🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1076. وَفَاةُ زَيْنَبَ
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی وفات کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7012
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن ابن إسحاق، حدثنا يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه، عن عائشة قالت: لما بعث أهل مكة في فداء أساراهم بعثت زينب بنتُ رسولِ الله ﷺ في فداء أبي العاص بقلادة، وكانت خديجة أدخلتها بها على أبي العاص حين بَنَى عليها، فلما رآها رسول الله ﷺ رَقَّ لها رِقَّةً شديدة، وقال:"إن رأيتُم أن تُطلِقوا لها أسيرها، وتردُّوا عليها الذي لها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6840 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کا فدیہ بھیجا تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر ابوالعاص کے فدیے میں وہ ہار (قلادہ) بھیجا جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں ان کی رخصتی کے وقت دیا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر انتہائی رقت طاری ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ سے) فرمایا: ”اگر تم مناسب سمجھو تو زینب کے قیدی کو رہا کر دو اور اس کا مال (وہ ہار) اسے واپس کر دو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7012]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل ابن إسحاق: وهو محمد بن إسحاق بن يسار. وهو مكرر (4352).» [ترقيم الرساله 7012] [ترقيم الشركة 6933] [ترقيم العلميه 6840]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7012 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل ابن إسحاق: وهو محمد بن إسحاق بن يسار. وهو مكرر (4352).
⚖️ درجۂ حدیث: ابن اسحاق (محمد بن اسحاق بن یسار) کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت نمبر (4352) پر مکرر ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7012 in Urdu