🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1080. ذكر أول من هاجر بعد لوط وإبراهيم
حضرت لوط اور حضرت ابراہیم علیہما السلام کے بعد سب سے پہلے ہجرت کرنے والوں کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7021
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثني سليط بن مسلم العامري، من بني عامر بن لؤي، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن أبيه قال: وحدثني سعد قال: لما أراد عثمان بن عفان الخروج إلى أرض الحبشة، قال له رسول الله ﷺ:"اخرج برقيَّةَ معك" قال:"إخالُ واحدًا منكما يصبِرُ على صاحبه"، ثم أرسل النَّبيّ ﷺ أسماء بنت أبي بكر فقال:"ايتِني بخبرهما"، فرجعت أسماء إلى النَّبيّ ﷺ وعنده أبو بكر فقالت: يا رسول الله، أخرج حمارًا مُوكَفًا فحملها عليه، وأخذ بها نحو البحر، فقال رسول الله ﷺ:"يا أبا بكر، إنهما لأول من هاجر بعد لُوطٍ وإبراهيم" ﵉ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6849 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی جانب ہجرت کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: رقیہ کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ، میں سوچ رہا ہوں کہ تم میں سے کوئی ایک، دوسرے پر صبر کرے گا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کو ان کی خیریت دریافت کرنے کے لئے بھیجا، سیدہ اسماء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب واپس آئیں تو اس وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے اپنا پالان ڈالا ہوا گدھا نکالا اور سیدہ رقیہ کو اس پر سوار کیا اور دریا کی جانب روانہ ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! سیدنا لوط علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بعد یہ پہلے ہجرت کرنے والے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7021]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7021 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف بمرة، محمد بن عمر الواقدي وفيه كلام معروف عند أهل العلم، وشيخه سليط بن مسلم مجهول الحال، انظر "الكامل" لابن عدي 3/ 466، وعبد الرحمن بن إسحاق: هو ابن عبد الله العامري المدني، وأبوه إسحاق بن عبد الله إنما يروي عن سعد بن أبي وقاص بواسطة، وعليه يكون السند منقطعًا، والله أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "سخت ضعیف" (ضعیف بمرۃ) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں محمد بن عمر واقدی ہے جس پر اہل علم کا کلام معروف ہے؛ اس کا شیخ سلیط بن مسلم مجہول الحال ہے (دیکھیے الکامل لابن عدی 3/ 466)؛ اور عبدالرحمن بن اسحاق، یہ ابن عبداللہ عامری مدنی ہے، اور اس کا باپ اسحاق بن عبداللہ سعد بن ابی وقاص سے بالواسطہ روایت کرتا ہے، لہٰذا سند "منقطع" ہے۔ واللہ اعلم۔
ولم نقف عليه من هذا الطريق.
📌 اہم نکتہ: ہمیں یہ حدیث اس طریق سے نہیں مل سکی۔
وفي الباب عن أنس بن مالك عند يعقوب الفسوي في "المعرفة والتاريخ" 3/ 255، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (123) و (2978)، والطبراني في "الكبير" (143)، وفي إسناده بشار بن موسى الخفاف ضعيف، وشيخه الحسن بن زياد البرجمي لم نعرفه.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں انس بن مالکؓ سے یعقوب فسوی "المعرفۃ والتاریخ" 3/ 255، ابن ابی عاصم "الآحاد والمثانی" (123) اور (2978)، اور طبرانی "الکبیر" (143) میں روایات موجود ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ان کی سند میں بشار بن موسیٰ خفاف "ضعیف" ہے اور اس کا شیخ حسن بن زیاد برجمی غیر معروف (جسے ہم نہیں جانتے) ہے۔
وعن ابن عباس عند ابن عدي في "الكامل" 4/ 243، وفي إسناده عبد الله بن داود التمار ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: ابن عباسؓ سے ابن عدی نے "الکامل" 4/ 243 میں روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند میں عبداللہ بن داود تمار "ضعیف" ہے۔
وعن زيد بن ثابت عند الدولابي في "الكنى" (1284)، والطبراني في "الكبير" (4881)، وفيه عثمان بن خالد العثماني متروك.
🧩 متابعات و شواہد: زید بن ثابتؓ سے دولابی نے "الکنی" (1284) اور طبرانی نے "الکبیر" (4881) میں روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں عثمان بن خالد عثمانی "متروک" راوی ہے۔