المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1007. ذِكْرُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6849
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حَدَّثَنَا موسى بن زكريا، حَدَّثَنَا خَليفة بن خيَّاط قال: أبو أُمامة صُدَي بن عَجْلان بن وهب بن عَرِيب بن وهب بن رَبَاح بن الحارث بن وهب بن مَعْن بن مالك بن أعصَر بن سعد بن قيس عَيْلان بن مُضَر، نزل الشام. قال خليفة: نَسَبَه عبدُ الملك بن قُريب الأصمعي، قال: وباهلةُ هي امرأةُ مَعْن بن مالك بن أعصَر بن سعد بن قيس عَيْلان، ولدُها يُنسَبون إليها، وهي باهلة بنت سعدِ العَشيرة بن مالك بن أُدَد بن زيد بن يَشجُب بن يَعرُب بن قَحطان (1) . قال شباب بن خيَّاط: ومات أبو أمامة سنةَ ستٍّ وثمانين.
احمد بن یعقوب ثقفی سے روایت ہے، ہمیں موسیٰ بن زکریا نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ خلیفہ بن خیاط نے کہا: ابو امامہ کا نام صدی بن عجلان بن وہب بن عریب بن وہب بن رباح بن حارث بن وہب بن معن بن مالک بن اعصر بن سعد بن قیس عیلان بن مضر ہے، انہوں نے شام میں سکونت اختیار کی تھی۔ خلیفہ کہتے ہیں کہ ان کا نسب عبدالملک بن قریب اصمعی نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ باہلہ دراصل معن بن مالک بن اعصر بن سعد بن قیس عیلان کی بیوی ہیں، ان کی اولاد انہی کی طرف منسوب ہوتی ہے، اور وہ باہلہ بنت سعد العشیرہ بن مالک بن ادد بن یشجب بن یعرب بن قحطان ہیں۔ شباب بن خیاط کہتے ہیں کہ ابو امامہ کی وفات سنہ 86 ہجری میں ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6849]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6849] [ترقيم الشركة 6769]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6849 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هنا انتهى الخرم من نسخة (ز) الذي ابتدأ من الحديث (6449).
📝 نوٹ / توضیح: (1) یہاں نسخہ (ز) کا وہ خرم (عبارت کا چھوٹنا/کمی) ختم ہوا جو حدیث نمبر (6449) سے شروع ہوا تھا۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6849 in Urdu