی راہ سجھائی نہ دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں ایک قصیدہ لکھا، اس میں انہوں نے اپنے خوف کا ذکر بھی کیا اور بدخواہوں کی ریشہ دوانیوں کا تذکرہ بھی کیا۔ پھر وہ وہاں سے روانہ ہوئے مدینہ منورہ چلے آئے، یہاں پر قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی کے ساتھ ان کی پرانی علیک سلیک تھی، آپ اس کے پاس پہنچ گئے، اگلے دن نماز فجر میں سیدنا کعب مسجد نبوی میں آ گئے، دیگر صحابہ کرام کے ہمراہ نماز فجر پڑھی، اس آدمی نے اشارہ کر کے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تم ان کے پاس جا کر امان طلب کر لو، سیدنا کعب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما، اس سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی جان پہچان نہ تھی۔ کعب نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعب بن زہیر تائب ہو کر اسلام قبول کر کے آپ کی بارگاہ میں طلب امان کے لئے آنا چاہتا ہے، اگر میں اس کو اپنے ساتھ لے آؤں تو کیا آپ اسے امان دے دیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں دے دوں گا۔ تو سیدنا کعب نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی کعب ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6623]
حدیث نمبر: 6623M
قال ابن إسحاق: فحدَّثَني عاصمُ بن عمر بن قَتاَدة قال: وَثَبَ عليه رجلٌ من الأنصار وقال: يا رسول الله، دَعْني وعدوَّ الله أضرِبْ عنقَه، فقال رسول الله ﷺ:"دَعُهُ عنكَ، فإنه قد جاء تائبًا نازعًا، فغَضِبَ كعبٌ على هذا الحيِّ من الأنصار لِمَا صَنَعَ به صاحبُهم، وذلك أنه لم يكن يتكلَّمُ رجلٌ من المهاجرين فيه إلَّا بخير. فقال قصيدتَه التي قال حين قَدِمَ على رسول الله ﷺ: بانت سعادُ … فذكر القصيدة إلى آخرها، وزاد فيها: تَرمِي الفِجاجَ بعَينَيْ مُفرَدٍ لَهِقٍ … إذا توقَّدَتِ الحِزّانُ فالمِيلُ ضخمٌ مُقلَّدُها فَعْمٌ مقيَّدُها … في خَلْقِها عن بناتِ الفَحلِ تفضيلُ تَهْوي على يَسَراتٍ وهْيَ لاهيةٌ … ذَوابلٍ وَقْعُهُنَّ الأرضَ تحليلُ وقال للقوم حادِيهِمْ وقد جَعَلَت … وُرْقُ الجنادبِ يَركُضنَ الحَصى قِيلُوا (1) لمَّا رأيتُ حِدَابَ الأَرضِ يَرفعُها … مع اللَّوامعِ تخليطٌ وتَرجيلُ (2) وقال كلُّ صديق كنتُ آملُهُ … لا أُلفِيَنَّكَ إني عنك مشغولُ إذا يُساوِرُ قِرْنًا يَحِلُّ لهُ … أن يَترُكَ القِرنَ إِلَّا وَهُوَ مغلولُ قال عاصم بن عمر بن قَتَادة: فلما قال: إذا عرَّد السُّودُ التنابيلُ، وإنما يريد معاشرَ الأنصار، لِمَا كان صَنَعَ صاحبُهم، وخَصَّ المهاجرين من أصحاب رسول الله ﷺ من قريشٍ بمديحه، غَضِبَت عليه الأنصار، فقال بعد أن أسلمَ وهو يمدحُ الأنصار ويَذكُر بَلاءَهم مع رسول الله ﷺ وموضعهم من اليُمْن، فقال: مَن سَرَّه كَرَمُ الحياة فلا يَزَلْ … في مِقْنَبٍ من صالحِ الأنصارِ وَرِثُوا المكارمَ كابرًا عن كابرٍ … إنَّ الخِيارَ همْ بنو الأخيارِ الباذلين نفوسَهم لنبيِّهمْ … عندَ الهِيَاجِ ووَقْعةِ الجبّارِ والناظرينَ بأعيُنٍ مُحمَرَّةٍ … كالجَمْرِ غيرِ كَلِيلة الأبصارِ المُكرِهِينَ السَّمْهريَّ بأذرُعٍ … كسَوَاقلِ الهِنديِّ غيرِ قِصَارِ وهُمُ إذا خَبَتِ النجومُ وغوَّرَتْ … للطائفينَ الطارِقينَ مَقَارِي الذائدِين الناسَ عن أديانِهمْ … بالمَشرَفيِّ وبالقَنَا الخَطَّارِ حتي استقاموا والرِّماحُ تَكبُّهمْ … في كلِّ مَجهَلةٍ وكلِّ خَبَارِ (1) للحقِّ إِنَّ الله ناصرُ دينِهِ … ونبيِّهِ بالحقِّ والإنذارِ والمُطعِمِينَ الضَّيف حين يُنُوبُهُمْ … من شَحْمِ كُومٍ كالهِضَابِ عِشَارِ والمُقدِمِينَ إذا الكُمَاةُ تَواكَلَتْ … والضارِبينَ الناسَ في الأَعصارِ يَسعَونَ للأَعْدا بكلِّ طِمِرَّةٍ … وأَقَبَّ مُعتدل التَّليلِ مُطَارِ مُتقادِمٍ (2) تَلِعٍ أَجَشَّ صَهِيلُهُ … كالسيفِ يَهدِمُ حَلْقَه بسِوَارِ دَرِبُوا كما دَرِبَت ببَطْنِ خَفِيّةٍ … غُلْبُ الرِّقابِ من الأُسودِ ضَوَارِي وكُهولِ صِدْقٍ كالأُسودِ مَصَالِتٍ … وبكلِّ أغبَرَ مُدرَكِ الأوتارِ وبمُترصَاتٍ كالثِّقَافِ نَواهِلٍ … يُشفَى الغليلُ بها من الفُجَّارِ ضَربَوا علينا يوم بدرٍ ضربةً … دانَتْ لوَقعَتِها جُموعُ نِزَارِ لا يَشتكُون الموتَ إن نَزَلَت بهمْ … حَرْباءُ ذاتُ مَغاوِرٍ وأُوارِ يَتطهَّرون كأنَّه نُسُكٌ لهمْ … بدماءِ مَن عَلِقوا من الكُفَّارِ وإذا أَتيتَهمُ لتَطلُبَ نصرَهمْ … أصبحتَ بين مَغَافِرٍ وعِفَارِ يَحْمونَ دينَ اللهِ إنَّ لِدينِهِ … حقًّا بكلِّ مغَوِّرٍ مِغوارِ لو تَعلمُ الأقوامُ عِلْمي كلَّهُ … فيهمْ لصدَّقَني الذين أُمَارِي (3) ذكرُ قُرَّة بن إياس، أبو معاوية المُزَني ﵁-
ابن اسحاق کہتے ہیں: عاصم بن عمر بن قتادہ فرماتے ہیں: ایک انصاری صحابی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے، میں اللہ کے دشمن کا سر قلم کر دوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو، کیونکہ وہ تائب ہو کر آیا ہے۔ اس آدمی کے اس رویے کی وجہ سے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے دل میں انصار کے اس قبیلے کے بارے میں نفرت پیدا ہو گئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ مہاجرین میں سے کسی نے بھی ان کے بارے میں کوئی نفرت والی بات نہیں کی تھی، اس کے بعد انہوں نے وہ پورا قصیدہ پڑھ کر سنایا جو آنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں لکھا تھا، اور اس کے آخر میں ان اشعار کا اضافہ بھی کیا۔ عاصم بن عمر بن قتادہ فرماتے ہیں: جب سیدنا کعب نے کہا: انما عرد السود التنابیل اس انصاری صحابی کے نازیبا رویے کی وجہ سے اس سے ان کی مراد انصار تھے۔ اور اس قصیدہ میں انہوں نے صرف مہاجرین کی مدح کی تھی۔ اس وجہ سے انصار کو غصہ آیا۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ اسلام لانے کے بعد انصار کی تعریف کرتے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ان کی آزمائشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے، یمن میں ان کے مقام کا ذکر کرتے ہوئے درج ذیل اشعار کہتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6623M]
حدیث نمبر: 6624
أخبرني أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة بن خيَّاط قال: قُرَّةُ بن إياس بن هلال بن رِئَاب بن عبد بن دُرَيد بن أَوْس بن سُوَاءَة بن عمرو بن ساريَةَ بن ثَعلَبة بن ذُبيان بن سُلَيم (1) بن أَوْس بن عثمان بن عَمرو، وهو أبو معاوية بن قُرَّةَ، وله دارٌ بالبَصْرة حَضْرَةَ العَوَقَةِ، قتلته الأزارقةُ مع ابن عُبَيسٍ (2) سنة أربع وستين.
خلیفہ بن خیاط نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ” قرہ بن ایاس بن ہلال بن رباب بن عبیداللہ بن ذویب بن اوس بن سوارہ بن عمرو بن ساریہ بن ثعلبہ بن دینار بن سلیمان بن اوس بن عثمان بن عمرو “ یہی ابومعاویہ بن قرہ ہیں۔ بصرہ میں عوفہ کے سامنے ان کا گھر تھا، ازارقہ نے ان کو ابن عبیس کے ہمراہ 64 ہجری کو قتل کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6624]
حدیث نمبر: 6625
حدثنا عليُّ بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أحمد بن بِشْر المَرثَدي، حدثنا علي بن الجَعْد، حدثنا عَدِيٌّ بن الفضل، عن يونس بن عُبيد، عن معاوية بن قُرَّة، عن أبيه قال: قلت: يا رسول الله، إني لَآخُذُ الشاةَ لأذبحها فأرحَمُها، قال:"والشاةُ إن رَحِمتَها رَحِمَك اللهُ" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6482 - عدي بن الفضل هالك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6482 - عدي بن الفضل هالك
معاویہ بن قرہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب بھی کسی بکری کو ذبح کرنے لگتا ہوں، مجھے اس پر رحم آ جاتا ہے اور میں اس کو چھوڑ دیتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بکری پر رحم کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے گا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6625]