المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
907. ذِكْرُ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6642
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو الأسوَد، عن عُرْوة، قال في تسميَةِ مَن شَهِدَ بدرًا من الأنصار: زيادُ بن لَبِيد ابن ثَعلَبة بن سِنَان بن عامر بن عَدِيّ بن أُمَيَّة بن بَيَاضَة بن عامر بن زُرَيقٍ، أمُّه بنتُ عبدِ بن مضرب (1) بن الحارث بن زيد بن عُبَيد بن عَمرو بن عَوْف. ومات في أول خِلَافة معاوية في سَمَاعي من"تاريخ شَبَاب".
عروہ سے انصار کے ان صحابہ کے ناموں کے تذکرہ میں جو غزوہ بدر میں شریک تھے، روایت ہے کہ ان میں زیاد بن لبید بن ثعلبہ بن سنان بن عامر بن عدی بن امیہ بن بیاضہ بن عامر بن زریق بھی تھے، ان کی والدہ بنت عبد بن مضرب بن حارث بن زید بن عبید بن عمرو بن عوف تھیں، اور تاریخ شباب کی سماعت کے مطابق ان کی وفات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6642]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6642] [ترقيم الشركة 6563]
حدیث نمبر: 6643
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا يحيى ابن إسحاق السَّيلَحِيني، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، عن الأعمش، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن زياد بن لَبِيد الأنصاري قال: أَتيتُ النبيَّ ﷺ وهو يُحدِّث أصحابَه وهو يقول:"قد ذَهَبَ أَوَانُ العِلْم"، قلت: بأَبي وأُمِّي، وكيف يذهبُ أَوانُ العلم ونحن نقرأُ القرآنَ ونعلِّمُه أبناءَنا، ويعلِّمُه أبناؤُنا أبناءَهم إلى أن تقومَ الساعةُ؟! فقال:"ثَكِلَتكَ أَمُّك يا ابن لَبِيدٍ، إنْ كنتُ لأراك من أفقهِ أهلِ المدينة، أوَليسَ اليهودُ والنصارى يَقرؤُون التوراةَ والإنجيلَ ولا يَنتِفعون منهما بشيءٍ؟" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ذكرُ عُمَارة بن حَزْم الأنصاري ﵁-
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ذكرُ عُمَارة بن حَزْم الأنصاري ﵁-
سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ اپنے صحابہ سے گفتگو فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”علم (کے رخصت ہونے) کا وقت آ گیا ہے۔“ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، علم کیسے رخصت ہو گا جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو قیامت تک پڑھاتے رہیں گے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن لبید! تمہاری ماں تمہیں گم پائے (یعنی تم کیسی بات کر رہے ہو)، میں تو تمہیں اہل مدینہ میں سب سے زیادہ سمجھدار سمجھتا تھا، کیا یہودی اور نصرانی تورات اور انجیل نہیں پڑھتے لیکن وہ ان سے ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں اٹھاتے؟“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6643]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6643]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنه منقطع بين سالم وزياد بن لبيد.» [ترقيم الرساله 6643] [ترقيم الشركة 6564]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره