🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
907. ذِكْرُ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6643
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا يحيى ابن إسحاق السَّيلَحِيني، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، عن الأعمش، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن زياد بن لَبِيد الأنصاري قال: أَتيتُ النبيَّ ﷺ وهو يُحدِّث أصحابَه وهو يقول:"قد ذَهَبَ أَوَانُ العِلْم"، قلت: بأَبي وأُمِّي، وكيف يذهبُ أَوانُ العلم ونحن نقرأُ القرآنَ ونعلِّمُه أبناءَنا، ويعلِّمُه أبناؤُنا أبناءَهم إلى أن تقومَ الساعةُ؟! فقال:"ثَكِلَتكَ أَمُّك يا ابن لَبِيدٍ، إنْ كنتُ لأراك من أفقهِ أهلِ المدينة، أوَليسَ اليهودُ والنصارى يَقرؤُون التوراةَ والإنجيلَ ولا يَنتِفعون منهما بشيءٍ؟" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ذكرُ عُمَارة بن حَزْم الأنصاري ﵁-
سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ اپنے صحابہ سے گفتگو فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”علم (کے رخصت ہونے) کا وقت آ گیا ہے۔“ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، علم کیسے رخصت ہو گا جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو قیامت تک پڑھاتے رہیں گے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن لبید! تمہاری ماں تمہیں گم پائے (یعنی تم کیسی بات کر رہے ہو)، میں تو تمہیں اہل مدینہ میں سب سے زیادہ سمجھدار سمجھتا تھا، کیا یہودی اور نصرانی تورات اور انجیل نہیں پڑھتے لیکن وہ ان سے ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں اٹھاتے؟“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6643]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنه منقطع بين سالم وزياد بن لبيد.» [ترقيم الرساله 6643] [ترقيم الشركة 6564]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6643 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنه منقطع بين سالم وزياد بن لبيد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے راوی اگرچہ ثقہ ہیں، لیکن سالم اور زیاد بن لبید کے درمیان انقطاع (سلسلہ ٹوٹا ہوا) ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17473) و (17919)، وابن ماجه (4048) من طريق وكيع، عن الأعمش، بهذا الإسناد. وسيأتي برقم (6695/ 3). وسلف برقم (343) من طريق عمرو بن مرة عن سالم بن أبي الجعد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 29/ (17473، 17919) اور ابن ماجہ (4048) نے وکیع عن الاعمش کی سند سے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: یہ آگے نمبر (6695/ 3) پر آئے گی اور پہلے نمبر (343) پر عمرو بن مرہ عن سالم بن ابی الجعد کے طریق سے گزر چکی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6643 in Urdu