المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1061. ذكر الكلابية أو الكندية
سیدہ کلابیہ یا کندیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر
حدیث نمبر: 6980
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي [حدثنا محمد بن سعد العَوْفي] (5) حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد (ح) . وأخبرنا أحمد بن جعفر الزاهد، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبي، حدثنا يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن مسلم ابن أخي ابن شهاب، عن عمه، عن عُزوة، عن عائشة قالت: تزوّج رسول الله ﷺ الكلابية، فلما دخلت عليه ودنا منها، قالت: إنِّي أعوذُ بالله منك، فقال رسول الله ﷺ (1) :"لقد عُذْتِ بعظيم، الحَقِي بأهلك" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6813 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6813 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلابیہ سے نکاح فرمایا، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے، اور ان کے قریب ہوئے، تو وہ کہنے لگی: میں آپ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں (نعوذ باللہ من ذالک)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں بہت بڑی پناہ مل گئی ہے، تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6980]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6980 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(5) ما بين المعقوفين سقط من نسخنا الخطية، وأحمد بن كامل القاضي لا يروي عن يعقوب بن إبراهيم بن سعد - وهو الزهري - إنما يروي عنه بواسطة محمد بن سعد العوفي كما في أسانيد رواها الدَّارَقُطْنيّ في "سننه"، والبيهقي في كتبه.
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ [ ] کے درمیان والی عبارت ہمارے قلمی نسخوں سے ساقط ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: احمد بن کامل القاضی براہِ راست یعقوب بن ابراہیم بن سعد (زہری) سے روایت نہیں کرتے، بلکہ وہ ان سے "محمد بن سعد العوفی" کے واسطے سے روایت کرتے ہیں، جیسا کہ دارقطنی کی "سنن" اور بیہقی کی کتب کی اسناد میں یہ بات واضح ہے۔
(1) من قوله الكلابية إلى هنا سقط من (ز) و (ب).
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "الکلابیہ" سے لے کر یہاں تک کی عبارت نسخہ (ز) اور (ب) سے ساقط ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد ابن أخي الزهري.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور اس کی سند "حسن" ہے جس کی وجہ راوی "محمد ابن اخی الزہری" (زہری کے بھتیجے) ہیں۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 137 - ومن طريقه الطبري في "تاريخه" 11/ 612 - عن محمد بن عمر الواقدي، عن محمد بن عبد الله الزهري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (10/ 137) میں اور ان کے طریق سے طبری نے اپنی "تاریخ" (11/ 612) میں محمد بن عمر الواقدی سے، انہوں نے محمد بن عبد اللہ الزہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
لكن قال الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 16/ 29 بعد أن عزاه للواقدي: وقوله: الكلابية غَلَطَّ، وإنَّما هي الكِنْديَّة، فكأنما الكلمة تصحفت.
📌 اہم نکتہ: حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (16/ 29) میں اس روایت کو واقدی کی طرف منسوب کرنے کے بعد فرمایا: "راوی کا قول 'الکلابیہ' غلط ہے، درست لفظ 'الکِندیہ' (قبیلہ کندہ سے) ہے، گویا کہ لفظ میں تصحیف (نقطوں یا حروف کی غلطی) ہو گئی ہے۔"