المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1091. خطبة النبى إلى أم هانئ وجوابها
نبی کریم ﷺ کی طرف سے سیدہ اُمِّ ہانی رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام اور ان کا جواب
حدیث نمبر: 7045
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: وفيما ذُكر: أنَّ رسول الله ﷺ خَطَب إلى عمه أبي طالب أم هانئ قبل أن يُوحَى إليه، وخطبها معه هبيرة بن أبي وهب، فزوجها هبيرة، فقال له النَّبيُّ ﷺ:"يا عمِّ، زوجت هبيرة وتركتني؟!" فقال: يا ابن أخي، أنا صاهرت إليهم، والكريمُ يُكافئ الكريم، ثم أسلمَتْ ففَرَّق الإسلام بينها وبين هبيرة، فخطبها رسول الله ﷺ إلى نفسها، فقالت: والله إن كنتُ لأحبك في الجاهلية، فكيف في الإسلام؟! (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6871 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6871 - حذفه الذهبي من التلخيص
محمد بن عمر فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول وحی سے پہلے اپنے چچا ابوطالب سے (ان کی بیٹی) ” ام ہانی “ کا رشتہ مانگا، ساتھ ہی ہبیرہ بن ابی وہب نے بھی ابوطالب سے ان کا رشتہ مانگا، ابوطالب نے ہبیرہ کے ساتھ ام ہانی کا نکاح کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: اے عمر! تم نے ہبیرہ کو رشتہ دے دیا اور مجھے چھوڑ دیا؟ ابوطالب نے کہا: اے میرے بھتیجے! میں نے یہ رشتہ ان کے ساتھ قائم کیا ہے اور کریم، کریم کا کفو ہوتا ہے۔ پھر سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا اسلام لے آئیں، اسلام نے اس کے اور ہبیرہ کے درمیان علیحدگی کروا دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اب کی بار ” ام ہانی “ سے نکاح کی بات کی، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں جاہلیت میں بھی میں بھی آپ کو پسند کرتی تھی، تو اسلام میں آپ کو کیسے ناپسند کر سکتی ہوں، لیکن اصل بات یہ ہے کہ میں بچوں والی عورت ہوں، میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے آپ کو کوئی تکلیف ہو۔ (اس کے بعد پوری حدیث بیان کی) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7045]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7045 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) أسند هذا الخبر هشام بن محمد بن السائب الكلبي - كما في "طبقات ابن سعد" 10/ 146 - عن أبيه، عن أبي صالح، عن ابن عباس، وزاد في آخره قالت: ولكني امرأة مُصبَية، وأكره أن يؤذوك، فقال رسول الله: "خير نساء ركبن المطايا نساء قريش، أحناه على ولد في صغره، وأرعاه على زوج في ذاتِ يده" وهشام الكلبي وأبوه متهمان، فلا يفرح بهما.
🧾 تفصیلِ روایت: ہشام بن محمد بن سائب کلبی نے اس خبر کو اپنے والد سے، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے (جیسا کہ طبقات ابن سعد 10/ 146 میں ہے)۔ اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے کہ ام ہانیؓ نے کہا: "لیکن میں صاحبِ اولاد عورت ہوں اور ناپسند کرتی ہوں کہ وہ آپ کو اذیت دیں"۔ 📌 اہم نکتہ: اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: "اونٹوں پر سواری کرنے والی عورتوں میں قریش کی عورتیں بہترین ہیں، جو بچپن میں اپنی اولاد پر بہت مہربان اور اپنے شوہر کے مال و متاع کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: ہشام کلبی اور اس کا باپ دونوں "متہم" ہیں، لہٰذا ان کی روایت سے خوش نہیں ہوا جا سکتا (ناقابلِ اعتبار ہے)۔
وانظر ما بعده.
📖 حوالہ / مصدر: اس کے بعد والا حصہ ملاحظہ کریں۔