المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1061. ذكر الكلابية أو الكندية
سیدہ کلابیہ یا کندیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر
حدیث نمبر: 6981
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغاني، حدثنا محمد بن أسد الحَوْشي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الأوزاعي، قال: سألتُ الزُّهْري: أيُّ أزواج النَّبيّ ﷺ استعاذَتْ منه؟ [فقال: حدثني عُرْوة، عن عائشة: أن ابنة الجَوْن الكِلابيّة لما أدخلت على النَّبيّ ﷺ قالت: أعوذُ بالله منك، قال:"لقد عُذتِ بعظيم، الحَقِي بأهلِكِ] (3) " (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6814 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6814 - حذفه الذهبي من التلخيص
اوزاعی کہتے ہیں: میں نے زہری سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیوی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ مانگی تھی۔ (نعوذ باللہ من ذالک) انہوں نے کہا: عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ” ابی الجون کی بیٹی کے ساتھ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے اور اس کے قریب ہوئے، ان نے کہا ” میں آپ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں “ (نعوذ باللہ من ذالک) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے بہت بڑی پناہ دے دی گئی ہے، تو اپنے ماں باپ کے ہاں چلی جا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6981]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6981 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) ما بين المعقوفين سقط من النسخ الخطية، واستدركناه من "سنن البيهقي" 7/ 39، حيث رواه عن المصنف.
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ [ ] کے درمیان والی عبارت قلمی نسخوں سے ساقط ہے، جسے ہم نے "سنن بیہقی" (7/ 39) سے حاصل کر کے مکمل کیا ہے، کیونکہ انہوں نے اسے مصنف (حاکم) ہی سے روایت کیا ہے۔
(4) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البخاري (5254)، وابن ماجه (2050)، والنسائي (5580)، وابن حبان (4266) من طرق عن الوليد بن مسلم بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج بخاری (5254)، ابن ماجہ (2050)، نسائی (5580) اور ابن حبان (4266) نے ولید بن مسلم کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔