🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1081. ذكر وفاة رقية ودفنها
سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات اور تدفین کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7026
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عُبيد الله (2) المُنادي، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا فليح، عن هلال بن علي بن أسامة، عن أنس بن مالك قال: شَهِدتُ ابنة (3) رسول الله ﷺ وهو جالس على القبر، ورأيتُ عينيه تدمعانِ، فقال:"هل منكم رجلٌ لم يُقارِفِ الليلة (4) ؟" فقال أبو طلحة: أنا يا رسول الله، قال:"فانزِل في قبرها" (5) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6853 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی (سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا) کی تدفین میں شریک تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ قبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص ایسا ہے جس نے گزشتہ رات اپنی بیوی سے ہمبستری نہ کی ہو، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قبر میں اترنے کے لئے فرمایا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7026]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7026 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرّف في النسخ الخطية إلى: عبد الله. وهو محمد بن عبيد الله بن يزيد البغدادي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عبداللہ" ہو گیا تھا، حالانکہ یہ محمد بن عبیداللہ بن یزید بغدادی ہیں۔
(3) رسمت في النسخ: ابنتًا!
📝 نوٹ / توضیح: نسخوں میں یہ لفظ "ابنتًا" (الف کے ساتھ) لکھا گیا ہے!
(4) في (ز) و (ب) هنا زيادة: لمة، وضبب عليها في (ز)، ولم ترد في (م) و (ص).
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ب) میں یہاں لفظ "لمۃ" کا اضافہ ہے، نسخہ (ز) میں اس پر نشان (ضبہ) لگایا گیا ہے (جو اس کے مشکوک یا زائد ہونے کی علامت ہے)، جبکہ نسخہ (م) اور (ص) میں یہ لفظ موجود نہیں ہے۔
(5) إسناده حسن من أجل فليح وهو ابن سليمان بن أبي المغيرة أبو يحيى المدني - وباقي رجاله ثقات.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند فلیح کی وجہ سے "حسن" ہے۔ فلیح سے مراد ابن سلیمان بن ابی مغیرہ ابو یحییٰ مدنی ہیں، اور باقی رجال "ثقہ" ہیں۔
وأخرجه أحمد 21 / (13383) عن يونس بن محمد، بهذا الإسناد.
🧾 تفصیلِ روایت: اسے امام احمد نے 21/ (13383) میں یونس بن محمد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 19/ (12275) و 21 / (13383)، والبخاري (1285) و (1342) من طرق عن فليح بن سليمان، به فاستدراك الحاكم له ذهول منه.
🧾 تفصیلِ روایت: اسے احمد نے 19/ (12275) اور 21/ (13383) میں، اور بخاری نے (1285) اور (1342) میں فلیح بن سلیمان کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لہٰذا حاکم کا اسے (مستدرک میں لانا اور بخاری و مسلم پر) استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے۔