🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
77. لا يبولن أحدكم فى مستحمه
تم میں سے کوئی شخص غسل خانے میں پیشاب نہ کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 675
أخبرنا الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا مَعمَر، عن أشعَثَ، عن الحسن، عن عبد الله بن مُغفّل، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا يبولَنَّ أحدُكم في مُستحَمَّه"، فإنَّ عامَّةَ الوِسْواسِ منه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد على شرطهما:
سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے غسل خانے میں ہرگز پیشاب نہ کرے، کیونکہ عام طور پر وسوسے اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 675]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 675 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، والراجح في قوله: "فإنَّ عامة الوسواس منه" أنه موقوف على عبد الله بن مغفل من قوله كما سلف التنبيه عليه برقم (604).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اس روایت میں موجود الفاظ "فإنَّ عامة الوسواس منه" (کیونکہ عام طور پر وسوسے اسی وجہ سے ہوتے ہیں) کے بارے میں راجح بات یہ ہے کہ یہ حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کا اپنا قول (موقوف) ہے، جیسا کہ پہلے نمبر (604) پر اس کی وضاحت کی گئی ہے۔
أبو الموجَّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك، وأشعث: هو ابن عبد الله الحدّاني.
🔍 فنی نکتہ / علّت: سند کے راویوں کی تحقیق درج ذیل ہے: 'ابو الموجہ' سے مراد محمد بن عمرو فزاری ہیں، 'عبدان' سے مراد عبد اللہ بن عثمان مروزی ہیں، 'عبد اللہ' سے مراد عبد اللہ بن المبارک ہیں، اور 'اشعث' سے مراد اشعث بن عبد اللہ حدانی ہیں۔