🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1094. إن الله تعالى فضل قريشا بسبع خصال
اللہ تعالیٰ نے قریش کو سات خصوصیات کے ذریعے فضیلت عطا فرمائی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7050
أخبرني محمد بن عيسى الرازي التاجر ببغداد، حدثنا علي بن الحسين بن الجنيد، حدثنا المُعافى بن سليمان، حدثنا حكيم بن نافع، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر قال: دخل رسول الله ﷺ على أم هانئ وقِرْبةٌ معلَّقةٌ، فَشَرِبَ قائمًا (1) . وقد رُوي حديث لولد أم هانئ عن آبائهم عنها:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، ان کے ہاں ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پیا۔ (لٹکتے ہوئے مشکیزے سے بیٹھ کر پانی پینا ممکن نہیں ہے اور شاید اس وقت اس کو اتارنے میں دقت تھی) ام ہانی کی اولاد امجاد نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے بھی ان کی حدیث روایت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7050]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7050 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف من أجل حكيم بن نافع.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حکیم بن نافع کی وجہ سے ضعیف ہے۔
ولم نقف عليه بهذا اللفظ عند غير المصنف.
📌 اہم نکتہ: ہمیں ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت مصنف کے علاوہ کہیں اور نہیں ملی۔
وأخرج أحمد 8/ (4601) و (4765) و (4833)، وابن حبان (5243) من طريق يزيد بن عطارد، قال: سألت ابن عمر عن الشرب قائمًا، فقال: قد كنا على عهد رسول الله ﷺ نشرب قيامًا، ونأكل ونحن نسعى. وإسناده ضعيف لجهالة يزيد بن عطارد.
🧾 تفصیلِ روایت: اسے امام احمد اور ابن حبان (5243) نے یزید بن عطارد کے طریق سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابن عمرؓ سے کھڑے ہو کر پانی پینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہﷺ کے عہد میں کھڑے ہو کر پی لیتے تھے اور چلتے ہوئے کھا لیتے تھے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند یزید بن عطارد کے "مجہول" ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه أحمد 10/ (5874)، وابن ماجه (3301)، والترمذي (1880)، وابن حبان (5322) و (5325) من طريق حفص بن غياث عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: كنا نشرب ونحن قيام، ونأكل ونحن نمشي على عهد رسول الله ﷺ. وهذا مع أنَّ رجاله ثقات، إلَّا أنَّ أهل العلم وهموا فيه حفص بن غياث، منهم ابن معين وابن حنبل وابن المديني والبخاري، كما هو مبين في "مسند أحمد".
🧾 تفصیلِ روایت: اسے احمد، ابن ماجہ، ترمذی اور ابن حبان نے حفص بن غیاث عن عبیداللہ بن عمر عن نافع عن ابن عمرؓ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اگرچہ اس کے رجال ثقہ ہیں، لیکن حفص بن غیاث کو اس روایت میں "وہم" ہوا ہے، جس کی نشاندہی یحییٰ بن معین، احمد بن حنبل، علی بن مدینی اور بخاری جیسے کبار ائمہ نے کی ہے (دیکھیے مسند احمد)۔
وحديث الباب قد روي مثله من حديث أنس، ومن حديثه عن أمه أم سليم، وأنه دخل على أم سليم وكلاهما لا يصح، كما هو مبين في "مسند أحمد" (12188) و (27115).
⚖️ درجۂ حدیث: اس باب میں انسؓ اور ان کی والدہ ام سلیمؓ سے بھی روایات مروی ہیں، لیکن وہ دونوں ہی "صحیح نہیں" ہیں جیسا کہ مسند احمد (12188) اور (27115) میں واضح کیا گیا ہے۔
وأصح ما جاء في هذا حديث كبشة بنت ثابت الأنصارية: أنَّ النَّبيّ ﷺ دخل عليها …
📌 اہم نکتہ: اس موضوع پر سب سے صحیح روایت کبشہ بنت ثابت انصاریہؓ کی ہے کہ نبیﷺ ان کے ہاں تشریف لائے (اور کھڑے ہو کر مشکیزے سے پانی پیا)۔
أخرجه أحمد 45/ (27448)، وابن ماجه (3423)، والترمذي، (1892)، وصححه ابن حبان (5318).
📖 حوالہ / مصدر: اس (کبشہؓ والی) روایت کو امام احمد (27448)، ابن ماجہ (3423) اور ترمذی نے نکالا ہے، اور ابن حبان (5318) نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔