🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1056. ذكر أم المؤمنين زينب بنت خزيمة العامرية
سیدہ ام المؤمنین زینب بنت خزیمہ العامریہ رضی اللہ عنہا کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6970
حدثنا محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا أحمد ابن المقدام، حدثنا زهير بن العلاء العبدي، حدثنا سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة ابن دِعامة قال: تزوّج رسول الله ﷺ ميمونة بنت الحارث بن فروة - وهي أختُ أمِّ الفضل امرأةِ العبّاس بن عبد المطّلب - حين اعتمر بمكة، ووَهَبَت نفسها للنبي، وفيها نزل: ﴿وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [الأحزاب: 50] ، ثم صَدَرَت معه إلى المدينة، وكانت قبله عند فَرْوة بن عبد العُزَّى بن أسد من بني غَنْم بن دُودَان (1) . [ذكر أم المؤمنين زينب بنت خزيمة العامرية]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6803 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا قتادہ بن دعامہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ بنت حارث بن فروہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا۔ آپ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی زوجہ ام الفضل کی بہن ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لائے تو اس وقت انہوں نے خود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیا، انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ {وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ} [الأحزاب: 50] «‏‏‏‏ اور ایمان والی عورت اگر وہ اپنی جان نبی کی نذر کرے اگر نبی اسے نکاح میں لانا چاہے، یہ خاص تمہارے لیے ہے امت کے لیے نہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ چلی گئیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکاح سے پہلے وہ فروہ بن عبدالعزیٰ بن اسد کے نکاح میں تھیں، اس کا تعلق بنی تمیم بن دودان سے ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6970]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6970 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في نسخنا الخطية إلى: تميم بن جودان والمثبت من كتب "الأنساب" والتراجم، منها "جمهرة أنساب العرب لابن حزم 1/ 191، و "الاستيعاب" ص 937، وقد غلَّط ابن عبد البر قتادة في ذكر نسب ميمونة ونسب زوجها فقال: إن زوجها من بني عامر، وميمونة إنما هي ميمونة بنت الحارث بن حزن عند جميعهم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "تمیم بن جودان" بن گیا تھا، جسے کتبِ انساب و تراجم سے درست کیا گیا ہے، بشمول ابن حزم کی "جمہرۃ انساب العرب" (1/ 191) اور "الاستیعاب" (ص 937)۔ ابن عبدالبر نے میمونہ اور ان کے شوہر کا نسب بیان کرنے میں قتادہ کی غلطی واضح کی ہے اور فرمایا: ان کا شوہر بنو عامر سے تھا، اور میمونہ تمام علماء کے نزدیک "میمونہ بنت حارث بن حزن" ہیں۔
قلنا: والإسناد إلى قتادة ضعيف لضعف زهير بن العلاء.
⚖️ درجۂ حدیث: ہم کہتے ہیں کہ زہیر بن العلاء کے ضعف کی وجہ سے قتادہ تک یہ سند "ضعیف" ہے۔