المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
899. ذكر قرة بن إياس أبو معاوية المزني رضى الله عنه
سیدنا قرہ بن ایاس ابو معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6625
حدثنا عليُّ بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أحمد بن بِشْر المَرثَدي، حدثنا علي بن الجَعْد، حدثنا عَدِيٌّ بن الفضل، عن يونس بن عُبيد، عن معاوية بن قُرَّة، عن أبيه قال: قلت: يا رسول الله، إني لَآخُذُ الشاةَ لأذبحها فأرحَمُها، قال:"والشاةُ إن رَحِمتَها رَحِمَك اللهُ" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6482 - عدي بن الفضل هالك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6482 - عدي بن الفضل هالك
معاویہ بن قرہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب بھی کسی بکری کو ذبح کرنے لگتا ہوں، مجھے اس پر رحم آ جاتا ہے اور میں اس کو چھوڑ دیتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بکری پر رحم کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے گا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6625]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6625 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدًا من أجل عدي بن الفضل فإنه متروك، وقال الذهبي في "تلخيصه": هالك. قلنا: لكنه لم ينفرد به، فقد روي من غير وجه صحيح عن معاوية بن قرة، وسيأتي عند المصنف برقم (7753) بإسناد صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث بذاتِ خود "صحیح" ہے، لیکن یہ مخصوص سند عدی بن الفضل کی وجہ سے "سخت ضعیف" (ضعیف جداً) ہے کیونکہ وہ "متروک" راوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام ذہبی نے "تلخیص" میں اسے "ہالک" قرار دیا ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: عدی اس روایت میں تنہا نہیں ہیں، بلکہ یہ معاویہ بن قرہ سے دیگر صحیح اسناد سے بھی مروی ہے اور مصنف کے ہاں آگے نمبر (7753) پر صحیح سند کے ساتھ ذکر کی جائے گی۔
وأما حديث عدي بن الفضل فقد أخرجه البزار (3322)، والطبراني في "الكبير" 19/ (47)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (5779)، وفي "حلية الأولياء" 2/ 302، والبيهقي في "شعب الإيمان" (10556) من طريقين عن علي بن الجعد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: عدی بن الفضل والی روایت کو بزار (3322)، طبرانی (الکبیر 19/ 47)، ابونعیم (معرفۃ الصحابہ 5779 اور حلیۃ الاولیاء 2/ 302) اور بیہقی نے "شعب الایمان" (10556) میں علی بن الجعد کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر تمام تخريجه من غير هذا الطريق في "مسند أحمد" 24/ (15592).
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کی دیگر طرق سے مکمل تخریج کے لیے "مسند احمد" 24/ (15592) ملاحظہ فرمائیں۔