المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
927. ذكر سلمان الفارسي رضى الله عنه
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر اور نبی کریم ﷺ کا فرمان کہ سلمان ہم اہلِ بیت میں سے ہے
حدیث نمبر: 6683
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ بُكير بن عبد الله بن الأشجِّ حدثه، أنَّ الحسن بن علي بن أبي رافع حدثه، أنَّ أبا رافع أخبره: أنه أقبلَ بكتابٍ من قريش إلى رسول الله ﷺ، قال: فلما رأيتُ النبيَّ (1) أُلقي في قلبي الإسلامُ، فقلت: يا رسولَ الله، إني والله لا أَرجعُ إليهم أبدًا، فقال رسولُ الله ﷺ:"إني لا أَخِيسُ بالعهد، ولا أحبسُ البُرُدَ، ولكن ارجِعْ إليهم، فإن كانَ في قلبِكَ الذي في قلبِكَ الآن فارجِعْ"، قال: فرجعتُ إليهم، ثم أقبلتُ على رسول الله ﷺ فأسلمتُ (2) . ذكرُ سلمان الفارسي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6538 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6538 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں قریش کا ایک خط لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، آپ فرماتے ہیں: جب میں نے وہ خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا تو میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہو گئی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میں کبھی بھی ان لوگوں کی طرف لوٹ کر نہیں جاؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں وعدہ خلافی نہیں کر سکتا اور کسی کے سفیر کو اپنے پاس نہیں روک سکتا، اس لئے تم واپس ان لوگوں میں جاؤ، اگر وہاں جا کر بھی تمہارے جذبات یہی رہے تو لوٹ آنا، آپ فرماتے ہیں: میں اپنی قوم میں لوٹ کر گیا، اس کے بعد دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مشرف با اسلام ہو گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6683]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6683 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) المثبت من مصادر التخريج، وفي النسخ الخطية: الكتاب، وهو سبق قلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: متن میں درست لفظ دیگر مصادرِ تخریج سے لیا گیا ہے، جبکہ خطی نسخوں میں لفظ "الکتاب" لکھا ہے جو کہ کاتب کی لغزش (سبقِ قلم) معلوم ہوتی ہے۔
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 39 / (23857)، وأبو داود (2758)، والنسائي (8621)، وابن حبان (4877) من طرق عن عبد الله بن وهب بهذا الإسناد. لكن زيد في رواية أحمد وحده بين الحسن وجده أبي رافع: علي والد الحسن، وهو لا تعرف له رواية في الكتب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 39 / (23857)، ابو داود (2758)، نسائی (8621) اور ابن حبان (4877) نے عبد اللہ بن وہب کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: صرف امام احمد کی روایت میں حسن اور ان کے دادا ابو رافع کے درمیان حسن کے والد "علی" کا نام بڑھا دیا گیا ہے، جبکہ کتبِ حدیث میں ان (علی) کی کوئی روایت معروف نہیں ہے۔
قوله: "لا أَخيس العهد" قال السندي في "حاشية المسند": أي لا أنقضه، يقال: خاس يخيس ويخوس: إذا غدر ونقض العهد. و "البرد"، بضمتين، جمع بريد، بمعنى الرسول، أي: لا أحبس الرسل الواردين عليّ.
📝 نوٹ / توضیح: "لا أَخیس العہد" کے بارے میں علامہ سندھی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے "میں وعدہ خلافی نہیں کرتا"؛ عربی میں "خاس" کا لفظ دھوکہ دہی اور عہد شکنی کے لیے آتا ہے۔ "البرد" (باء اور راء پر پیش کے ساتھ) برید کی جمع ہے جس کا مطلب "قاصد یا رسول" ہے، یعنی: "میں اپنے پاس آنے والے قاصدوں کو قید نہیں کرتا"۔