🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

948. ذِكْرُ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6719
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة ابن خيَّاط، قال: الأسودُ بن سَريع بن حِمْيَر بن عُبادة بن النزَّال بن مُرَّة بن عُبيد، له دارٌ بالبصرة بحضرةِ الجامع مما يلي بني تميم، توفِّي في عهد معاوية.
خلیفہ بن خیاط سے مروی ہے کہ: اسود بن سریع بن حمیر بن عبادہ بن نزال بن مرہ بن عبید، ان کا بصرہ میں جامع مسجد کے پاس بنو تمیم والی سمت میں ایک گھر تھا اور ان کی وفات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6719]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6719] [ترقيم الشركة 6639]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6720
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا معاذ بن المثنَّى العَنْبري، حدثنا عبد الله بن سوَّار، حدثنا عبد الله بن بكر المُزَني، حدثنا الحسن قال: قال الأسود بن سَريع: يا رسولَ الله، ألا أُنشِدُك محامدَ حَمِدتُ بها ربِّي ﵎؟ فقال:"إنَّ ربَّك ﵎ يُحِبُّ الحمدَ"، ولم يستزِدْه (1) على ذلك (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6575 - صحيح
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں آپ کو وہ تعریفی کلمات نہ سناؤں جن کے ذریعے میں نے اپنے رب عزوجل کی حمد بیان کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک تمہارا رب عزوجل حمد کو پسند فرماتا ہے“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مزید کچھ نہیں کہا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6720]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن اختلف في سماع الحسن» [ترقيم الرساله 6720] [ترقيم الشركة 6640] [ترقيم العلميه 6575]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6721
أخبرنا أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدثنا محمد بن عبد الله ابن سليمان، حدثنا مَعمَر بن بكَّار السَّعدي، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن الزُّهْري، عن عبد الرحمن بن أبي بَكْرة، عن الأسود بن سَريع التميمي قال: قدمتُ على نبيِّ الله ﷺ، فقلتُ: يا نبيَّ الله، قد قلتُ شِعرًا أثنيتُ فيه على الله ﵎ ومدحتُك، فقال:"أمَّا ما أثنيتَ على الله فهاتِه، وما مدحتَني به فدَعْه"، فجعلتُ أُنشدُه، فدخل رجلٌ طُوَال أقنَى، فقال لي:"أمسِكْ"، فلما خرج، قال:"هاتِ" فجعلتُ أُنشِدُه، فلم ألبَثْ (3) أن عاد فقال لي:"أمسِكْ"، فلما خرج قال:"هاتِ"، فقلتُ: من هذا يا نبيَّ الله الذي إذا دخل قلتَ:"أمسِكْ" وإذا خرج قلتَ:"هاتِ"؟ قال:"هذا عمرُ بن الخطاب، وليس من الباطلِ في شيء" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ جاريةَ (1) بن قُدَامة التميمي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6576 - معمر بن بكار له مناكير
سیدنا اسود بن سریع تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں نے کچھ اشعار کہے ہیں جن میں اللہ عزوجل کی ثنا بیان کی ہے اور آپ کی مدح کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم نے اللہ کی ثنا بیان کی ہے وہ سناؤ، اور جو میری مدح کی ہے اسے رہنے دو“، چنانچہ میں سنانے لگا، اتنے میں ایک دراز قد اور نمایاں ناک والے شخص داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”رک جاؤ“، جب وہ چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سناؤ“، میں پھر سنانے لگا، ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ وہ دوبارہ آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”رک جاؤ“، جب وہ (دوبارہ) چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سناؤ“، میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! یہ کون شخص ہیں جن کے آنے پر آپ فرماتے ہیں ”رک جاؤ“ اور چلے جانے پر فرماتے ہیں ”سناؤ“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ عمر بن خطاب ہیں، اور باطل (لہو و لعب) سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6721]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أبو بكر بن أبي دارم -وإن كان متكلمًا فيه- متابع، لكن معمر بن بكار ذكره ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 8/ 259، وسكت عنه، وذكر في ترجمة هشام بن أبي هشام الحنفي 9/ 69 عن أبيه أنه مجهول! وقال العقيلي: في حديثه وهم، ولا يتابع على أكثره، ...» [ترقيم الرساله 6721] [ترقيم الشركة 6641] [ترقيم العلميه 6576]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں