🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. أفضل الأعمال الصلاة فى أول وقتها
سب سے افضل اعمال میں سے نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 688
ما حدَّثَناه أبو سعيد إسماعيل بن أحمد الجُرْجاني، حدّثنا محمد بن الحسن بن مُكرَم، حدّثنا حجَّاج بن الشاعر، حدّثنا علي بن حفص المدائني، حدّثنا شعْبة، عن الوليد بن العَيْزار قال: سمعت أبا عمرو الشَّيباني قال: حدّثنا صاحبُ هذه الدار - وأشار إلى دار عبد الله بن مسعود - ولم يُسمِّه قال: سألتُ رسولَ الله ﷺ: أيُّ الأعمال أفضلُ؟ قال:"الصلاةُ في أوَّل وقتِها" قلت: ثم ماذا؟ قال:"الجهادُ في سبيل الله" قلت: ثم ماذا؟ قال:"بِرُّ الوالدَين"، ولو استزدتُه لزادَني (1) . قد روي هذا الحديثَ جماعة عن شعبة، ولم يذكر هذه اللفظةَ غيرُ حجَّاج ابن الشاعر عن علي بن حفص، وحجَّاجٌ حافظ ثقة، وقد احتَجَّ مسلم بعلي بن حفص المدائني. ومنها:
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کون سے اعمال سب سے افضل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا۔ میں نے پوچھا: پھر کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ میں نے پوچھا: پھر کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والدین کے ساتھ بھلائی کرنا۔ (ابن مسعود کہتے ہیں) اگر میں مزید سوال کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزید جواب دیتے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ حجاج بن شاعر ثقہ حافظ ہیں اور امام مسلم نے ان کے استاد علی بن حفص سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 688]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 688 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي، وقوله فيه: "الصلاة في أول وقتها" شاذٌّ، والمحفوظ: "الصلاة على وقتها"، هكذا رواه جماعة الرواة عن شعبة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں "اول وقت" کا لفظ شاذ ہے، جبکہ محفوظ لفظ "نماز وقت پر" ہے، اور اسی طرح راویوں کی ایک بڑی جماعت نے امام شعبہ بن الحجاج سے روایت کیا ہے۔
فقد أخرجه أحمد 7/ (3890) و (4186)، والبخاري (527) و (5970)، ومسلم (85) (139)، والنسائي في "الكبرى" (1593)، وابن حبان (1477) من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 7/ (3890-4186)، بخاری (527-5970)، مسلم (85-139)، نسائی 'الکبریٰ' (1593) میں اور ابن حبان (1477) نے امام شعبہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ولفظه عندهم: "الصلاة على وقتها".
🧾 تفصیلِ روایت: ان تمام مآخذ میں حدیث کے الفاظ "الصلاة على وقتها" (نماز اپنے وقت پر) ہیں۔