🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
973. فضيلة الجماعة
جماعت کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6770
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا عمرو بن إسحاق بن إبراهيم بن زِبْرِيق (1) ، حدثنا أصبَغ بن عبد العزيز، حدثني أبي عبد العزيز بن أصبَغ بن أبان بن سليمان، عن جدِّه أبان، عن أبيه سليمان قال: كان إسلامُ قَبَاث بن أَشيَم أنَّ رجالًا من قومِه وغيرَهم من العرب أتَوْه، فقالوا: إنَّ محمدَ بن عبد الله بن عبد المطلب قد خرَجَ يدعو إلى دينٍ غير دينِنا، فقام قَباثٌ حتى أتى رسولَ الله ﷺ فلمَّا دخل عليه قال له:"اجلِسْ يا قَباثُ" فأوجَمَ قَباثٌ، فقال رسول الله ﷺ:"أنت القائل: لو خرجَتْ نساءُ قريش ردَّتْ محمدًا وأصحابَه؟" قال: قَباثُ: والذي بعثك بالحقِّ، ما تحدَّثَ به لساني، ولا تَزمزمَتْ به شفتاي، ولا سَمِعَه منِّي أحدٌ، وما هو إلَّا شيءٌ هَجَسَ في نفسي، أشهدُ أن لا إله إلَّا الله وحدَه لا شريكَ له، وأشهدُ أنَّك عبدُه ورسولُه، وأنَّ ما جئتَ به الحقُّ (1) .
سلیمان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا قباث بن اشیم رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ یوں ہے کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ اور کچھ دیگر عرب لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب نے بغاوت کر دی ہے۔ وہ لوگوں کو ہمارے دین کے خلاف دعوت دیتا ہے، سیدنا قباث وہاں سے اٹھے اور سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے آئے، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بیٹھنے کو کہا، سیدنا قباث رضی اللہ عنہ ترش روئی کے ساتھ سر جھکا کر بیٹھ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہی کہنے والے ہو نا کہ اگر قریش کی صرف عورتیں اپنے گھروں سے نکل کر آ جائیں تو وہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو واپس بھیج سکتی ہیں؟ سیدنا قباث نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، یہ باتیں تو ابھی میری زبان سے نکلی ہی نہیں ہیں۔ میرے ہونٹوں پر ابھی ان کا تذکرہ ہی نہیں آیا، اور نہ یہ باتیں ابھی تک مجھ سے کسی نے سنی ہیں، اور یہ بات تو فقط میرے دل میں آئی تھی، پھر وہ کلمہ پڑھتے ہوئے کہنے لگے: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور بے شک جو آپ لائے ہیں وہ برحق ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6770]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6770 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (م) و (ص) إلى: رزيق.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (م) اور (ص) میں تحریف ہو کر "رزيق" لکھا گیا ہے۔
(1) إسناده ضعيف مسلسل بالمجاهيل، عمرو بن إسحاق بن زبريق لم نقف له على ترجمة لكن روى عنه ثلاثة، منهم الطبراني وقد أكثر عنه الرواية في كتبه، وأصبغ بن عبد العزيز بن أصبغ كذا سماه الحاكم، وسماه ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 2/ 321: عبد العزيز بن مروان بن أبان بن سليمان بن مالك الليثي، وقال: سألت أبي عنه، فقال: هو مجهول. قلنا: ولم نعرف أباه ولا جده أيضًا، وقال الهيثمي في "المجمع" 8/ 287 بعد أن عزاه للطبراني: وفيه من لم أعرفهم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے اور اس میں پے در پے مجہول راوی موجود ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عمرو بن اسحاق بن زبریق کے حالات نہیں مل سکے (اگرچہ طبرانی نے ان سے کثرت سے روایت کی ہے)۔ اصبغ بن عبد العزیز کو امام ابن ابی حاتم نے "مجہول" قرار دیا ہے، نیز ان کے والد اور دادا کے حالات بھی نا معلوم ہیں۔ علامہ ہیثمی نے "مجمع الزوائد" (8/ 287) میں صراحت کی ہے کہ اس سند میں ایسے راوی ہیں جنہیں میں نہیں جانتا۔
وأخرجه الطبراني في "المعجم الكبير" 19/ (72)، وفي "الأوسط" (4909) -ومن طريقه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (5789)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 49/ 232 - 233 - وابن عساكر أيضًا من طريق محمد بن عمرو بن إسحاق، كلاهما عن عمرو بن إسحاق، بهذا الإسناد. وقال الطبراني: لا يروى هذا الحديث عن قباث بن أشيم إلا بهذا الإسناد، تفرد به أصبغ بن عبد العزيز الحمصي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" اور "المعجم الاوسط" میں روایت کیا ہے، اور ان کے واسطے سے ابو نعیم اور ابن عساکر نے نقل کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام طبرانی فرماتے ہیں کہ قباث بن اشیم رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے اور اصبغ بن عبد العزیز الحمصی اس کی روایت میں منفرد ہیں۔
وأخرج نحوه ابن عساكر 49/ 232 من طريق سهل بن عمار، عن عمر بن عبد الله بن رزين، عن سفيان بن حسين، عن خالد بن دريك، عن قباث. وسهل متهم بالكذب، فلا يفرح به.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت نا قابلِ اعتبار ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند میں سہل بن عمار "متہم بالکذب" (جھوٹ کا ملزم) ہے، اس لیے یہ تائید کے لیے بھی موزوں نہیں ہے۔
قوله: "ولا تزمزمت به شفتاي" الزمزمة: صوت خفيّ لا يكاد يُفهم. قاله ابن الأثير في "النهاية في غريب الحديث" 2/ 313.
📝 نوٹ / توضیح: حدیث کے الفاظ "ولا تزمزمت بہ شفتاي" (اور نہ میرے ہونٹوں میں کوئی جنبش ہوئی) میں "زمزمہ" سے مراد ایسی دھیمی آواز ہے جسے سمجھنا مشکل ہو۔ ابن الاثیر نے "النھایہ" (2/ 313) میں یہی وضاحت کی ہے۔