🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1089. ذكر أروى بنت عبد المطلب عمة رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم -
رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی سیدہ اروٰی بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7040
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد (1) بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن صفيَّةَ بنتِ عبد المطلب - قال عُرْوة: وسمعتها تقول: أنا أول امرأة قتلت رجلًا - كنتُ في فارع حصن حسانَ بن ثابت، وكان حسانُ معنا في النساء والصبيان حين خندق النَّبيُّ ﷺ، قالت صفية: فمرَّ بنا رجلٌ من يهود، فجعل يُطيفُ بالحصن، فقلتُ لحسان: إنَّ هذا اليهودي بالحِصن كما تَرَى، ولا آمنه أن يدلّ على عورتنا، وقد شُغِلَ عَنَّا رسول الله ﷺ وأصحابه، فقُمْ إليه فاقتله، فقال: يَغْفِرُ الله لكِ يا بنت عبد المطلب، والله لقد عرفتِ ما أنا بصاحب هذا، قالت صفيَّةُ: فلما قال ذلك ولم أرَ عنده شيئًا، احتجزتُ وأخذتُ عمودًا من الحصن، ثم نزلتُ من الحصن إليه، فضربته بالعمود حتى قتلته، ثم رجعتُ إلى الحصن، فقلتُ: يا حسان، انزل فاستَلِبْه، فإنه لم يمنعني أن أسلُبَه (1) إلَّا أنه رجلٌ، فقال: ما لي بسَلَبه من حاجةٍ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. ذكرُ أَرْوى بنتِ عبد المطلب عمة رسول الله ﷺ ولم أجد إسلامها إِلَّا في كتاب أبي عبد الله الواقدي (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6867 - عروة لم يدرك صفية
عروہ فرماتے ہیں: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں وہ سب سے پہلی عورت ہوں، جس نے کسی مرد کو قتل کیا، میں حسان بن ثابت کے فارع قلعہ میں تھی، جنگ خندق کے موقع پر سیدنا حسان بھی عورتوں اور بچوں کے ہمراہ قلعے میں تھے، سیدہ صفیہ فرماتی ہیں: ہمارے پاس سے ایک یہودی شخص گزرا، اور وہ قلعے کے اردگرد گھومنے لگ گیا، میں نے حسان سے کہا، آپ دیکھ رہے ہو، یہ یہودی قلعے کے گرد گھوم رہا ہے، مجھے خدشہ ہے کہ یہ شخص ہم عورتوں کی مخبری کر دے گا، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ میں مصروف ہیں، تم اٹھو اور اس کو قتل کر ڈالو، سیدنا حسان نے کہا: اے عبدالمطلب کی بیٹی! اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے، اللہ کی قسم! آپ تو جانتی ہیں کہ میں اتنی جرأت نہیں رکھتا ہوں، سیدہ صفیہ فرماتی ہیں: جب حسان نے یہ بات کہی اور مجھے اس کے پاس کوئی ہتھیار بھی نظر نہ آیا، میں نے قلعہ کا ایک ستون اٹھا لیا، پھر میں قلعے سے نیچے اتری اور وہی ستون اس کو دے مارا اور اس یہودی کو قتل کر دیا، پھر میں قلعے میں واپس آئی، میں نے کہا: اے حسان! نیچے اترو اور اس کا سازوسامان اتار لو، کیونکہ میں عورت ذات ہو کر اس مرد کا سامان اتاروں، یہ اچھا نہیں لگتا، سیدنا حسان نے کہا: مجھے اس کے سامان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7040]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7040 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ إلى: محمد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "محمد" ہو گیا ہے۔
(1) في (ز): أستلبه.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں لفظ "أستلبه" (میں اس کا سامان چھین لوں) مروی ہے۔
(2) حسن لغيره، ورجاله لا بأس بهم، لكن تصريح عروة وهو ابن الزبير - بسماعه من صفية وهم، ربما كان من يونس بن بكير، فيونس فيه كلام، وقد رواه غيره فلم يذكر التصريح بالسماع، وقال الذهبي في "التلخيص": عروة لم يدرك صفية، وقال في "السير" 2/ 271: توفيت صفية في سنة عشرين. قلنا: وعروة وُلد بعد بثلاث سنين أو أكثر.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "حسن لغیرہ" ہے اور اس کے رجال میں حرج نہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عروہ بن زبیر کا صفیہؓ سے سماع کی تصریح کرنا "وہم" ہے، غالباً یہ وہم یونس بن بکیر کی طرف سے ہوا کیونکہ یونس کے بارے میں کلام ہے، جبکہ دیگر راویوں نے سماع کی تصریح نہیں کی۔ 📌 اہم نکتہ: ذہبی نے "التلخیص" میں کہا: عروہ نے صفیہؓ کو نہیں پایا۔ "السیر" 2/ 271 میں ہے کہ صفیہؓ کی وفات 20ھ میں ہوئی، جبکہ عروہ اس کے تین یا اس سے بھی زیادہ سال بعد پیدا ہوئے (لہٰذا انقطاع واضح ہے)۔
وأخرجه البيهقي في "السنن" 6/ 308، وفي "الدلائل" 3/ 443 عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد. وقرن بالحاكم في "الدلائل" أحمد بن الحسن القاضي، ولم يسق لفظه. وقال: وزاد فيه: هي أول امرأة قتلت رجلًا من المشركين.
🧾 تفصیلِ روایت: بیہقی نے "السنن" 6/ 308 اور "الدلائل" 3/ 443 میں ابوعبداللہ حاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ "الدلائل" میں حاکم کے ساتھ احمد بن حسن قاضی کو بھی ملایا گیا ہے، مگر ان کے الفاظ نقل نہیں کیے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس میں یہ اضافہ ہے: "یہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے کسی مشرک مرد کو قتل کیا"۔
وأخرجه ابن سعد في الطبقات" 10/ 41 عن أبي أسامة حماد بن أسامة، والطبراني في "الكبير" 24/ (804) من طريق حماد بن سلمة، كلاهما عن هشام بن عروة، عن أبيه عروة مرسلًا. وإسناده صحيح إلى عروة.
🧾 تفصیلِ روایت: اسے ابن سعد نے "الطبقات" 10/ 41 میں ابو اسامہ حماد بن اسامہ سے، اور طبرانی نے "الکبیر" 24/ (804) میں حماد بن سلمہ سے، دونوں نے ہشام بن عروہ عن ابیہ عروہ کے طریق سے "مرسلًا" روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: عروہ تک اس کی سند "صحیح" ہے۔
ورواه عارم محمد بن الفضل السدوسي - عند البخاري في "الكبير" 3/ 29 - عن حماد بن زيد عن هشام بن عروة معضلًا.
📖 حوالہ / مصدر: عارم محمد بن فضل سدوسی نے اسے امام بخاری کی "الکبیر" 3/ 29 میں حماد بن زید عن ہشام بن عروہ کے طریق سے "معضلًا" روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 12/ 432 من طريق الزبير بن بكار، عن علي بن صالح، عن عبد الله بن مصعب، عن أبيه قال: كان ابن الزبير حدث أنه كان في فارع أُطم حسان بن ثابت مع النساء يوم الخندق ومعهم عمر بن أبي سلمة، ثم ذكر نحوه وإسناده لين، وهو مرسل أيضًا، فمصعب - وهو ابن ثابت بن عبد الله بن الزبير - لم يدرك جده عبد الله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 12/ 432 میں زبیر بن بکار عن علی بن صالح عن عبداللہ بن مصعب عن ابیہ کے طریق سے روایت کیا ہے کہ ابن زبیرؓ بیان کرتے تھے کہ وہ خندق کے دن حسانؓ کے قلعے میں خواتین اور عمر بن ابی سلمہ کے ساتھ تھے... ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "لین" (کمزور) ہے اور یہ بھی "مرسل" ہے، کیونکہ مصعب بن ثابت نے اپنے دادا عبداللہ (بن زبیرؓ) کو نہیں پایا۔
(3) كذا قال المصنف، مع أنه أسند حديثًا برقم (5121) إسناده خير من إسناد الواقدي بإسلام أروى بنت عبد المطلب.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف نے یہاں ایسا کہا ہے، حالانکہ انہوں نے خود حدیث نمبر (5121) میں ارویٰ بنت عبدالمطلبؓ کے اسلام لانے کے بارے میں ایک ایسی سند نقل کی ہے جو واقدی کی سند سے کہیں بہتر ہے۔