🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
948. ذكر الأسود بن سريع رضى الله عنه
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6720
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا معاذ بن المثنَّى العَنْبري، حدثنا عبد الله بن سوَّار، حدثنا عبد الله بن بكر المُزَني، حدثنا الحسن قال: قال الأسود بن سَريع: يا رسولَ الله، ألا أُنشِدُك محامدَ حَمِدتُ بها ربِّي ﵎؟ فقال:"إنَّ ربَّك ﵎ يُحِبُّ الحمدَ"، ولم يستزِدْه (1) على ذلك (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6575 - صحيح
سیدنا حسن فرماتے ہیں: سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کو وہ حمدیہ اشعار نہ سناؤں جو میں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء میں لکھے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ حمد کو پسند فرماتا ہے، اس سے زیادہ آپ نے کچھ نہیں فرمایا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہیں، لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6720]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6720 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (م) و (ص) إلى: يستره، وجاء على الصواب في (ب).
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (م) اور (ص) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "یستره" ہو گیا تھا، جبکہ نسخہ (ب) میں یہ اپنی درست شکل میں موجود ہے۔
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن اختلف في سماع الحسن -وهو البصري- من الأسود بن سريع كما سلف بيانه برقم (2598).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت اپنی تائیدی روایات کی بنا پر "صحیح لغیرہ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں، تاہم امام حسن بصری کے اسود بن سریع سے سماع (براہ راست سننے) میں اختلاف ہے، جس کی تفصیل پہلے حدیث نمبر (2598) میں گزر چکی ہے۔
وأخرجه أحمد 24/ (15586) من طريق عوف بن أبي جميلة، والنسائي (7698) من طريق يونس بن عبيد، كلاهما عن الحسن البصري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 24/(15586) میں عوف بن ابی جمیلہ کے طریق سے، اور امام نسائی نے (7698) میں یونس بن عبید کے طریق سے روایت کیا ہے؛ یہ دونوں امام حسن بصری سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وسيأتي في الرواية التالية مطولًا، وسنده ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: یہی روایت اگلی حدیث میں تفصیلاً آئے گی لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
ويشهد لحبِّ الله المدحَ حديثُ عبد الله بن مسعود عند البخاري (4637)، ومسلم (2760)، واللفظ له: "ليس أحدٌ أحبَّ إليه المدحُ من الله، من أجل ذلك مدحَ نفسَه".
🧩 متابعات و شواہد: اللہ تعالیٰ کے اپنی تعریف (مدح) پسند کرنے کی تائید عبداللہ بن مسعود کی حدیث سے ہوتی ہے جو صحیح بخاری (4637) اور صحیح مسلم (2760) میں موجود ہے، جس کے الفاظ ہیں: "اللہ سے بڑھ کر کسی کو اپنی مدح پسند نہیں، اسی لیے اس نے خود اپنی تعریف بیان کی ہے"۔